بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آغازِ اسلام میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے سخت مخالف تھے۔ وہ اسلام کے پھیلنے کو قریش کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ ایک دن قریش کے سرداروں نے ان کے غصے کو ہوا دی اور کہا کہ محمد ﷺ نے ہمارے معبودوں کی توہین کی ہے، ہمارے نوجوانوں کو بہکا دیا ہے، قبیلے میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ تلوار لے کر نکل کھڑے ہوئے کہ آج محمد ﷺ کو ( معاذاللہ) قتل کر دوں گا۔

راستے میں حضرت نعیم بن عبداللہؓ مل گئے۔ انہوں نے پوچھا، “عمر! کس ارادے سے نکلے ہو؟” عمر نے غصے سے کہا، “محمد کو قتل کرنے جا رہا ہوں!” حضرت نعیمؓ نے کہا، “عمر! پہلے اپنے گھر والوں کو دیکھو، تمہاری بہن فاطمہ اور تمہارے بہنوئی سعید بن زید مسلمان ہو چکے ہیں!” یہ سن کر حضرت عمرؓ غصے سے آگ بگولہ ہو گئے اور سیدھے اپنی بہن کے گھر پہنچے۔ اس وقت بہن اور بہنوئی قرآن پڑھ رہے تھے اور حضرت خبابؓ انہیں قرآن سکھا رہے تھے۔ جیسے ہی عمر اندر داخل ہوئے، انہوں نے قرآن کی آواز سنی۔ بہنوئی نے بات چھپانے کی کوشش کی مگر عمرؓ کو یقین ہو گیا کہ یہی قرآن پڑھ رہے تھے۔ غصے میں آ کر عمرؓ نے بہنوئی کو مارنا شروع کر دیا۔

بہن بیچ میں آئیں تو وہ بھی زخمی ہو گئیں۔ بہن کے چہرے سے خون بہتا دیکھ کر عمرؓ کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوا۔ اسی وقت بہن نے مضبوط آواز میں کہا، “ہاں عمر! ہم مسلمان ہوگئے ہیں، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے ہیں، اب چاہے تم ہمیں قتل ہی کیوں نہ کر دو!” بہن کی ہمت اور خون دیکھ کر عمرؓ کے دل میں نرمی پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا، “وہ صحیفہ دو جسے تم پڑھ رہے تھے۔” بہن نے کہا، “عمر! تم ناپاک ہو، اس قرآن کو پاک لوگ ہی چھوتے ہیں، پہلے غسل کرو!” عمرؓ نے فوراً غسل کیا۔ پھر قرآن کا صحیفہ ہاتھ میں لیا اور سورۃ طٰہٰ کی ابتدائی آیات پڑھنا شروع کیں۔

آیات پڑھتے ہی ان کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ ان کی آنکھیں بھر آئیں اور انہوں نے کہا، “کیا خوبصورت کلام ہے! یہ انسان کا نہیں ہو سکتا!” اس وقت حضرت خبابؓ چھپے ہوئے تھے، وہ باہر آئے اور بولے، “عمر! خوش ہو جاؤ! رسول اللہ ﷺ نے دعا کی تھی کہ اے اللہ! اسلام کو عمر یا ابو جہل کے ذریعے قوت عطا فرما۔ اللہ نے تمہیں چن لیا!” حضرت عمرؓ نے کہا، “مجھے فوراً محمد ﷺ کے پاس لے چلو!”

حضرت عمرؓ تلوار ہاتھ میں لیے دارِ ارقم پہنچے۔ مسلمان انہیں دیکھ کر گھبرا گئے، لیکن دروازہ کھول دیا گیا۔ جب حضرت عمرؓ اندر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے آگے بڑھ کر ان کی چادر پکڑی اور فرمایا، “اے عمر! کب تک اللہ کی نافرمانی کرو گے؟ کیا اسلام قبول کرنے کا وقت نہیں آیا؟” یہ الفاظ سنتے ہی عمرؓ کا دل ٹوٹ گیا، ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور انہوں نے کہا، “أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداً رسول الله” یہ سنتے ہی مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سب نے زور سے “اللہ اکبر” کہا۔ اس دن اسلام کو ایک نئی طاقت ملی۔

حضرت عمرؓ نے ایمان لانے کے فوراً بعد کہا، “یا رسول اللہ! اب چھپ کر عبادت کیوں کریں؟ آئیے، باہر چلتے ہیں!” اور اسی دن حضرت عمرؓ نے مسلمانوں کی صف میں شامل ہو کر کھلے عام مکہ میں نماز ادا کی۔ اس دن سے اسلام کی طاقت اور شان پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی، اور حضرت عمرؓ کے اسلام نے مسلمانوں دلوں میں نئی ہمت اور جرات پیدا کر دی۔
واللہ اعلم بالصواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوستو….!!! چلتے چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو دوستو ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں بہت شکریہ۔❤️
Golden pages of History
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

تاریخ الطبری — ابتدائی اسلامی تاریخ میں ذکر۔سیر اعلام
النبلاء از امام ذہبی — حضرت عمرؓ کی سوانح میں تفصیل۔
#حضرت_عمر_فاروق


Leave a Reply

NZ's Corner