بوجھ

بوجھ

ایک سرسبز گاؤں میں ایک محنتی کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک مضبوط مگر نہایت ضدی گدھا تھا۔
جب بھی کسان اس کی پیٹھ پر زیادہ بوجھ لادتا، گدھا وہیں کھڑا ہو جاتا۔ نہ ایک قدم آگے بڑھتا، نہ کسی کی آواز سنتا۔
کسان کبھی سمجھاتا، کبھی ڈانٹتا، مگر گدھا اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوتا۔
ایک دن کسان تھک ہار کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور نرمی سے بولا:
“گدھے بھائی! آخر تم میری بات کیوں نہیں مانتے؟”
گدھے نے گہری سانس لی اور بولا:
“اس لیے کہ تم میری طاقت سے زیادہ بوجھ میری پیٹھ پر رکھ دیتے ہو۔ میں کام سے نہیں گھبراتا، مگر حد سے زیادہ بوجھ اٹھانا میرے بس کی بات نہیں۔”
کسان نے حیرت سے پوچھا:
“لیکن تم تو بوجھ اٹھانے کے لیے ہی پالے جاتے ہو۔”
گدھا مسکرایا اور بولا:
“اور تم انسان اس لیے پیدا ہوئے ہو کہ عقل سے کام لو۔ اگر تم میری طاقت، میری تھکن اور میری حد کا خیال ہی نہ رکھو، تو پھر تمہاری عقل کا فائدہ کیا؟”
یہ سن کر کسان خاموش ہو گیا۔
کچھ دیر بعد اس نے کہا:
“اگر تم نے کام نہ کیا تو مجھے مجبوراً تمہیں بیچنا پڑے گا۔”
گدھے نے سکون سے جواب دیا:
“بیچ دینا کوئی مسئلہ نہیں۔ نیا مالک بھی اگر میری طاقت سے زیادہ بوجھ لادے گا تو میں وہاں بھی یہی کروں گا۔ مسئلہ میری ضد نہیں، بوجھ کی زیادتی ہے۔”
کسان نے پہلی بار غور سے گدھے کی بات سنی۔
اس نے گدھے کی پیٹھ سے آدھا سامان اتار دیا۔
پھر نرمی سے اس کی گردن تھپتھپائی اور کہا:
“چلو دوست، اب دیکھتے ہیں۔”
گدھا فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
اس نے اطمینان سے بوجھ سنبھالا اور بغیر رکے پورا راستہ طے کر لیا۔
کسان حیران رہ گیا۔
اسے سمجھ آ گیا کہ ہر انکار سستی یا ضد کی علامت نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی انسان یا جانور صرف یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس کی بھی ایک حد ہے۔
اس دن کے بعد کسان نے اپنے تمام جانوروں کے ساتھ انصاف کرنا شروع کر دیا۔
وہ ان کی طاقت کے مطابق کام لیتا، آرام کا وقت دیتا اور ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتا۔
بدلے میں اس کے جانور پہلے سے زیادہ دل لگا کر کام کرنے لگے۔
کسان مسکرا کر کہتا:
“محبت اور انصاف وہاں کامیاب ہو جاتے ہیں، جہاں سختی ناکام ہو جاتی ہے۔”
سبق:
اچھا رہنما وہ ہے جو دوسروں سے کام لینے سے پہلے ان کی صلاحیت، طاقت اور حالات کو سمجھے۔ انصاف، ہمدردی اور اعتدال سے لیا گیا کام خوش دلی سے انجام پاتا ہے، جبکہ حد سے زیادہ بوجھ بہترین ساتھی کو بھی تھکا دیتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner