بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

محبت کی آخری پناہ گاہ
شہر کی سب سے اونچی عمارت کی چھت پر رات کے اندھیرے میں ایک سایہ لرز رہا تھا۔ یہ اسلم تھا، جس کی آنکھیں سرخ تھیں اور بال بکھرے ہوئے تھے۔ نیچے سڑک پر لوگوں کا ہجوم جمع ہو چکا تھا۔ ہر کوئی اپنی گردن اوپر اٹھائے سانس روکے کھڑا تھا۔
اسلم نیچے آ جاؤ بھائی، زندگی بہت قیمتی ہے! اس کا بہترین دوست ساجد نیچے سے گلا پھاڑ کر چلا رہا تھا۔
نہیں ساجد! اب کچھ نہیں بچا، سب ختم ہو گیا ہے! اسلم نے ایک دردناک چیخ ماری اور اپنا ہاتھ فضا میں لہرایا۔ مجمع میں موجود خواتین نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیں۔ ایک بزرگ تو وہیں بیٹھ کر تسبیح پڑھنے لگے کہ یا اللہ اس نوجوان کو ہدایت دے۔
اسی دوران پولیس کی گاڑی سائرن بجاتی ہوئی پہنچی۔ انسپکٹر نے میگا فون اٹھایا اور گرج کر بولا: دیکھو نوجوان! جذباتی ہونا چھوڑو، تمہارے ماں باپ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ لڑکی تمہاری قسمت میں نہیں تھی تو کوئی اور سہی، خودکشی حل نہیں ہے!
اسلم نے ایک قدم اور منڈیر کی طرف بڑھایا۔ لوگ چیخ اٹھے، نہیں! نہیں!
اسلم نے موبائل فون اپنے کان سے لگایا، آسمان کی طرف دیکھا جیسے آخری بار خدا کو یاد کر رہا ہو، اور پھر ایک زوردار آواز بلند کی: ہیلو! ہیلو! اب آ رہی ہے آواز؟
نیچے کھڑا مجمع اچانک خاموش ہو گیا۔
اسلم وہیں چھت کی منڈیر پر بیٹھ گیا اور نیچے جھانک کر غصے سے چلایا: اوئے ساجد! نیچے کیا مجمع لگا رکھا ہے؟ میں نے تجھے کہا تھا نا کہ نیچے سگنل نہیں آ رہے، میں اوپر چھت پر جا کر کمپنی والوں کو کال کر رہا ہوں کہ میرا نیٹ پیکج کیوں نہیں چل رہا! اور یہ پولیس والے یہاں کیا کر رہے ہیں؟
انسپکٹر نے میگا فون نیچے کیا اور ساجد کی طرف دیکھا۔ ساجد نے شرمندگی سے سر جھکا لیا، سر! وہ اس نے کہا تھا کہ میں اب جا رہا ہوں، اب کبھی نیچے نہیں آؤں گا جب تک میرا کام نہیں ہوتا۔۔۔ تو میں سمجھا شاید۔۔۔
اوپر سے اسلم کی آواز پھر آئی: اور ہاں ساجد! وہ گڈ مارننگ والے پھولوں والی تصویر لوڈ ہو گئی ہے، اب میں نیچے آ رہا ہوں۔ ویسے بھی یہاں مچھر بہت ہیں!
پولیس والے نے اپنا ڈنڈا نکالا اور ساجد کی طرف بڑھا، جبکہ مجمع ایسے منتشر ہوا جیسے کسی نے بم کی افواہ پھیلا دی ہو۔ اسلم سکون سے سیڑھیاں اتر رہا تھا، یہ سوچے بغیر کہ اس کے نیٹ ورک کے چکر میں پورے محلے کا بلڈ پریشر نیٹ ورک فیل ہونے والا تھا۔

Leave a Reply

NZ's Corner