بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

کُتا یا بکرا۔۔۔🤔
پرانے وقتوں میں، لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا۔ اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے۔
انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ کچھ یوں ہے:

ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور چالاکی سے اسے لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔
چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ دیہاتی تھوڑا آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ آیا اور بولا:
“بھائی، یہ کتا کہاں لے کر جا رہے ہو؟”

دیہاتی نے گھور کر کہا:
“بیوقوف، تمہیں نظر نہیں آ رہا یہ بکرا ہے، کتا نہیں!”

دیہاتی کچھ اور آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا اور بولا:
“یار، یہ کتا تو بڑا شاندار ہے! کتنے کا خریدا؟”

دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا اور تیز قدموں سے گھر کی جانب بڑھنے لگا۔ مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں بیٹھا تھا اور پروگرام کے مطابق بولا:
“جناب، یہ کتا کہاں سے لیا؟”

اب دیہاتی تھوڑا تشویش میں مبتلا ہو گیا کہ کہیں واقعی یہ کتا تو نہیں۔ اسی شش و پنج میں مبتلا، وہ باقی راستہ کاٹنے لگا۔ بالآخر چوتھے ٹھگ سے ٹکراؤ ہوا، جس نے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی اور بولا:
“جناب، کیا اس کتے کو گھاس کھلاؤ گے؟”

اب دیہاتی کے اوسان خطا ہو گئے اور اس کا شک یقین میں بدل گیا کہ یہ واقعی کتا ہے۔ وہ بکرے کو چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ یوں، چاروں ٹھگوں نے بکرا ٹھگ لیا۔

ہمارا معاشرہ بھی اسی قسم کے نئے ٹھگوں کی یلغار میں ہے۔ یہ ٹھگ دراصل ہمارے ایمان کے ٹھگ ہیں۔
یہ نہیں چاہتے کہ لوگ سچائی کی راہ پر چلیں۔ یہ ایمانداری کے خلاف دلیلیں دیتے ہیں تاکہ ایک ایماندار شخص مصلحت پسندی کا شکار ہو جائے۔ یہ ناجائز منافع خوری کو حق ثابت کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس قبیح فعل پر مجبور کرتے ہیں۔

یہ عبادات کو رسومات اور رسومات کو عبادات بنا کر لوگوں کو خدا سے دور کرتے ہیں۔

یہ ناجائز تعلقات کو عشق اور چاہت کا لبادہ اوڑھا کر خاندانی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

یہ ہوس کو محبت کا نام دے کر نوجوان نسل کو گمراہ کرتے ہیں۔

یہ مذہب کو کلچر سے تعبیر دے کر لوگوں کو اس سے متنفر کرتے ہیں۔

یہ جدید دنیا کے ماڈرن شیطان ہیں۔ یہ ہمارے پاس اپنی قبیح شکل میں نہیں آتے، بلکہ سوٹ بوٹ میں ملبوس ہو کر ہمدرد بن کر کارروائی کرتے ہیں۔

اس صورتحال سے بچنے کے لیے ایک صالح مومن کو دو تدابیر اختیار کرنی ہیں:

حق اور باطل کے معیار کو عوام کی رائے سے نہیں، بلکہ وحی اور مسلمہ اخلاقی اصولوں سے اخذ کرے۔

ان شیطانوں کو پہچانے اور ان کی باتوں کو اہمیت نہ دے، ورنہ اس کا حشر بھی اسی دیہاتی کی طرح ہوگا، جو بکرے کو کتا سمجھ بیٹھا تھا۔

پوسٹ اچھی لگے تو شیئر ضرور کیجئے۔



Leave a Reply

NZ's Corner