ایک دفعہ کی بات ہے۔ دیہات میں ایک چوہا رہتا تھا۔ وہ ایک پرانے درخت کے نیچے اپنے بل میں رہتا تھا۔ اس کے پاس کھانے کو اناج تھا، جڑی بوٹیاں تھیں، اور کبھی کبھی کسان کے کھیت سے گری ہوئی فصل مل جاتی تھی۔ اس کی زندگی سادہ تھی، لیکن وہ مطمئن تھا۔
شہر میں اس کا ایک دوست رہتا تھا شہر کا چوہا۔ وہ ایک بڑے گھر میں رہتا تھا، جہاں ہر روز دعوتیں ہوتی تھیں، میز پر طرح طرح کے کھانے سجے ہوتے تھے۔
ایک دن شہر کا چوہا دیہات میں اپنے دوست سے ملنے آیا۔ دیہاتی چوہا بہت خوش ہوا۔ اس نے اپنے دوست کی خاطر مدارت کی اناج کے دانے نکالے، کھیت سے تازہ جڑی بوٹیاں لایا، بلوط کے پھل رکھے۔
شہر کے چوہے نے کھانا کھایا، لیکن اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ اس نے کہا: “دوست! تم یہاں کیسے رہتے ہو؟ یہ کھانا کیا ہے؟ اناج، جڑی بوٹیاں، بلوط کے پھل یہ تو جانوروں کا کھانا ہے۔ تم نے کبھی شہر کا کھانا نہیں کھایا؟”
دیہاتی چوہے نے کہا: “نہیں، میں نے کبھی شہر نہیں دیکھا۔”
شہر کا چوہا بولا: “چلو میرے ساتھ شہر چلو۔ میں تمہیں دکھاؤں گا کہ زندگی کیسی ہوتی ہے۔ وہاں پنیر ہوتا ہے، مٹھائیاں ہوتی ہیں، تازہ پھل ہوتے ہیں، شہد ہوتا ہے۔ تمہیں یہاں رہنے کی ضرورت نہیں۔”
دیہاتی چوہا شہر کے چوہے کے ساتھ شہر چلا گیا۔
وہ ایک بہت بڑے گھر میں پہنچے۔ شہر کا چوہا اسے کھانے کے کمرے میں لے گیا۔ وہاں میز پر طرح طرح کے کھانے سجے تھے — پنیر کے ٹکڑے، شہد کے برتن، مٹھائیاں، انگور، انجیر، بادام۔ دیہاتی چوہے نے یہ سب کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔
وہ دونوں کھانا کھانے لگے۔ دیہاتی چوہا بہت خوش تھا۔ اس نے سوچا: “میرا دوست سچ کہتا تھا۔ یہاں کی زندگی بہت خوبصورت ہے۔”
لیکن اچانک دروازہ کھلا — ایک بڑی بلی کمرے میں داخل ہوئی۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں، اس کے پنجے تیز تھے، اس کی مونچھیں کھڑی تھیں۔
“بھاگو!” شہر کے چوہے نے چلایا۔
دونوں چوہے بھاگے۔ وہ دیوار کے سوراخ میں جا چھپے۔ دیہاتی چوہا کانپ رہا تھا، اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد وہ پھر باہر نکلے۔ انہوں نے پھر کھانا شروع کیا۔ لیکن اس بار نوکر آیا — اس کے ہاتھ میں جھاڑو تھا۔ اس نے جھاڑو اٹھائی اور چوہوں کو بھگانے لگا۔
وہ پھر بھاگے۔ پھر واپس آئے۔ اس بار کتے نے ان کا پیچھا کیا۔
ہر بار جب وہ کھانا شروع کرتے، کوئی نہ کوئی آ جاتا بلی، نوکر، کتا، یا مالک خود۔
شام ہوتے ہوتے دیہاتی چوہا تھک چکا تھا۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا، اس کی آنکھیں ڈر سے پھیلی ہوئی تھیں۔ اس نے اپنے دوست سے کہا: “دوست! میں واپس جا رہا ہوں۔”
شہر کے چوہے نے کہا: “لیکن ابھی تو رات ہوئی ہے۔ رات میں کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ رات کو سب سوتے ہیں۔”
دیہاتی چوہا بولا: “شہر کی رات بھی شہر کی رات ہوتی ہے۔ بلی رات کو بھی جاگتی ہے، کتے رات کو بھی سنتے ہیں، نوکر رات کو بھی آ سکتے ہیں۔ میں یہاں ہر وقت ڈرتا رہوں گا۔”
شہر کے چوہے نے کہا: “لیکن کھانا تو دیکھو پنیر، شہد، مٹھائیاں…”
دیہاتی چوہا مسکرایا۔ “تمہارا کھانا بہت اچھا ہے۔ لیکن اس کھانے کے ساتھ ڈر بھی ہے۔ میرے گاؤں میں اناج ہے، جڑی بوٹیاں ہیں، بلوط کے پھل ہیں لیکن وہاں ڈر نہیں ہے۔ میں بھوکا رہ سکتا ہوں، لیکن ڈر کر نہیں رہ سکتا۔”
وہ دیہات واپس آ گیا۔ وہ پھر سے اپنے پرانے بل میں رہنے لگا۔ وہ اناج کھاتا، جڑی بوٹیاں کھاتا، بلوط کے پھل کھاتا اور سکون سے رہتا۔
شہر کا چوہا کبھی کبھی اس سے ملنے آتا۔ وہ آ کر کہتا: “تم شہر کیوں نہیں آتے؟ وہاں پنیر ہے، شہد ہے، مٹھائیاں ہیں…”
دیہاتی چوہا کہتا: “میرے پاس اناج ہے، جڑی بوٹیاں ہیں، اور سب سے بڑھ کر — میری جان ہے۔ شہر کا پنیر اس کے قابل نہیں کہ میں ہر وقت ڈرتا رہوں۔”
اخلاقی سبق:
یہ کہانی ہمیں دو بڑے سبق دیتی ہے:
- سادہ زندگی، سکون بھری زندگی دیہاتی چوہے کے پاس عیش و آرام نہیں تھا، لیکن اس کے پاس سکون تھا۔ شہر کے چوہے کے پاس سب کچھ تھا، لیکن اسے ہر وقت ڈر لگتا تھا۔
- ہر چیز کی قیمت ہوتی ہے شہر کی عیش و عشرت کی قیمت مسلسل ڈر اور خطرہ ہے۔ گاؤں کی سادگی کی قیمت کچھ نہیں، صرف قناعت۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جو ملے اس میں خوش رہنا سب سے بڑی دولت ہے۔ بہت سے لوگ شہر کی چمک دمک میں ڈر کر جیتے ہیں، اور بہت سے لوگ گاؤں کی سادگی میں سکون سے جیتے ہیں۔
حوالہ:
یہ کہانی ایسپ (Aesop) کی مشہور کہانیوں میں سے ہے۔ اس کا عنوان “The Town Mouse and the Country Mouse” (شہر کا چوہا اور دیہات کا چوہا) ہے۔
ایسپ نے یہ کہانی 600 قبل مسیح کے لگ بھگ لکھی۔ یہ کہانی سادگی، قناعت، اور سکون کی قدر بتاتی ہے۔
اس کہانی کو صدیوں سے بچوں کو یہ سبق سکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے کہ کم میں بھی زیادہ ہو سکتا ہے، اگر اس میں سکون ہو۔
