بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

اٹلی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں لوگوں نے ایک بہت اونچا مینار بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ مینار اتنا اونچا ہو گا کہ پورے علاقے میں سب سے اونچا ہو گا۔

شہر کے بڑھئی، معمار، سنگ تراش، سب جمع ہوئے۔ انہوں نے نقشہ بنایا، پتھر تراشے، مٹی گوندھی، اور کام شروع کر دیا۔

پہلے مہینے میں مینار کی بنیاد بنی۔ بنیاد بہت مضبوط تھی، پتھر بہت بڑے تھے۔

دوسرے مہینے میں دیواریں اٹھنے لگیں۔

تیسرے مہینے میں مینار اتنا اونچا ہو گیا کہ لوگوں کو سیڑھیاں لگانی پڑیں۔

چوتھے مہینے میں مینار اتنا اونچا ہو گیا کہ لوگوں کو رسیاں باندھنی پڑیں۔

پانچویں مہینے میں مینار اتنا اونچا ہو گیا کہ نیچے سے اوپر نظر نہیں آتا تھا۔

لیکن جیسے جیسے مینار اونچا ہوتا گیا، لوگوں میں جھگڑے شروع ہو گئے۔

پتھر تراشنے والے کہنے لگے: “یہ مینار ہماری محنت سے بن رہا ہے۔ ہم سب سے اہم ہیں۔”

بڑھئی کہنے لگے: “پتھر تو بے جان ہیں۔ ہم انہیں جوڑتے ہیں، انہیں شکل دیتے ہیں۔ ہم سب سے اہم ہیں۔”

معمار کہنے لگے: “تم سب صرف مزدور ہو۔ ہم ڈیزائن بناتے ہیں، ہم نقشہ بناتے ہیں۔ ہم سب سے اہم ہیں۔”

مزدور کہنے لگے: “ہم دن رات محنت کرتے ہیں، پسینہ بہاتے ہیں۔ ہم سب سے اہم ہیں۔”

سب اپنی اپنی تعریف کرنے لگے۔ کسی نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ پتھر تراشنے والے نے کہا: “میں اس وقت تک پتھر نہیں تراشوں گا جب تک میری تعریف نہ کی جائے۔”

بڑھئی نے کہا: “میں اس وقت تک لکڑی نہیں لگاؤں گا جب تک میری تعریف نہ کی جائے۔”

معمار نے کہا: “میں اس وقت تک نقشہ نہیں بناؤں گا جب تک میری تعریف نہ کی جائے۔”

مزدور نے کہا: “میں اس وقت تک پتھر نہیں اٹھاؤں گا جب تک میری تعریف نہ کی جائے۔”

کام رک گیا۔ مینار ادھورا رہ گیا۔

کئی مہینے گزر گئے۔ مینار ویسا کا ویسا کھڑا تھا۔ بارش آئی، دیواریں گیلی ہو گئیں۔ سردی آئی، پتھر پھٹنے لگے۔ ہوا چلی، مینار ہلنے لگا۔

لوگوں نے دیکھا کہ مینار گرنے لگا ہے۔ وہ ڈر گئے۔

وہ سب معمار کے پاس گئے۔ “معمار صاحب! مینار گر رہا ہے۔ کوئی کام کریں۔”

معمار نے کہا: “میں اس وقت تک نقشہ نہیں بناؤں گا جب تک میری تعریف نہ کی جائے۔”

وہ بڑھئی کے پاس گئے۔ “بڑھئی! مینار گر رہا ہے۔”

بڑھئی نے کہا: “میں اس وقت تک لکڑی نہیں لگاؤں گا جب تک میری تعریف نہ کی جائے۔”

وہ پتھر تراشنے والے کے پاس گئے۔ “مینار گر رہا ہے!”

پتھر تراشنے والے نے کہا: “میں اس وقت تک پتھر نہیں تراشوں گا جب تک میری تعریف نہ کی جائے۔”

وہ مزدور کے پاس گئے۔ “مینار گر رہا ہے!”

