ایک گاؤں میں ایک نہایت غریب کسان اپنی بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔ ان کے پاس نہ زمین تھی نہ دولت، مگر لڑکی بہت عقلمند اور سمجھدار تھی۔ گاؤں کے لوگ اکثر اس کی ذہانت کی تعریف کرتے تھے۔
ایک دن کسان کو راستے میں سونے کا ایک ٹکڑا ملا۔ وہ اسے لے کر خوشی خوشی گھر آیا اور اپنی بیٹی کو دکھایا۔
لڑکی نے فوراً کہا:
“ابا! اگر آپ یہ سونا بادشاہ کے پاس لے جائیں گے تو وہ ضرور پوچھے گا کہ کیا آپ کو اس کے ساتھ کوئی اور چیز بھی ملی تھی۔ اگر آپ نے انکار کیا تو وہ شاید آپ کو جھوٹا سمجھ لے۔ بہتر ہے کہ آپ سونا بادشاہ کو دے دیں اور سچ سچ بات بتا دیں۔”
کسان نے بیٹی کی بات مان لی اور سونا لے کر دربار پہنچ گیا۔
بادشاہ نے سونے کا ٹکڑا دیکھا اور پوچھا:
“کیا تمہیں اس کے ساتھ کوئی اور چیز بھی ملی؟”
کسان نے سچ سچ جواب دیا:
“نہیں حضور، صرف یہی ٹکڑا ملا تھا۔”
بادشاہ کو شک ہوا کہ شاید اس نے کچھ چھپا لیا ہے۔ اس نے غصے میں حکم دیا کہ کسان کو قید میں ڈال دیا جائے۔
کسان نے فوراً کہا:
“حضور! یہ مشورہ تو میری بیٹی نے دیا تھا کہ میں سونا آپ کو دے دوں۔”
بادشاہ کو حیرت ہوئی کہ ایک غریب لڑکی اتنی سمجھدار کیسے ہو سکتی ہے۔ اس نے حکم دیا کہ لڑکی کو دربار میں حاضر کیا جائے۔
جب لڑکی دربار میں آئی تو بادشاہ نے اس کی عقل آزمانے کے لیے ایک عجیب شرط رکھی۔
اس نے کہا:
“اگر تم واقعی عقلمند ہو تو کل میرے پاس اس طرح آؤ کہ نہ مکمل کپڑے پہنے ہو، نہ بالکل ننگی ہو؛ نہ پیدل آؤ اور نہ سواری پر؛ اور نہ دن میں آؤ نہ رات میں۔ اگر تم یہ شرط پوری کر لو تو میں تمہارے باپ کو آزاد کر دوں گا۔”
لڑکی گھر گئی اور پوری رات سوچتی رہی۔
اگلے دن صبح سورج نکلنے سے پہلے وہ محل کی طرف روانہ ہوئی۔ اس نے اپنے جسم پر ایک ماہی گیری کا جال اوڑھ لیا تھا تاکہ وہ نہ مکمل لباس میں ہو نہ ننگی۔
وہ ایک گدھے پر آدھی سوار تھی اور آدھی زمین پر پاؤں رکھے ہوئے تھی، تاکہ وہ نہ مکمل سواری پر ہو نہ پیدل۔
اور وہ صبح کے دھندلکے میں پہنچی، جب نہ مکمل رات ہوتی ہے نہ مکمل دن۔
بادشاہ نے اسے دیکھا تو حیران رہ گیا۔ لڑکی نے اس کی ہر شرط پوری کر دی تھی۔
بادشاہ اس کی ذہانت سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے کسان کو فوراً آزاد کر دیا اور لڑکی کی عقل کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
“حقیقی دولت سونا یا خزانہ نہیں بلکہ عقل اور دانائی ہے۔”
اخلاقی سبق
1. دانائی اور عقل انسان کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
2. مشکل مسئلے بھی سمجھداری سے حل ہو سکتے ہیں۔
3. غربت ذہانت کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
