ایک دن ایک مشہور قسم کا شرابی نوکری کے لیے انٹرویو دینے پہنچ گیا۔ آنکھیں ذرا سرخ، بال تھوڑے بکھرے ہوئے، مگر اعتماد پورا آسمان پر!
انٹرویو روم میں ایک باوقار سی لڑکی بیٹھی تھی جو بڑے سنجیدہ انداز میں سوالات کر رہی تھی۔
لڑکی نے پہلا سوال کیا:
“کیا آپ شراب پیتے ہو؟”
شرابی نے بڑے سکون سے جواب دیا:
“جی ہاں، پیتا ہوں۔”
لڑکی نے بھنویں اٹھائیں:
“کتنی پیتے ہو؟”
شرابی بولا:
“بس کوئی چھ پیک روزانہ…”
لڑکی نے فوراً کیلکولیٹر نکالا (یا دماغ میں ہی حساب لگا لیا 😏):
“اوہ! چھ پیک؟ اس پر کتنا خرچ آتا ہے؟”
شرابی:
“کوئی ہزار روپیہ روزانہ سمجھ لیں۔”
لڑکی:
“اور کب سے پی رہے ہو؟”
شرابی نے فخر سے کہا:
“کوئی پندرہ سال ہو گئے۔”
لڑکی نے مسکرا کر فاتحانہ انداز میں کہا:
“تو اس حساب سے آپ مہینے کے تیس ہزار اور سال کے تین لاکھ ساٹھ ہزار روپے شراب پر اڑا دیتے ہو۔ اور پندرہ سال میں تقریباً چون لاکھ روپے! کیا آپ جانتے ہو چون لاکھ میں آپ ایک BMW خرید سکتے تھے؟”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
شرابی نے لڑکی کو اوپر سے نیچے تک دیکھا… اور بڑے اطمینان سے پوچھا:
“آپ بھی پیتی ہیں؟”
لڑکی نے قدرے فخر سے کہا:
“نہیں! میں نے تو کبھی ہاتھ بھی نہیں لگایا۔”
شرابی نے کرسی سیدھی کی، مسکرایا اور بولا:
“اچھا؟ پھر ذرا اپنی BMW دکھائیں… کہاں کھڑی ہے؟” 😎🤣🤣🤣🤣🤣
منقول