مزدور نے کہا: “میں اس وقت تک پتھر نہیں اٹھاؤں گا جب تک میری تعریف نہ کی جائے۔”

کوئی نہ مانا۔

ایک دن ایک بوڑھا آدمی وہاں سے گزرا۔ اس نے دیکھا کہ مینار گرنے کو ہے اور لوگ جھگڑ رہے ہیں۔

اس نے لوگوں سے کہا: “تم کیا کر رہے ہو؟ مینار گر رہا ہے اور تم تعریف کے لیے لڑ رہے ہو؟”

لوگوں نے کہا: “ہم سب سے اہم ہیں۔ ہماری تعریف کیے بغیر کام نہیں کریں گے۔”

بوڑھے نے کہا: “تم میں سے کوئی سب سے اہم نہیں ہے۔

پتھر تراشنے والے! بغیر پتھر کے مینار نہیں بن سکتا۔

بڑھئی! بغیر لکڑی کے مینار نہیں بن سکتا۔

معمار! بغیر نقشہ کے مینار نہیں بن سکتا۔

مزدور! بغیر محنت کے مینار نہیں بن سکتا۔

تم سب برابر ہو۔ سب کی ضرورت ہے۔ اگر ایک بھی نہ ہو گا تو مینار گر جائے گا۔”

لوگ خاموش ہو گئے۔

بوڑھے نے کہا: “اب جاؤ، کام کرو۔ تعریف بعد میں آئے گی۔ اگر مینار گر گیا تو تعریف کس کی ہو گی؟”

لوگوں نے کام شروع کر دیا۔ پتھر تراشنے والے نے پتھر تراشے، بڑھئی نے لکڑی لگائی، معمار نے نقشہ بنایا، مزدور نے پتھر اٹھائے۔

کچھ ہی مہینوں میں مینار تیار ہو گیا۔ وہ اتنا اونچا تھا کہ پورے علاقے میں سب سے اونچا تھا۔

لوگ مینار کے نیچے جمع ہوئے۔ انہوں نے دیکھا  مینار کھڑا تھا، مضبوط تھا، خوبصورت تھا۔

کسی نے پوچھا: “اب بتاؤ، سب سے اہم کون تھا؟”

سب خاموش ہو گئے۔ پھر سب ہنس پڑے۔

معمار نے کہا: “سب اہم تھے۔”

بڑھئی نے کہا: “ہاں، سب۔”

پتھر تراشنے والے نے کہا: “اگر میں پتھر نہ تراشتا تو مینار نہ بنتا۔”

مزدور نے کہا: “اگر میں پتھر نہ اٹھاتا تو مینار نہ بنتا۔”

بوڑھے نے کہا: “تم نے سیکھ لیا۔ مینار ایک سے نہیں بنتا۔ مینار سب سے بنتا ہے۔”

اخلاقی سبق:

یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ اتحاد اور تعاون ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

· ہر شخص اپنے آپ کو سب سے اہم سمجھتا تھا۔
· جھگڑے کی وجہ سے کام رک گیا، مینار گرنے لگا۔
· جب سب نے مل کر کام کیا تو مینار تیار ہو گیا۔

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ کام میں سب کی اہمیت ہوتی ہے۔ کوئی چھوٹا نہیں ہوتا، کوئی بڑا نہیں ہوتا۔ سب مل کر کام کریں تو بڑے سے بڑا کام بھی ممکن ہے۔

حوالہ:

یہ کہانی اطالوی لوک کہانیوں میں سے ہے۔ اٹلی میں قرون وسطیٰ میں بہت سے شہروں نے اونچے مینار اور گرجا گھر بنائے۔ یہ کہانی ان تعمیرات کے دوران مزدوروں، کاریگروں اور معماروں کے درمیان تعاون کی اہمیت کو بیان کرتی ہے۔

یہ کہانی ٹیم ورک، عاجزی، اور باہمی احترام کا سبق دیتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner