*حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور ایک غلام کا عظیم کردار*
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ جنگل کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک باغ کے پاس سے گزر ہوا۔ اس باغ میں ایک حبشی غلام کام کر رہا تھا۔ اسی دوران اس کے کھانے کے لیے روٹیاں آئیں۔
اتنے میں ایک کتا بھی باغ میں آ گیا اور اس غلام کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ غلام نے کام کرتے کرتے اپنی ایک روٹی اس کتے کے سامنے ڈال دی۔ کتے نے فوراً اسے کھا لیا، لیکن وہ پھر بھی وہیں کھڑا رہا۔
غلام نے دوسری روٹی بھی اس کے سامنے ڈال دی، کتے نے وہ بھی کھا لی۔ اس کے بعد غلام نے تیسری روٹی بھی اسی کتے کو دے دی۔ اس دن اس کے پاس کل تین ہی روٹیاں تھیں اور اس نے تینوں اس کتے کو کھلا دیں۔
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ یہ سارا منظر خاموشی سے کھڑے دیکھتے رہے۔ جب روٹیاں ختم ہو گئیں تو آپ نے غلام سے پوچھا:
“تمہیں روزانہ کتنی روٹیاں ملا کرتی ہیں؟”
غلام نے عرض کیا:
“حضرت! آپ نے خود دیکھ لیا، مجھے روزانہ صرف تین روٹیاں ہی ملتی ہیں۔”
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“پھر تم نے اپنی ساری روٹیاں اس کتے کو کیوں دے دیں؟”
غلام نے نہایت سادگی سے جواب دیا:
“حضرت! یہاں عام طور پر کتے نہیں ہوتے۔ یہ بےچارہ شاید دور سے بھوکا سفر کر کے آیا ہے، اس لیے مجھے مناسب نہ لگا کہ اسے بھوکا واپس کر دوں۔”
حضرت نے پوچھا:
“پھر تم آج کیا کھاؤ گے؟”
غلام نے مسکرا کر کہا:
“کوئی بات نہیں، آج ایک دن فاقہ کر لوں گا۔”
یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ انہوں نے دل میں سوچا کہ لوگ مجھے سخاوت کی وجہ سے ملامت کرتے ہیں، لیکن یہ غلام تو مجھ سے بھی زیادہ سخی ہے۔
چنانچہ آپ فوراً شہر واپس گئے اور اس باغ کو اس کے مالک سے خرید لیا۔ پھر اس غلام کو بھی خرید کر اللہ کی رضا کے لیے آزاد کر دیا اور وہ پورا باغ اسی غلام کو تحفے میں دے دیا۔
واللہ اعلم بالصواب۔
افسوس کہ آج کے دور میں ہم میں سے بہت سے لوگ یتیموں اور مسکینوں کا حق چھین کر کھانا سیکھ چکے ہیں، جبکہ ہمارے اسلاف نے جانوروں تک پر رحم اور ایثار کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ تاریخ آج بھی ان پر فخر کرتی ہے۔
❓ کیا آپ نے اپنی زندگی میں کسی ایسے سخی انسان کو دیکھا ہے؟
اگر ہاں تو کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
دوستو…!!!
آخر میں ایک چھوٹی سی گزارش ہے۔ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر آپ کو اچھی لگے تو اسے پڑھنے کے بعد اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر بھی ضرور کیا کریں۔ یقین کریں اس میں آپ کا صرف ایک لمحہ لگے گا، لیکن ممکن ہے یہی ایک لمحہ کسی کے لیے ہدایت اور سبق کا سبب بن جائے۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں
