بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

مصر کے ایک شہر میں ایک نوجوان کا چرچا تھا۔ نہ وہ عالمِ دین کے طور پر مشہور تھا، نہ خطیب تھا، نہ امیر۔ مگر اس کے نام کا سکہ زبانِ عام پر اس وجہ سے تھا کہ وہ ایک ہی رات میں اکیلا مسجد تعمیر کر دیتا تھا۔
لوگ حیران تھے۔
دن بھر مسجد کا میدان خالی ہوتا، اینٹیں الگ پڑی ہوتیں، لکڑی، مٹی، چونا اپنی جگہ۔ مگر فجر کے وقت جب لوگ آتے تو مسجد کھڑی ہوتی—دیواریں، محراب، حتیٰ کہ وضو کا انتظام بھی۔
سب سے عجیب بات یہ تھی کہ وہ نوجوان کام کے دوران کسی کو قریب آنے نہیں دیتا تھا۔ اگر کوئی قدموں کی آہٹ بھی سن لیتا تو کام چھوڑ دیتا، جیسے سایہ بن کر غائب ہو جاتا۔
لوگ کہتے: “یہ انسان نہیں، کوئی جن ہے!” کوئی کہتا: “یہ جادو جانتا ہے!” کوئی کہتا: “یہ کوئی اللہ کا ولی ہے!”
مگر نوجوان خاموش رہتا۔
نہ تعریف قبول کرتا،
نہ اپنا نام بتاتا،
نہ کسی سے بات کرتا۔
یہ خبر آہستہ آہستہ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ تک پہنچ گئی۔
صلاح الدین—وہی فاتحِ بیت المقدس، وہی سلطان جس کی تلوار عدل سے چلتی تھی اور جس کا دل اللہ کے خوف سے کانپتا تھا۔
سلطان نے دربار میں علماء اور امرا کو جمع کیا اور فرمایا: “اگر یہ بات سچ ہے تو یہ نوجوان اللہ کا خاص بندہ ہے۔
اور اگر یہ فریب ہے تو قوم کو سچ جاننا چاہیے۔”
سلطان نے حکم دیا کہ شہر کے کنارے ایک نئی مسجد تعمیر کی جائے، مگر اعلان کر دیا گیا کہ: “اس مسجد کو وہی نوجوان بنائے گا جو راتوں رات مسجد تعمیر کرتا ہے۔”
خبر پھیل گئی۔
اس رات سلطان صلاح الدین خود عام آدمی کا لباس پہن کر مسجد کے قریب ایک جھاڑی میں چھپ گئے۔ دل میں صرف ایک نیت تھی: “یا اللہ! مجھے سچ دکھا دے۔”
رات گہری ہو گئی۔
چاند بادلوں میں چھپ گیا۔
ہوا میں خاموشی اتر آئی۔
اچانک ایک دبلا پتلا نوجوان نمودار ہوا۔ سادہ لباس، جھکی ہوئی نگاہیں، ہاتھ میں اوزار۔ اس نے چاروں طرف دیکھا، جیسے اطمینان کر رہا ہو کہ کوئی موجود تو نہیں۔
پھر اس نے کام شروع کیا۔
ابتدا میں سلطان نے سوچا: “یہ تو عام انسان ہے… اکیلا کیا کرے گا؟”
مگر چند لمحوں بعد سلطان کے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔
جیسے ہی نوجوان نے بسم اللہ کہی، فضا بدل گئی۔
سلطان نے دیکھا—
اندھیرے میں روشنی کے سائے حرکت کرنے لگے۔
زمین پر پڑی اینٹیں خود بخود اٹھنے لگیں۔
چونا، پانی، مٹی—سب خودبخود ترتیب میں آ رہے تھے۔
پھر سلطان نے وہ منظر دیکھا…
جس نے اس کی روح ہلا دی۔
نوجوان اکیلا نہیں تھا۔
