بین اور جیری: دو سروں والا نایاب سانپ

بین اور جیری: دو سروں والا نایاب سانپ

بین اور جیری نامی یہ دو سروں والا سانپ دنیا کی نایاب ترین مخلوقات میں سے ایک ہے، اور یہ دونوں (سر) ایک دوسرے کو بالکل پسند نہیں کرتے۔
بقا کی معجزاتی کہانی
یہ کیلیفورنیا کنگ سنیک (California Kingsnakes) ہیں جو ‘بائیسیفیلی’ (Bicephaly) نامی حالت کے ساتھ پیدا ہوئے، یعنی ایک جسم اور دو سر۔ یہ صورتحال 10,000 میں سے کسی ایک سانپ کے ساتھ پیش آتی ہے۔ لیکن کڑوا سچ یہ ہے کہ ایسے 99.9 فیصد سانپ اپنی پہلی سالگرہ بھی نہیں دیکھ پاتے۔ وہ عام طور پر اس لیے مر جاتے ہیں کیونکہ ان کے دونوں دماغ کھانے کے معاملے میں ہم آہنگ نہیں ہو پاتے، وہ گھٹ کر مر جاتے ہیں، یا ایک سر دوسرے پر حملہ کر دیتا ہے۔
بین اور جیری اس وقت ساڑھے چار سال کے ہیں، جو کہ ایک طبی معجزہ ہے۔
ایک پیٹ، دو مختلف شخصیات
ان کا معدہ اور نظامِ ہاضمہ ایک ہی ہے، لیکن دو دماغ الگ الگ شخصیات کے حامل ہیں۔
بین (بایاں سر): یہ زیادہ غالب (Dominant) ہے اور جیری کے مقابلے میں دو گنا زیادہ کھانا کھاتا ہے۔
جیری (دایاں سر): یہ تب تک کھانا نہیں کھاتا جب تک بین کھانا شروع نہ کر دے۔
اگرچہ ان کا پیٹ ایک ہے، لیکن ان کی منزلیں اور ارادے الگ الگ ہیں۔
اندرونی جنگ
جب انہیں کسی سطح پر چھوڑا جاتا ہے، تو دونوں سر اکثر مخالف سمتوں میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کھینچا تانی میں ان کا مشترکہ جسم منجمد ہو جاتا ہے۔ وہ حرکت نہیں کر پاتے کیونکہ ان کے دماغ ایک دوسرے سے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ اگر یہ کبھی جنگل میں آزاد ہو جائیں، تو چند ہفتوں میں مر جائیں گے کیونکہ یہ نہ تو شکار کر سکیں گے اور نہ ہی شکاری سے چھپ سکیں گے۔
نایاب ترین وجود
ماہرین کا ماننا ہے کہ بالغ حالت میں ایسے دو سروں والے سانپ پوری دنیا میں 5 سے بھی کم موجود ہیں۔ توقع ہے کہ بین اور جیری 20 سے 25 سال تک زندہ رہیں گے، جو کہ ایک مکمل زندگی ہے۔
نیا گھر: ریپٹیریم (The Reptarium)
مشہور رینگنے والے جانوروں کے ماہر برائن بارکزک (Brian Barczyk) نے اس سانپ کو خریدنے کے لیے بریڈر کی 18 ماہ تک منت سماجت کی۔ آج کل یہ دونوں مشی گن کے ‘ریپٹیریم’ میں موجود ہیں، جہاں لوگ دور دور سے انہیں دیکھنے آتے ہیں۔
کھانے کا منظر
جب دونوں سر ایک ساتھ کھاتے ہیں (جو کہ بہت کم ہوتا ہے)، تو یہ ایک ہولناک منظر ہوتا ہے۔ وہ دو مردہ چوہوں کو پکڑتے ہیں اور انہیں آہستہ آہستہ اپنے مشترکہ معدے میں اتارتے ہیں۔ لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ “کیا ان کا دم نہیں گھٹتا؟” تو اس کا جواب ہے: “تقریباً ہمیشہ”۔ زیادہ تر دو سروں والے سانپ اسی وجہ سے مر جاتے ہیں۔
یہ معلومات کافی حد تک درست ہیں اور یہ ایک مشہور حقیقی واقعے پر مبنی ہیں۔ یہ سانپ حقیقت میں موجود رہا ہے اور رینگنے والے جانوروں کے مشہور ماہر برائن بارکزک (Brian Barczyk) کی ملکیت تھا۔
تاہم، اس کہانی کے کچھ پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے:
1. کیا یہ سانپ واقعی موجود ہے؟
جی ہاں، “بین اور جیری” نامی یہ دو سروں والا کنگ سنیک (Kingsnake) حقیقت میں مشی گن کے “دی ریپٹیریم” (The Reptarium) میں تھا۔ یہ سوشل میڈیا اور دستاویزی فلموں میں بہت مشہور ہوا تھا۔
2. سائنسی حقیقت (Bicephaly)
سانپوں میں دو سروں کے ساتھ پیدا ہونے کی حالت جسے Bicephaly کہتے ہیں، واقعی بہت نایاب ہے (تقریباً 10,000 میں سے ایک)۔ تحریر میں بتائی گئی یہ بات درست ہے کہ ایسے سانپوں کی اکثریت بچپن میں ہی مر جاتی ہے کیونکہ:
ان کے دو دماغ ایک جسم کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
وہ شکار کرنے یا دشمن سے بچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
کھانا کھاتے وقت دونوں سروں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے جو ان کی موت کا سبب بن سکتا ہے۔
3. تعداد کے بارے میں وضاحت
تحریر میں کہا گیا ہے کہ “دنیا میں صرف 5 ایسے سانپ ہیں”۔ یہ بات تھوڑی مبالغہ آرائی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ دو سروں والے “بالغ” سانپ انتہائی نایاب ہیں، لیکن دنیا کے مختلف چڑیا گھروں اور نجی کلکشنز میں اس طرح کے چند اور نمونے بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ تاہم، بین اور جیری اپنی عمر اور صحت کے لحاظ سے واقعی دنیا کے چند گنتی کے نایاب ترین سانپوں میں سے ایک تھے۔
4. ایک افسوسناک اپ ڈیٹ
آپ کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ برائن بارکزک (سانپ کے مالک) کا جنوری 2024 میں کینسر کی وجہ سے انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل یا بعد میں “بین اور جیری” کے حوالے سے بھی صحت کے مسائل کی خبریں آتی رہی ہیں، کیونکہ دو سروں والے سانپوں کے لیے طویل عمر پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔
خلاصہ: یہ کہانی بنیادی طور پر سچی ہے اور اس میں بیان کردہ حیاتیاتی (biological) مسائل بالکل درست ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner