بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک مشرقی سلطنت میں ایک بادشاہ تھا جسے سچ سننے سے شدید الرجی تھی۔
اگر کوئی سچ بول دیتا تو بادشاہ کو فوراً بخار آ جاتا، اور بولنے والے کو جیل۔
اس لیے دربار میں سب لوگ صرف ایک ہی جملہ بولتے تھے
“جہاں پناہ! آپ جیسا عقل مند بادشاہ تاریخ میں کبھی نہیں آیا۔”

ایک دن بادشاہ نے حکم دیا
“ایک ایسا آئینہ بنوایا جائے جو مجھے حقیقت دکھائے۔”

وزیروں کے چہروں پر وہی مسکراہٹ آ گئی جو امتحان میں فیل طالب علم کے آتے ہی آتی ہے۔
آخرکار شہر کے ایک درزی کو بلایا گیا۔
سادہ آدمی، سیدھی بات، اور زبان ایسی جیسے قینچی —بغیر مروّت۔
درزی نے آئینہ تیار کر دیا۔

بادشاہ نے آئینے میں دیکھا
اور چیخ اٹھا۔
“یہ کیا ہے؟ یہ تو میں نہیں ہوں

درزی بولا
“جہاں پناہ، یہ وہی ہے جو آپ دوسروں کو دکھاتے ہیں
بس آج خود دیکھ لیا ہے۔”

دربار میں خاموشی چھا گئی۔
بادشاہ نے غصے میں حکم دیا:
“اس درزی کو جیل میں ڈال دو

درزی مسکرایا اور بولا
“جہاں پناہ، آئینہ تو آپ کے پاس ہی رہے گا۔”

بادشاہ نے آئینے کی طرف دیکھا
اور پہلی بار اسے جیل زیادہ خوفناک لگی۔

سبق

سچ کو قید کیا جا سکتا ہے،
مگر اس کا عکس نہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner