ایک آدمی کا گزر ایک جنگل سے ہوا جہاں شدید آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ آگ کے حصار میں پھنسا اپنی جان بچانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ آدمی کو ترس آگیا؛ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر سانپ کو آگ سے نکالا اور اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔
جیسے ہی سانپ کی جان میں جان آئی، وہ بولا: “اب میں تمہیں ڈسوں گا۔”
آدمی حیرت سے بولا: “یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے تو تمہارے ساتھ نیکی کی اور تمہیں موت کے منہ سے نکالا، کیا نیکی کا یہی صلہ ہے؟”
سانپ نے سرد مہری سے جواب دیا: “میرے پاس تو نیکی کا یہی صلہ ہے۔”
آدمی نے تجویز دی: “اگر تم یہی سمجھتے ہو تو چلو کسی تیسرے سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔” سانپ مان گیا۔ وہ کچھ آگے بڑھے تو انہیں ایک بھینس چربی ہوئی ملی۔ آدمی نے سارا قصہ سنا کر پوچھا: “تم بتاؤ، نیکی کا بدلہ نیکی ہے یا بدی؟”
بھینس دکھ بھرے لہجے میں بولی: “بدی!” آدمی نے پوچھا: “وہ کیسے؟”
بھینس کہنے لگی: “جب میں جوان تھی اور دودھ دیتی تھی تو میرا مالک مجھے اچھا چارہ کھلاتا اور میرا بہت خیال رکھتا تھا۔ اب جب میں بوڑھی ہوگئی ہوں تو اس نے مجھے ہنٹر مار کر گھر سے نکال دیا ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ نیکی کا بدلہ بدی ہے۔”
سانپ فاتحانہ انداز میں بولا: “اب بتاؤ، کیا ارادہ ہے؟” آدمی نے کہا: “ایک اور رائے لے لیتے ہیں۔” کچھ دور انہیں ایک گدھا ملا۔ آدمی نے اس سے بھی وہی سوال کیا تو گدھے نے جواب دیا: “نیکی کا بدلہ بدی ہی ہے۔” اس نے اپنی دلیل دیتے ہوئے کہا: “جب میں طاقتور تھا تو مجھ پر بھاری بوجھ لادا جاتا اور مجھ سے سخت کام لیا جاتا تھا، اب میں کمزور اور لاغر ہوگیا ہوں تو انہوں نے مجھے در در کی ٹھوکریں کھانے کے لیے نکال دیا ہے۔”
سانپ اب بالکل مطمئن تھا کیونکہ دو فیصلے اس کے حق میں آچکے تھے۔ آخر میں انہیں ایک بندر ملا۔ آدمی نے اسے تمام تفصیلات بتائیں۔ بندر بہت چالاک تھا، وہ بولا: “میں ایسے فیصلہ نہیں کر سکتا، مجھے اس جگہ لے چلو جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔”
سب وہاں پہنچ گئے جہاں آگ لگی تھی۔ بندر نے سانپ سے کہا: “تم دوبارہ اسی جگہ جا کر بیٹھو جہاں تم پڑے تھے تاکہ میں صورتحال کا درست اندازہ لگا سکوں۔” جیسے ہی سانپ جھاڑیوں میں واپس گیا، آدمی اسے دوبارہ نکالنے کے لیے ہاتھ بڑھانے لگا تو بندر نے فوراً اس کا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور کہا: “رک جاؤ! جو احسان فراموش ہو وہ نیکی کے لائق نہیں ہوتا۔ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، یہ اسی انجام کا مستحق ہے۔”
حاصلِ سبق
نااہل کے ساتھ نیکی کرنا خود پر ظلم ہے: ہر کسی کے ساتھ نیکی کرنا اچھی بات ہے، لیکن جس کی فطرت میں ہی ڈسنا یا نقصان پہنچانا شامل ہو، اسے نیکی کے ذریعے بدلنے کی کوشش کرنا بعض اوقات جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
تحریر: سوشل میڈیا پر سے لی گئی ہے
