اطالیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی — خوبصورت بھی اور ذہین بھی۔ جب وہ بچی تھی تو ایک پری نے اسے عقل اور خوبصورتی کا تحفہ دیا تھا۔
ایک دن کسان کو جنگل میں سونے کا ایک طشت (مٹکا) ملا۔ وہ بہت خوش ہوا اور اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ اسے بادشاہ کو تحفے میں دے گا۔ لیکن بیٹی نے کہا: “باپ! ایسا مت کرو۔ بادشاہ یہ سوچے گا کہ اس طشت کے ساتھ اس کا موصل (چمچہ) بھی ہونا چاہیے۔ جب وہ نہیں ملے گا تو وہ ناراض ہو جائے گا۔”
کسان نے اپنی بیٹی کی بات نہیں مانی اور طشت بادشاہ کو دے دیا۔ جیسا کہ لڑکی نے کہا تھا، بادشاہ نے پوچھا: “اس کا موصل کہاں ہے؟” کسان نے کہا کہ نہیں ملا۔ بادشاہ ناراض ہو گیا، لیکن جب اس نے سنا کہ یہ لڑکی کی عقل تھی تو اس نے ایک نیا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔
اس نے کسان کو مچھلی کی ہڈیوں سے بنے تکلے اور کپڑے کا ایک چھوٹا ٹکڑا دیا اور کہا: “تمہاری بیٹی کو اس کپڑے سے میرے پورے لشکر کے لیے ہزار قمیضیں سینی ہوں گی۔”
لڑکی نے جب یہ سنا تو مسکرا کر کہا: “باپ! جاؤ بادشاہ سے کہو، پہلے وہ مچھلی کی ہڈیوں سے بُننے کا ایسا کھڈا بنا دے جس سے یہ ممکن ہو۔”
بادشاہ نے یہ جواب سنا تو وہ حیران رہ گیا۔ اس نے ایک اور شرط رکھی: “لڑکی میرے پاس آئے — نہ ننگی، نہ کپڑے پہنے؛ نہ پیدل، نہ سواری پر؛ نہ دن میں، نہ رات میں۔”
لڑکی نے اپنے بال کھول دیے جو اس کی ایڑیوں تک تھے۔ اس نے خود کو ان میں لپیٹ لیا — نہ ننگی، نہ کپڑے پہنے۔ وہ اپنے باپ کی بکری پر سوار ہو گئی — نہ پیدل، نہ سواری پر۔ اور جب وہ بادشاہ کے پاس پہنچی تو طلوعِ آفتاب کا وقت تھا — نہ دن، نہ رات۔
بادشاہ اس کی عقل اور خوبصورتی پر فدا ہو گیا اور اس نے خود اس سے شادی کر لی۔
اخلاقی سبق
یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ عقل اور دانشمندی ہر مسئلے کا حل تلاش کر سکتی ہے۔ یہ لڑکی نہ صرف اپنی جان بچاتی ہے بلکہ اپنی عقل سے بادشاہ کا دل بھی جیت لیتی ہے۔
