بیداریِ شعور اور قوموں کی بے حسی: تاریخ کے دو تلخ سبق
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ایک دردناک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ قوموں کی تقدیر بدلنے والے اکثر وہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں خود وہی قومیں تنہا چھوڑ دیتی ہیں۔ جب کوئی مسیحا کسی پسے ہوئے طبقے کے لیے اپنی جان کی بازی لگاتا ہے، تو وہ طبقہ اکثر اپنی مصلحتوں، خوف اور وقتی مفادات کے ترازو میں اس قربانی کو تولنے لگتا ہے۔ چی گویرا سے لے کر محمد کریم تک، تاریخ کے یہ ابواب ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ “انقلاب” صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ شعور کی بیداری سے آتا ہے۔
چی گویرا اور چرواہے منطق: جب خوف مقصد پر غالب آ جائے
بولیویا کے پہاڑوں میں جب ارنسٹو چی گویرا کو گرفتار کیا گیا، تو دنیا حیران تھی کہ ایک عظیم گوریلا لیڈر، جو گوریلا جنگ کا ماہر تھا، کیسے پکڑا گیا۔ جب انکشاف ہوا کہ ایک مقامی چرواہے نے چند روپوں یا محض خوف کی خاطر اس کی مخبری کی ہے، تو انسانیت کا سر شرم سے جھک گیا۔
اس چرواہے کا یہ جملہ کہ “اس کی جنگ نے میری بکریوں کو ڈرا دیا تھا”، ایک عالمگیر المیے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ جملہ اس پست ذہنی سطح کو ظاہر کرتا ہے جہاں انسان کا “ذاتی سکون” اور اس کے “چند جانور” ملک و قوم کی آزادی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔ چی گویرا اس چرواہے کے حقوق کے لیے لڑ رہا تھا، وہ اسے جاگیردارانہ نظام سے نجات دلانا چاہتا تھا، لیکن چرواہا اپنی غلامی کی زنجیروں سے اس قدر مانوس ہو چکا تھا کہ اسے اپنی آزادی کے لیے لڑنے والا ایک “مخل” (Interrupter) محسوس ہونے لگا۔
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اگر کسی قوم میں یہ شعور ہی پیدا نہ ہو کہ وہ غلام ہے، تو اسے آزاد کروانے کی کوشش کرنے والا اس کی نظر میں نجات دہندہ نہیں بلکہ مجرم قرار پاتا ہے۔
محمد کریم اور تاجروں کی سودے بازی: ضمیر کی قیمت
مصر کی تاریخ میں محمد کریم کا نام شجاعت کی علامت ہے۔ 1798ء میں جب نپولین بوناپارٹ کے فرانسیسی لشکر نے اسکندریہ پر حملہ کیا، تو محمد کریم نے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ چنا۔ نپولین، جو خود ایک زیرک جرنیل تھا، محمد کریم کی بہادری سے اس قدر متاثر ہوا کہ وہ اسے قتل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے ایک موقع دیا: “اپنی جان کی قیمت ادا کرو۔”
محمد کریم کو اپنے لوگوں پر، اپنے تاجروں پر بھروسہ تھا جن کے کاروبار کی حفاظت کے لیے وہ برسرِ پیکار تھا۔ لیکن جب وہ بیڑیاں پہنے بازار پہنچا، تو اسے ایک نئی قسم کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ شکست فوجی نہیں تھی، وہ اخلاقی شکست تھی۔ وہ تاجر جن کے پاس دولت کے ڈھیر تھے، انہوں نے محمد کریم کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اسے اسکندریہ کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
نپولین کا وہ جملہ رہتی دنیا تک کے لیے ایک تازیانہ ہے:
> “میں تمہیں اس لیے قتل نہیں کر رہا کہ تم نے ہم سے جنگ کی، بلکہ اس لیے کہ تم نے اپنی جان ایسے بزدل لوگوں کے لیے قربان کی جن کے لیے تجارت، وطن کی آزادی سے زیادہ قیمتی تھی۔”
>
نپولین نے یہ ثابت کر دیا کہ دشمن بھی اس بہادر کی عزت کرتا ہے جو اصولوں پر لڑے، لیکن وہ اس قوم کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے جو اپنے ہیروز کا سودا کر لے۔
علامہ رشید رضا کا قول: اندھے کے ہاتھ میں چراغ
ان تمام واقعات کا نچوڑ علامہ محمد رشید رضا کے اس قول میں ملتا ہے کہ جاہل قوم کے لیے انقلاب لانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اندھے کے راستے کو روشن کرنے کے لیے اپنے جسم کو آگ لگا دے۔
جب روشنی دیکھنے والی آنکھ ہی موجود نہ ہو، تو چراغ جلانے والے کی قربانی رائیگاں چلی جاتی ہے۔ یہاں “اندھے” سے مراد وہ لوگ ہیں جو ذہنی طور پر مفلوج ہو چکے ہیں، جنہیں اپنی ذلت کا احساس نہیں اور جو نظام کی تبدیلی کے بجائے موجودہ بدحالی میں ہی عافیت تلاش کرتے ہیں۔ جب ایک مصلح اپنی جان جلاتا ہے، تو وہ امید کرتا ہے کہ اس کی روشنی میں قوم اپنا راستہ تلاش کرے گی، مگر جاہل قوم اس روشنی سے فائدہ اٹھانے کے بجائے جلنے والے کے تماشے میں مگن ہو جاتی ہے۔
تاریخ کے اس آئینے میں ہمارا مقام
آج بھی ہم اپنے اردگرد کئی ایسے “چرواہے” دیکھتے ہیں جو اپنے چھوٹے سے ذاتی مفاد کی خاطر بڑے قومی مقاصد کو قربان کر دیتے ہیں۔ آج بھی ہمارے درمیان وہ “تاجر” موجود ہیں جو آزادی اور خودداری کے بجائے معاشی غلامی کو ترجیح دیتے ہیں۔
تاریخ ہمیں تین بڑے سبق دیتی ہے:
* قربانی کی قدر: جب تک کوئی قوم اپنے محسنوں کی قدر کرنا نہیں سیکھتی، قدرت اسے دوبارہ کوئی مخلص لیڈر عطا نہیں کرتی۔
* شعور کی اہمیت: سیاسی یا عسکری انقلاب سے پہلے “فکری انقلاب” ضروری ہے۔ جب تک لوگوں کو یہ سمجھ نہ آئے کہ وہ کیوں لڑ رہے ہیں، وہ پہلی مشکل پر اپنے لیڈر کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔
* دشمن کی نظر: دشمن آپ کی طاقت سے خوفزدہ ہو سکتا ہے، لیکن وہ آپ کی بے حسی اور بے وفائی پر آپ کو حقیر سمجھتا ہے۔
نتیجہ
چی گویرا کا لہو ہو یا محمد کریم کی جرأت، یہ سب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ آزادی مفت نہیں ملتی اور نہ ہی یہ صرف ایک لیڈر کی ذمہ داری ہے۔ اگر قوم بیدار نہ ہو، تو مسیحا کی سولی اسے زندگی نہیں دے سکتی۔ ہمیں اپنے اندر سے اس “چرواہے” اور اس “مصلحت پسند تاجر” کو نکالنا ہوگا جو ہمارے اندر چھپا بیٹھا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ تاریخ ہمیں بزدلوں کے طور پر یاد نہ رکھے، تو ہمیں اپنے حقوق کے لیے لڑنے والوں کی ڈھال بننا ہوگا، نہ کہ ان کی مخبری کرنے والا دشمن۔ کیونکہ جب چراغ بجھ جاتے ہیں، تو اندھیرا صرف لیڈر کا نہیں، پوری قوم کا مقدر بن جاتا ہے
