تین قسم کے انسان

تین قسم کے انسان

بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک بادشاہ کے دربار میں دوسرے ملک کے سفیر نے تین خوبصورت گڑیا تحفے میں بھیجیں۔ وہ تینوں گڑیا دیکھنے میں بالکل ایک جیسی تھیں؛ ان کا سائز، رنگ، بناوٹ اور وزن بالکل یکساں تھا۔
سفیر نے بادشاہ کو ایک چیلنج دیا: “عالی جاہ! یہ تینوں گڑیا بظاہر ایک جیسی ہیں، لیکن ان کی قیمت اور اخلاقی قدر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کیا آپ کا کوئی درباری ان تینوں میں فرق بتا سکتا ہے؟”
بادشاہ نے اپنے تمام دانشوروں اور وزیروں کو بلایا۔ سب نے گڑیا کو غور سے دیکھا، چھو کر دیکھا، لیکن کوئی بھی ان میں کوئی فرق نہ ڈھونڈ سکا۔ بادشاہ پریشان ہو گیا کہ اگر جواب نہ دیا تو سلطنت کی بدنامی ہوگی۔ آخر کار، بادشاہ کے سب سے عاقل اور دانا وزیر نے اس چیلنج کو قبول کیا۔
وزیر نے ایک باریک تار منگوایا۔

   1. پہلی گڑیا: وزیر نے تار کو پہلی گڑیا کے کان میں ڈالا۔ وہ تار گڑیا کے دوسرے کان سے باہر نکل آیا۔ وزیر مسکرایا اور بولا: “یہ گڑیا سب سے سستی اور کم درجے کی ہے۔”
   2. دوسری گڑیا: وزیر نے تار کو دوسری گڑیا کے کان میں ڈالا۔ اس بار وہ تار گڑیا کے منہ سے باہر نکل آیا۔ وزیر نے سر ہلایا اور کہا: “یہ گڑیا بھی قابلِ بھروسہ نہیں ہے۔”
   3. تیسری گڑیا: جب وزیر نے تار کو تیسری گڑیا کے کان میں ڈالا، تو تار اندر ہی رہا اور باہر نہیں آیا، وہ گڑیا کے دل (پیٹ) میں چلا گیا۔ وزیر خوش ہو کر بولا: “بادشاہ سلامت! یہ گڑیا سب سے قیمتی اور نایاب ہے۔”

سفیر نے حیرت سے پوچھا: “آپ نے یہ کیسے معلوم کیا؟ اور ان کا مطلب کیا ہے؟”
)
وزیر نے مسکرا کر دربار میں بیٹھے تمام لوگوں کو سمجھایا: “یہ تینوں گڑیا اصل میں ہمارے معاشرے کے تین قسم کے انسانوں کی عکاسی کرتی ہیں:

* پہلی گڑیا (ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالنے والے):
یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کی بات سنتے ضرور ہیں، لیکن اسے فوراٌ بھلا دیتے ہیں۔ ان پر کسی نصیحت کا، کسی کے دکھ کا یا کسی اچھی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ بے حس لوگ ہیں۔
* دوسری گڑیا (سنی سنائی باتیں آگے پھیلانے والے):
یہ وہ لوگ ہیں جو آپ سے کوئی راز یا بات سنتے ہیں اور اسے پیٹ میں نہیں رکھ پاتے۔ یہ فوراٌ زبان کے ذریعے وہ بات دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ بھروسے کے لائق نہیں ہوتے اور معاشرے میں فساد پھیلاتے ہیں۔

* تیسری گڑیا (راز کو دل میں چھپانے والے):
یہ وہ مخلص اور اعلیٰ ظرف لوگ ہیں جو آپ کی بات سنتے ہیں، اسے سمجھتے ہیں اور اسے اپنے دل میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ یہ رازدار ہوتے ہیں اور مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہ انسان سب سے قیمتی ہیں۔”

سفیر وزیر کی اس دانا تشریح پر دنگ رہ گیا اور بادشاہ نے وزیر کو بھاری انعام سے نوازا۔

اخلاقی سبق

زندگی میں ہمیشہ تیسری گڑیا کی طرح بنیں—ایک اچھا سننے والا، رازدار اور مخلص انسان۔ لوگوں کے عیبوں اور رازوں کو اپنے دل میں دفن کرنا سیکھیں، کیونکہ معاشرے میں عزت اسی کو ملتی ہے جس کی زبان اور نیت پر لوگوں کو کامل بھروسہ ہو۔

Leave a Reply

NZ's Corner