تین مشورے۔۔۔!

تین مشورے۔۔۔!

مصر کے ایک پرانے شہر قاہرہ میں ایک غریب مگر ذہین نوجوان رہتا تھا جس کا نام جمیل تھا۔ جمیل کے پاس دنیا کی کوئی دولت نہیں تھی، نہ گھر تھا، نہ زمین تھی، نہ اونٹ تھے۔ اس کے پاس صرف ایک چیز تھی، اس کی ماں جو بہت بوڑھی ہو چکی تھی اور جس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھیں۔ وہ اپنی ماں کے لیے روزانہ شہر کی گلیوں میں بھیک مانگتا تھا اور جو کچھ ملتا، اس سے وہ دونوں اپنا پیٹ پالتے تھے۔

ایک دن جمیل نے سنا کہ شہر کے ایک بہت بڑے عالم دین نے لوگوں کے لیے اپنا دروازہ کھول رکھا ہے۔ وہ ہر آنے والے کو ایک اچھا مشورہ دیتے ہیں۔ جمیل نے سوچا کہ کیوں نہ وہ بھی اس عالم کے پاس جائے اور کوئی ایسا مشورہ لے آئے جو اس کی زندگی بدل دے۔

وہ عالم کے گھر پہنچا تو وہاں لوگوں کا بہت ہجوم تھا۔ ہر کوئی اپنی مصیبت لے کر آیا ہوا تھا۔ کوئی بیوہ عورت رونے لگی، کوئی مقروض تاجر چیخنے لگا، کوئی بیمار بچے کی ماں فریاد کرنے لگی۔ جمیل نے صبر سے اپنی باری کا انتظار کیا۔ جب اس کی باری آئی تو اس نے عالم کے سامنے ہاتھ باندھ کر کہا، “حضرت! میں ایک بھکاری ہوں۔ میری ماں بوڑھی اور نابینا ہے۔ میں اسے کھانا کھلاتا ہوں لیکن کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھلا سکا۔ مجھے کوئی ایسا مشورہ دیجیے کہ میری زندگی بدل جائے۔”

عالم نے اسے غور سے دیکھا اور پھر کہا، “بیٹا! میں نے دیکھا ہے کہ لوگ میرے پاس مشورے لینے آتے ہیں لیکن ان پر عمل کوئی نہیں کرتا۔ تم میرے تین مشورے سنو اور اگر ان پر عمل کرو گے تو تمہاری زندگی ضرور بدل جائے گی۔”

جمیل نے کہا، “حضرت! میں ضرور عمل کروں گا۔”

عالم نے کہا، “پہلا مشورہ: جب کبھی تم کسی نئی جگہ جاؤ، تو وہاں کے سب سے غریب آدمی کے ساتھ کھانا کھاؤ۔ دوسرا مشورہ: جب کبھی تم کسی سے کوئی چیز خریدو، تو اسے فروخت کرنے والے کو اس کی پوری قیمت دو، کم نہ کرو۔ تیسرا مشورہ: جب کبھی تم کسی کی مدد کرو، تو اسے کبھی کسی کو مت بتانا۔”

جمیل نے یہ تینوں مشورے اپنے دل میں بٹھا لیے اور وہاں سے چل دیا۔

وہ چلتا چلتا ایک نئے شہر میں جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ بازار میں ایک بوڑھا آدمی اپنی دکان پر بیٹھا رو رہا ہے۔ جمیل نے پوچھا، “بابا جان! آپ کیوں رو رہے ہیں؟”

بوڑھے نے کہا، “میرے پاس کپڑے کا ایک تھان ہے جسے میں نے بہت مہنگے داموں خریدا تھا، لیکن اب کوئی اسے نہیں خرید رہا۔ میری بیوی بیمار ہے، میرے بچے بھوکے ہیں۔ اگر یہ کپڑا نہ بکا تو میں مر جاؤں گا۔”

جمیل نے سوچا کہ عالم کا پہلا مشورہ یہ تھا کہ نئی جگہ کے سب سے غریب آدمی کے ساتھ کھانا کھاؤ۔ اس نے بوڑھے سے کہا، “بابا جان! میں آپ کے ساتھ کھانا کھانا چاہتا ہوں۔”

بوڑھے نے کہا، “میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔”

جمیل نے اپنی جیب کے آخری سکے نکالے اور بازار سے روٹی اور دال خرید کر لایا۔ دونوں نے مل کر کھانا کھایا۔ اس کے بعد جمیل نے بوڑھے سے کہا، “مجھے وہ کپڑا دکھائیے۔”

بوڑھے نے کپڑا دکھایا تو جمیل نے دیکھا کہ وہ بہت عمدہ کپڑا ہے۔ اس نے کہا، “یہ کپڑا مجھے دے دو۔ میں اسے آپ کی مرضی سے زیادہ قیمت دوں گا۔”

بوڑھے نے حیرت سے پوچھا، “تمہارے پاس پیسے کہاں ہیں؟”

جمیل نے کہا، “میرے پاس ابھی پیسے نہیں ہیں، لیکن میں اس کپڑے کو لے کر دوسرے شہر میں جا کر بیچ دوں گا اور آپ کی پوری قیمت لا کر دوں گا۔”

بوڑھے نے بھروسہ کر لیا۔ جمیل کپڑا لے کر ایک اور شہر چلا گیا۔ وہاں اس نے وہ کپڑا ایک امیر تاجر کو بہت اچھے داموں بیچ دیا۔ اب اس کے پاس بہت سارے پیسے تھے۔ وہ واپس بوڑھے کے پاس آیا اور اسے اس کی پوری قیمت دے دی، اور عالم کے دوسرے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اس نے کچھ پیسے کم بھی نہیں کیے۔

بوڑھے نے جب اتنی ساری اشرفیاں دیکھیں تو وہ حیران رہ گیا۔ اس نے جمیل سے پوچھا، “تم نے ایسا کیوں کیا؟”

جمیل نے کہا، “یہ میرے استاد کا مشورہ تھا۔”

بوڑھے نے جمیل کو اپنے ساتھ رہنے کی دعوت دی اور اسے اپنی دکان کا شراکت دار بنا لیا۔ کچھ ہی مہینوں میں جمیل اس شہر کا ایک مشہور تاجر بن گیا۔ وہ اپنی ماں کو بھی اپنے پاس لے آیا اور اس کا علاج کروایا۔ ماں کی آنکھوں کی روشنی بھی واپس آ گئی۔

جمیل نے اپنی ساری زندگی عالم کے تینوں مشوروں پر عمل کیا اور وہ ہمیشہ خوش رہا۔

حاصل سبق

اس کہانی کا حاصل سبق یہ ہے کہ انسان کی اصل کامیابی دولت یا وسائل سے نہیں بلکہ نیک نیتی، دیانت، صبر اور اصولوں پر قائم رہنے سے حاصل ہوتی ہے۔ جمیل نے مشکل حالات کے باوجود سچائی، انصاف اور بھلائی کا راستہ نہیں چھوڑا، اسی لیے اس کی زندگی بدل گئی۔ یہ کہانی سکھاتی ہے کہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنا، حلال اور منصفانہ طریقہ اپنانا اور نیکی کو خاموشی سے انجام دینا انسان کی قسمت میں برکت اور ترقی کا سبب بنتا ہے، اور اصل تبدیلی انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner