ایک زمانے میں ایک معمولی سے دیہات میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے تین بیٹے تھے: سب سے بڑا سیمیون، درمیانہ تاراس اور سب سے چھوٹا آئیون۔ سیمیون فوج میں بھرتی ہو گیا اور ایک بہادر سپاہی بن گیا۔ تاراس تاجر بن گیا، شہروں میں جاتا، مال خریدتا اور بیچتا، پیسہ کمانے کا ہنر جانتا تھا۔ جبکہ آئیون گھر پر رہ گیا۔ لوگ اسے “بیوقوف” کہتے تھے کیونکہ وہ نہ تو فوج میں جانا چاہتا تھا اور نہ ہی پیسہ کمانے کے چکر میں پڑتا۔ وہ کھیتوں میں محنت کرتا، زمین جوٹتا، بیج بو تا اور فصل کاٹتا۔ جو کچھ مل جاتا، اسی میں خوش رہتا۔
بوڑھا مر گیا۔ تینوں بھائیوں نے جائیداد بانٹ لی۔ سیمیون نے گھوڑے، ہتھیار اور فوجی لباس لے لیے۔ تاراس نے مال، گاڑیاں اور نقد روپیہ اٹھا لیا۔ آئیون کے حصے میں صرف ایک بوڑھی گھوڑی، ایک بیل اور ایک پرانا ہل رہ گیا۔ بھائیوں نے ہنستے ہوئے کہا، “تم بیوقوف ہو، تمہیں تو یہ بھی کافی ہے۔”
اس وقت تین شیطان آسمان سے زمین پر اترے۔ ان کا سردار شیطان بہت غصے میں تھا۔ اس نے کہا، “یہ تین بھائی ہیں۔ اگر ہم ان کے درمیان لڑائی کروا دیں تو پورا دیہات تباہ ہو جائے گا۔” تینوں شیطانوں نے ذمہ داریاں بانٹ لیں۔ ایک سیمیون کے پیچھے لگا، دوسرا تاراس کے، اور تیسرا آئیون کے۔
سیمیون فوج میں ترقی کرتا گیا۔ وہ ایک بڑا جنرل بن گیا۔ اس نے بڑی فتوحات حاصل کیں۔ بادشاہ نے اسے بڑی جاگیر اور دولت دی۔ لیکن شیطان نے اس کے دل میں لالچ ڈالا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس کی جاگیر چھوٹی ہے، اسے اور بڑھانا چاہیے۔ اس نے دوسرے ملک پر حملہ کیا۔ جنگ ہوئی، خون بہا، لاشیں بکھریں۔ آخر کار سیمیون ہار گیا۔ اس کی فوج تباہ ہوئی، وہ خود بھاگ کر گھر لوٹ آیا۔ اس کے پاس کچھ بھی نہ بچا سوائے پھٹے کپڑوں کے۔
تاراس نے شہر میں بڑا کاروبار شروع کیا۔ وہ مال خریدتا، بیچتا، نفع کماتا۔ جلد ہی وہ امیر ہو گیا۔ بڑی بڑی عمارتیں بنوائیں، نوکر رکھے۔ شیطان نے اس کے دل میں حسد بھرا۔ وہ سوچنے لگا کہ دوسرے تاجر زیادہ کمارہے ہیں۔ اس نے قرضے لیے، بڑا داؤ کھیلا۔ مگر بازار میں اچانک مندی آ گئی۔ تاراس کا سارا مال ڈوب گیا۔ وہ دیوالیہ ہو کر گھر لوٹ آیا۔ دونوں بڑے بھائی اب غریب ہو چکے تھے۔
اب تیسرا شیطان آئیون کے پاس گیا۔ آئیون اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا۔ شیطان نے سوچا کہ اسے لالچ میں ڈالوں گا۔ اس نے رات کو آئیون کے کھیت میں سوئے ہوئے بھوتوں کو جگانا چاہا، مگر آئیون صبح اٹھ کر پھر ہل چلاتا رہا۔ شیطان نے اسے خواب میں دکھایا کہ اگر وہ پیسہ مانگے تو بادشاہ بن سکتا ہے۔ آئیون نے ہنستے ہوئے کہا، “پیسہ کیا کرنا ہے؟ مجھے تو روٹی اور آرام چاہیے۔”
ایک دن آئیون کے گھر ایک بوڑھا آ کر بیٹھ گیا۔ وہ بھوکا تھا۔ آئیون نے اپنی روٹی اسے دے دی۔ بوڑھا (جو دراصل شیطان تھا) نے کہا، “تم بہت احمق ہو۔” آئیون نے جواب دیا، “احمق تو وہ ہے جو دوسروں کو تکلیف دے کر خوش ہوتا ہے۔”
شیطان نے آئیون کو آزمانے کے لیے ایک خوبصورت لڑکی بھیجی۔ لڑکی نے کہا، “مجھ سے شادی کر لو، میں تمہیں امیر بنا دوں گی۔” آئیون نے مسکراتے ہوئے کہا، “میری بوڑھی ماں ہے، اس کی خدمت کرنی ہے۔ تم بھی آ جاؤ، ہم سب مل کر کھیتوں میں کام کریں گے۔” لڑکی حیران رہ گئی اور واپس چلی گئی۔
پھر ایک دن تینوں بھائی ایک جگہ جمع ہوئے۔ دونوں بڑے بھائی غریب ہو چکے تھے۔ انہوں نے آئیون سے کہا، “ہمیں کچھ دے دو۔” آئیون نے اپنی فصل کا ایک حصہ، گھر کا ایک کمرہ اور کھیت کا کچھ حصہ انہیں دے دیا۔ وہ خوش ہو گئے۔
اب شیطانوں کا سردار خود آیا۔ اس نے سوچا کہ آئیون کو بادشاہ بنا کر آزماتا ہے۔ ایک دن دیہات کے لوگوں نے آئیون کو اٹھا کر بادشاہ بنا دیا۔ آئیون تخت پر بیٹھ گیا، مگر وہ تخت پر بیٹھ کر بھی آرام نہ کر سکا۔ وہ اٹھا، کھیتوں میں گیا، لوگوں کے ساتھ کام کرنے لگا۔ دربار میں آنے والے لوگوں سے کہتا، “بھائی، بیٹھو، کچھ کھاؤ پیو۔” ٹیکس لینے سے انکار کر دیا۔ فوج رکھنے سے انکار کر دیا۔ کہتا، “اگر کوئی حملہ کرے تو ہم سب مل کر کام کریں گے، لڑیں گے کیوں؟”
پڑوسی بادشاہوں نے سوچا کہ یہ بادشاہ احمق ہے۔ انہوں نے فوجیں بھیج کر حملہ کر دیا۔ آئیون کی سلطنت میں فوج نہ تھی۔ مگر جب حملہ آور آئے تو آئیون نے اپنے لوگوں سے کہا، “بھائیوں، انہیں روٹی دو، انہیں تھکاوٹ لگی ہو گی۔” لوگوں نے حملہ آوروں کو روٹی، پانی اور آرام دیا۔ حملہ آور حیران رہ گئے۔ ان کے دل پسیج گئے۔ انہوں نے ہتھیار ڈال دیے اور کہا، “ہم تمہارے غلام نہیں، تمہارے بھائی بننا چاہتے ہیں۔”
شیطان غصے سے پاگل ہو گیا۔ اس نے آئیون کے دربار میں تین شیطانوں کو بھیجا کہ وہ لالچ، حسد اور جھگڑا پھیلائیں۔ مگر آئیون کے لوگ کہتے، “کیا فائدہ لڑنے کا؟ جو کام کرے گا، وہی کھائے گا۔” شیطانوں کی کوئی چال چل نہ سکی۔ آخر کار وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔
آئیون بادشاہ بن کر بھی وہی سادہ زندگی گزارتا رہا۔ صبح اٹھتا، ہل جو تتا، لوگوں کے ساتھ کھاتا، ان کی مدد کرتا۔ کوئی امیر نہ تھا، کوئی غریب نہ تھا۔ سب مل جل کر رہتے۔ جب کوئی بیمار ہوتا تو آئیون خود اس کی دیکھ بھال کرتا۔ جب کوئی مرتا تو سب مل کر روتے۔
ایک دن آئیون کے پاس ایک بوڑھا عالم آیا۔ اس نے پوچھا، “تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ لوگ تمہیں بیوقوف کہتے ہیں؟” آئیون نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “بیوقوف وہ ہے جو ساری زندگی پیسہ، طاقت اور شہرت کے پیچھے بھاگتا رہے اور آخر میں خالی ہاتھ مر جائے۔ میں تو جو کچھ کھیتوں سے اگتا ہے، وہی کھاتا ہوں۔ جو محنت کرتا ہوں، وہی پاتا ہوں۔ اور جو لوگوں سے محبت کرتا ہوں، وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔”
شیطانوں کا سردار دور پہاڑوں میں بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے مایوسی سے سر ہلا کر کہا، “اس سلطنت میں ہمارا کوئی کام نہیں۔ یہاں بیوقوفوں کی حکومت ہے۔”
اور اس طرح آئیون دی فول کی سلطنت قائم رہی۔ جہاں نہ ٹیکس تھے، نہ فوجیں، نہ لالچ، نہ حسد۔ صرف محنت، سادگی اور محبت تھی۔
*اخلاقی سبق*
حقیقی بادشاہ وہ نہیں جو تخت پر بیٹھے، بلکہ وہ ہے جو زمین کو جو تتا ہے، دوسروں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دل کو صاف رکھتا ہے۔
