ایک شہر میں ایک بہت مشہور مصور (Painter) رہتا تھا۔ اس نے ایک دن ایک ایسی تصویر بنائی جو اس کی زندگی کا سب سے بہترین شاہکار تھی۔ اس تصویر میں زندگی کے رنگ، امید اور خوبصورتی کو اتنے شاندار طریقے سے دکھایا گیا تھا کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔
مصور نے سوچا کہ کیوں نہ آج لوگوں کے ذوق کا امتحان لیا جائے۔ اس نے وہ تصویر شہر کے سب سے مصروف چوراہے پر لگا دی اور نیچے ایک بورڈ پر لکھ دیا:
“جس کسی کو بھی اس تصویر میں کوئی خامی یا غلطی نظر آئے، وہ وہاں لال رنگ سے ایک نشان (Cross) لگا دے۔”
شام کا منظر
شام کو جب مصور چوراہے پر اپنی تصویر واپس لینے پہنچا، تو اس کا دل ٹوٹ گیا۔ پوری تصویر لال نشانات سے بھری پڑی تھی، یہاں تک کہ تصویر کا اصل چہرہ اور رنگ بھی نظر نہیں آ رہے تھے۔ مصور شدید مایوس اور اداس ہو گیا، اسے لگا کہ اس کا فن بیکار ہے اور لوگ اس کی محنت سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔
وہ مایوسی کی حالت میں اپنے ایک دانا اور بزرگ دوست کے پاس گیا اور روتے ہوئے پورا واقعہ سنایا۔
بزرگ دوست نے مسکرا کر کہا: “پریشان مت ہو، کل دوبارہ اسی چوراہے پر ایک اور تصویر لگاؤ، لیکن اس بار نیچے لکھے جانے والے جملے کو بدل دو۔”
نیا تجربہ
اگلے دن، مصور نے ایک اور خوبصورت تصویر بنائی اور اسی چوراہے پر لگا دی۔ لیکن اس بار بزرگ دوست کے کہنے پر نیچے یہ بورڈ لگایا:
“جس کسی کو بھی اس تصویر میں کوئی خامی یا غلطی نظر آئے، وہ اسے ٹھیک (Correct) کر دے۔ پاس ہی رنگ اور برش رکھ دیے گئے ہیں۔”
شام کو جب مصور وہاں پہنچا، تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تصویر بالکل صاف تھی! نہ کسی نے برش کو ہاتھ لگایا تھا، اور نہ ہی تصویر پر ایک بھی نشان تھا۔ اگلی صبح اور اس سے اگلے دن بھی تصویر کو کسی نے نہیں چھوا۔
مصور حیرت زدہ ہو کر اپنے بزرگ دوست کے پاس گیا اور پوچھا کہ ایسا کیوں ہوا؟ بزرگ نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا:
“میرے دوست! یہ دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے۔ غلطیاں نکالنا اور تنقید کرنا سب سے آسان کام ہے، لیکن اس غلطی کو سدھارنا اور حل پیش کرنا سب سے مشکل۔”
کہانی کا اصل سبق (Moral)
تنقید سے نہ گھبرائیں: دنیا میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو دوسروں کی محنت میں خامی نکالنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں، لیکن جب خود کچھ بہتر کرنے یا حل نکالنے کی بات آتی ہے، تو سب پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
بڑوں کے لیے مشورہ: اگر کوئی آپ کی محنت پر تنقید کرے، تو یہ نہ سمجھیں کہ آپ کا کام خراب ہے، بلکہ یہ دیکھیں کہ کیا تنقید کرنے والا خود اس کا کوئی بہتر حل رکھتا ہے؟ اگر نہیں، تو ایسی تنقید پر دل چھوٹا کرنا نادانی ہے۔