اس کے اردگرد نورانی مخلوق موجود تھی—سفید لباس، چہرے روشن، خاموشی سے کام کرتے ہوئے۔ کوئی اینٹ اٹھا رہا تھا، کوئی دیوار سیدھی کر رہا تھا، کوئی محراب بنا رہا تھا۔
یہ فرشتے تھے۔
صلاح الدین کے قدم لرزنے لگے۔
آنکھیں پھیل گئیں۔
سانس رکنے لگا۔
یہ دیکھ کر سلطان بے اختیار بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔
ایک لمحے کو کام رک گیا۔
نوجوان نے سلطان کو گرتے دیکھا تو گھبرا گیا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: “یا اللہ! میرا راز ظاہر نہ ہو…
میں نے یہ کام صرف تیرے لیے کیا ہے، لوگوں کے لیے نہیں۔”
اگلے ہی لمحے وہ نورانی مخلوق غائب ہو گئی۔
سب کچھ ساکت ہو گیا۔
نوجوان سلطان کو اٹھا کر ایک درخت کے سائے میں لے گیا، پانی کے چھینٹے مارے۔
تھوڑی دیر بعد سلطان کی آنکھ کھلی۔
آنکھ کھلتے ہی سلطان نے نوجوان کے ہاتھ پکڑ لیے۔ آنسو بہتے ہوئے کہا: “اللہ کے بندے!
تو انسان ہے یا فرشتہ؟
یہ سب کیا تھا جو میں نے دیکھا؟”
نوجوان کا چہرہ فق ہو گیا۔ وہ کانپتے ہوئے بولا: “سلطان!
میں آپ کے قدموں کی خاک بھی نہیں۔
میں صرف ایک گناہ گار انسان ہوں۔”
سلطان نے کہا: “پھر یہ فرشتے؟
یہ معجزہ؟
یہ طاقت؟”
نوجوان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کہا: “سلطان!
میں نے کبھی کوئی مسجد اپنی طاقت سے نہیں بنائی۔
میں صرف رات کے اندھیرے میں آ کر دو رکعت نفل پڑھتا ہوں،
اور اللہ سے کہتا ہوں:
‘یا اللہ!
میں چاہتا ہوں تیرے گھر بنیں،
میرے نام کے نہیں،
تیرے نام کے۔
اگر یہ کام مجھ سے نہیں ہو سکتا تو
اپنے فرشتے بھیج دے۔’”
سلطان صلاح الدین سسک پڑے۔
نوجوان نے بات جاری رکھی: “میں نے اللہ سے صرف اخلاص مانگا تھا،
نہ شہرت،
نہ تعریف،
نہ نام۔
جب لوگ مجھے پہچاننے لگے تو میں نے شہر چھوڑنے کا ارادہ کر لیا تھا…
کیونکہ جہاں نام آ جاتا ہے
وہاں کام ضائع ہو جاتا ہے۔”
سلطان صلاح الدین نے زمین پر بیٹھ کر کہا: “آج مجھے فتحِ بیت المقدس سے زیادہ
یہ رات قیمتی لگ رہی ہے۔
کیونکہ آج میں نے جان لیا
کہ اللہ تلوار سے نہیں
دل سے راضی ہوتا ہے۔”
سلطان نے نوجوان سے درخواست کی: “میرے لیے دعا کرو۔”
نوجوان نے ہاتھ اٹھائے: “یا اللہ!
جس طرح تو نے مجھ جیسے کمزور بندے سے کام لیا،
اسی طرح اس سلطان کو بھی
عدل اور اخلاص کی توفیق دے۔”
صبح ہوئی۔
لوگ آئے تو مسجد مکمل تھی۔
مگر نوجوان غائب تھا۔
کسی نے اسے دوبارہ نہیں دیکھا۔
لیکن اُس دن کے بعد
سلطان صلاح الدین جب بھی کوئی مسجد، مدرسہ یا قلعہ بنواتے
تو کہتے:
“اینٹیں تم لگاؤ،
مگر نیت اللہ کے لیے رکھو—
کیونکہ عمارتیں ہاتھوں سے نہیں،
اخلاص سے کھڑی ہوتی ہیں۔”

Leave a Reply

NZ's Corner