بچھو کی فطرت

بچھو کی فطرت

ایک پُرسکون شام تھی۔
ندی کا پانی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا، پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے، اور ندی کنارے ایک صوفی بزرگ خاموشی سے اللہ کے ذکر میں مشغول بیٹھے تھے۔
اچانک ان کی نظر پانی پر پڑی…
انہوں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا بچھو ندی کے تیز بہاؤ میں پھنس گیا ہے۔
وہ بار بار پانی سے نکلنے کی کوشش کرتا، مگر لہریں اسے واپس بہا لے جاتیں۔
بچھو بے بسی سے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔
صوفی بزرگ کا دل رحم سے بھر گیا۔
انہوں نے فوراً اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اس ننھی جان کو بچا سکیں۔
لیکن جیسے ہی انہوں نے بچھو کو ہاتھ میں لیا…
بچھو نے اپنی فطرت کے مطابق زور سے ڈنک مار دیا!
درد کی تیز لہر بزرگ کے جسم میں دوڑ گئی۔
ان کا ہاتھ کانپ گیا اور بچھو دوبارہ پانی میں جا گرا۔
قریب کھڑے لوگ بول اٹھے:
“چھوڑ دیں اسے!
یہ ناشکرا جانور آپ ہی کو تکلیف دے رہا ہے!”
مگر صوفی بزرگ خاموش رہے۔
کچھ لمحوں بعد انہوں نے دوبارہ ہاتھ بڑھایا…
اور ایک بار پھر بچھو نے ڈنک مار دیا۔
اس بار درد پہلے سے زیادہ تھا، مگر بزرگ کے چہرے پر غصہ نہیں آیا۔
وہ تیسری بار پھر آگے بڑھے۔
یہ سب دیکھ کر ایک مسافر حیران رہ گیا۔
وہ آگے آیا اور بولا:
“اے بزرگ!
آپ اسے کیوں بچا رہے ہیں؟
یہ ہر بار آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔
اسے ڈوبنے دیں!”
صوفی بزرگ نے مسکرا کر جواب دیا:
“بیٹا…
ڈنک مارنا بچھو کی فطرت ہے،
اور رحم کرنا میری فطرت۔
اگر ایک چھوٹا سا جانور اپنی بری فطرت نہیں چھوڑ رہا…
تو میں انسان ہو کر اپنی اچھی فطرت کیوں چھوڑ دوں؟”
یہ کہہ کر بزرگ نے پاس پڑا ایک پتا اٹھایا،
اس پر بچھو کو احتیاط سے رکھا اور اسے محفوظ کنارے پر چھوڑ دیا۔
مسافر خاموش کھڑا رہ گیا…
کیونکہ آج اس نے انسانیت کا اصل مطلب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔

سبق:
لوگ آپ کے ساتھ جیسا بھی سلوک کریں،
اپنی اچھائی، اخلاق اور انسانیت کبھی مت چھوڑیں۔
دوسروں کی تلخی کو اپنی مٹھاس ختم نہ کرنے دیں۔
عظیم انسان وہی ہوتا ہے جو برائی کے جواب میں بھی اپنی اچھائی قائم رکھے۔

Leave a Reply

NZ's Corner