بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

سمندر کی لہروں میں گھوڑا اور وہ جنگجو جس کے لیے زمین کم پڑ گئی…

تصور کریں… 7ویں صدی عیسوی کا اختتام ہے۔ ایک عرب کمانڈر افریقہ کے آخری کنارے پر کھڑا ہے۔ اس کے گھوڑے کے قدم بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) کی تاریک اور بپھری ہوئی لہروں میں دھنسے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی تلوار آسمان کی طرف بلند کرتا ہے، حدِ نگاہ تک پھیلے ہوئے پانی کو دیکھتا ہے، اور تاریخ کا وہ لافانی جملہ کہتا ہے:

“اے اللہ! اگر یہ کالا سمندر میرا راستہ نہ روکتا، تو میں تیری راہ میں لڑتا ہوا زمین کے آخری کنارے تک چلا جاتا!”

یہ کوئی دیومالائی یا افسانوی کردار نہیں تھا، بلکہ یہ تاریخِ اسلام کے سب سے عظیم اور نڈر جرنیلوں میں سے ایک، عقبہ بن نافع (Uqba ibn Nafi) تھے۔ یہ اس فاتح کی سچی داستان ہے جس نے پورے شمالی افریقہ (موجودہ لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش) کا نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل دیا، اور جسے روکے رکھنے کے لیے طاقتور رومن ایمپائر (بازنطینی سلطنت) اور خونخوار قبائل کو ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑا۔

صحرا کا بیٹا اور افریقہ کی پکار
عقبہ بن نافع کا تعلق قریش کے خاندان سے تھا اور وہ مشہور صحابی اور فاتحِ مصر، عمرو بن العاصؓ کے بھتیجے تھے۔ عقبہ نے جنگی مہارت اور صحراؤں میں لڑنے کا فن اپنے چچا کی زیرِ نگرانی ہی سیکھا تھا۔

جب مسلمانوں نے مصر فتح کر لیا، تو اگلا مرحلہ شمالی افریقہ (جسے اس وقت ‘افریقیہ’ کہا جاتا تھا) کی طرف پیش قدمی تھا۔ یہ علاقہ بازنطینی سلطنت اور انتہائی جنگجو مقامی ‘بربر’ (Berber) قبائل کا گڑھ تھا۔ یہاں کے قبائل اتنے سخت جان تھے کہ ان پر مستقل کنٹرول حاصل کرنا دنیا کی ہر سلطنت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔

ایک ماسٹر اسٹروک: ‘قیروان’ کا قیام
عقبہ کی جنگی حکمتِ عملی انتہائی گہری تھی۔ انہوں نے ایک پیٹرن (Pattern) نوٹ کیا کہ مسلمان فوج جب بھی شمالی افریقہ کے علاقوں کو فتح کر کے واپس مصر لوٹتی ہے، تو بازنطینی فوجیں سمندر کے راستے آ کر اور مقامی بربر قبائل بغاوت کر کے ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیتے ہیں۔

اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے، عقبہ بن نافع نے 670 عیسوی میں ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ انہوں نے سمندر سے دور، اندرونِ ملک ایک نیا شہر بسانے کا حکم دیا جس کا نام ‘قیروان’ (Kairouan) رکھا گیا (جو آج کے تیونس میں واقع ہے)۔
اس شہر کو جان بوجھ کر سمندر سے دور رکھا گیا تاکہ بازنطینی بحریہ اچانک حملہ نہ کر سکے۔ قیروان محض ایک شہر نہیں تھا، بلکہ یہ افریقہ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا، محفوظ ترین عسکری بیس (Military Base) اور علم کا مرکز بن گیا۔ آج بھی قیروان افریقہ کے قدیم ترین اور تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔

تاریخ کا طویل ترین اور خطرناک مارچ
عقبہ بن نافع کی زندگی کا سب سے شاندار عسکری کارنامہ ان کی آخری مہم تھی۔ انہوں نے قیروان سے اپنی فوج کے ساتھ مغرب کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ یہ کوئی عام سفر نہیں تھا؛ یہ ہزاروں کلومیٹر کا ایک ایسا مارچ تھا جس میں انہیں ہر قدم پر بازنطینی قلعوں اور بربر قبائل کے زبردست حملوں کا سامنا تھا۔

وہ تیونس سے نکلے، الجزائر کے سنگلاخ پہاڑوں کو عبور کیا، اور لڑتے ہوئے مراکش کے آخری کنارے تک پہنچ گئے، یہاں تک کہ ان کے سامنے ‘بحرِ ظلمات’ (بحرِ اوقیانوس) آ گیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں انہوں نے گھوڑا سمندر میں ڈال کر وہ تاریخی جملہ کہا تھا جس کا ذکر آغاز میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ ان کی پیش قدمی کو اب کوئی زمینی طاقت نہیں روک سکتی۔

غداری اور ایک سچے ہیرو کا انجام
عقبہ بن نافع کی موت کی کہانی ان کی فتوحات سے بھی زیادہ سنسنی خیز ہے۔ جب وہ افریقہ کو فتح کر کے واپس لوٹ رہے تھے، تو انہوں نے ایک سنگین عسکری غلطی کی۔ یہ سوچ کر کہ اب دشمن کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور علاقہ پرامن ہے، انہوں نے اپنی فوج کا بڑا حصہ واپس قیروان بھیج دیا اور خود صرف چند سو (تقریباً 300) جانثار ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے۔

اس موقعے کا فائدہ ایک بربر سردار ‘کسیلہ’ (Kusaila) نے اٹھایا۔ کسیلہ نے بازنطینیوں اور ہزاروں بربر جنگجوؤں کے ساتھ مل کر ‘تہودا’ (Tahuda – موجودہ الجزائر) کے مقام پر عقبہ بن نافع کے اس چھوٹے سے دستے کو گھیر لیا۔

جب عقبہ کو احساس ہوا کہ دشمن ہزاروں میں ہیں اور بچنے کا کوئی راستہ نہیں، تو انہوں نے ہتھیار ڈالنے یا بھاگنے کے بجائے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کیا۔ مستند تاریخی روایات کے مطابق، عقبہ اور ان کے ساتھیوں نے اپنی تلواروں کی میانیں (Scabbards) توڑ کر پھینک دیں—جو اس بات کی علامت تھی کہ اب تلوار میان میں واپس نہیں جائے گی۔ وہ اور ان کے چند سو ساتھی ہزاروں کے لشکر سے ٹکرا گئے اور آخری سانس تک لڑتے ہوئے میدانِ جنگ میں شہید ہو گئے۔

تاریخی ورثہ: عقبہ بن نافع ‘تہودا’ کے میدان میں شہید ضرور ہوئے، لیکن ان کا لگایا ہوا پودا (قیروان) اتنا مضبوط ہو چکا تھا کہ ان کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے نہ صرف پورے شمالی افریقہ پر مکمل کنٹرول حاصل کیا، بلکہ انہی کی قائم کردہ بنیادوں پر کھڑے ہو کر چند دہائیوں بعد طارق بن زیاد نے یورپ (اندلس) کے دروازے کھولے۔ عقبہ بن نافع تاریخ کے وہ ہیرو ہیں جنہیں زمین کی وسعتیں بھی کم پڑ گئی تھیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner