دوستو! آج آپ کے لیے ایک سبق آموز واقعہ پیش ہے جو ہمیں ایمان، قربانی اور صبر کا عملی درس دیتا ہے۔
عسفان اور مکہ کے درمیان ایک مقام ہے جسے ’’رجیع‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں کی زمین سات مقدس صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے خون سے رنگین ہوئی، اسی لیے یہ واقعہ تاریخ میں ’’سریۂ رجیع‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ دردناک سانحہ ہجری چہارم میں پیش آیا۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ قبیلہ عضل و قارہ کے کچھ لوگ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ان کے قبیلے کے لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ کچھ صحابہ رضی اﷲ عنہم ان کی قوم کو اسلام کے عقائد و اعمال سکھائیں۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دس صحابہ رضی اﷲ عنہم کو حضرت عاصم بن ثابت رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں اس مشن پر بھیجا۔
جب یہ مقدس قافلہ مقام رجیع پہنچا تو کفار نے بدعہدی کی۔ قبیلۂ بنو لحیان کے دو سو افراد نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ مسلمان دفاع کے لیے ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گئے، جہاں سے انہوں نے کافروں پر سنگ باری کی۔ کفار نے سمجھا کہ ہتھیاروں سے مسلمانوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا انہوں نے دھوکہ دیا اور امان کی آفر کی۔ لیکن حضرت عاصم بن ثابت رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ وہ کسی کافر کی پناہ میں نہیں آئیں گے، اور دعا کے بعد اپنے ساتھیوں کے ساتھ ٹیلے سے اتر کر جانثارانہ جنگ میں شہید ہو گئے۔
حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی خبر سن کر کفار مکہ نے ان کے بدن کے کسی حصے کی شناخت کے لیے مقام رجیع بھیجا، لیکن وہاں لاکھوں شہد کی مکھیوں نے ان کی لاش کو ایسے گھیرا کہ کفار ناکام واپس چلے گئے۔
باقی تین صحابہ—حضرت خبیب، حضرت زید بن دثنہ اور حضرت عبداﷲ بن طارق رضی اﷲ عنہم—نیچے اتر گئے لیکن کفار کی بدعہدی کا شکار ہو گئے۔ حضرت عبداﷲ بن طارق رضی اﷲ عنہ نے بھی جنگ میں شہادت کو پسند کیا اور کفار سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
حضرت خبیب اور حضرت زید بن دثنہ رضی اﷲ عنہم کو قیدی بنایا گیا۔ حضرت خبیب رضی اﷲ عنہ کو قید کے بعد حدودِ حرم سے باہر لے جا کر سولی پر چڑھا کر قتل کیا گیا۔ آپ نے قاتلوں سے اجازت لے کر اپنی آخری نماز دو رکعت مختصر طور پر ادا کی اور فرمایا:
’’جب میں مسلمان ہو کر قتل ہو رہا ہوں تو مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ کس پہلو پر قتل کیا جاؤں، یہ سب کچھ اللہ کے لیے ہے۔ اگر وہ چاہے تو میرے کٹے ٹکڑوں پر برکت بھی نازل فرمائے گا۔‘‘
قاتلوں میں شامل حارث بن عامر کے بیٹے بعد میں مشرف بہ اسلام ہو کر صحابیت کے شرف سے سرفراز ہوئے۔
یہ واقعہ ہمیں سچائی، ایمان، قربانی اور اللہ کی رضا کے لیے استقامت کا عملی درس دیتا ہے۔
دوستو! اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی تو مطالعہ کے بعد اپنے دوستوں سے بھی شئیر کریں اور مجھے فالو ضرور کریں۔ ❤️
#Sahaba #IslamicHistory #Martyrdom #Faith #IslamicTeachings #Spirituality #Inspiration #IslamicQuotes #HadithOfTheDay #QuranVerses #IslamicReminders #ProphetMuhammad #Sahaba #IslamicStories #History #Prophecy #IslamicProphets #Faith #IslamicTeachings #Spirituality #Inspiration
