جس کا کام اسکو ساجھے

جس کا کام اسکو ساجھے

ایک سرسبز و شاداب گاؤں میں ایک کسان اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ کسان دن بھر کھیتوں میں محنت کرتا، صبح سویرے گھر سے نکلتا اور شام ڈھلے تھکا ہارا واپس آتا۔

وہ واقعی محنتی تھا، مگر اس کے دل میں ایک غلط فہمی گھر کر چکی تھی۔

اسے لگتا تھا کہ اس سے زیادہ محنت دنیا میں کوئی نہیں کرتا۔

ایک دن شام کو وہ گھر واپس آیا تو اس نے اپنی بیوی کو گھر کے کاموں میں مصروف دیکھا۔ نہ جانے کیوں اس دن اس کے دل میں اپنی بیوی کی محنت کو کمتر سمجھنے کا خیال آیا۔

وہ بولا:

“میں صبح سے شام تک دھوپ میں کھیتوں میں کام کرتا ہوں۔ مٹی میں پسینہ بہاتا ہوں، فصلیں اگاتا ہوں اور گھر کا خرچ چلاتا ہوں۔ تم تو سارا دن گھر میں رہتی ہو۔ آخر تم ایسا کون سا مشکل کام کرتی ہو؟”

بیوی کے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رک گئے۔

اسے شوہر کی بات سے دکھ تو ہوا، مگر اس نے بحث نہیں کی۔ وہ خاموشی سے مسکرائی اور بولی:

“اچھا، اگر تمہیں واقعی لگتا ہے کہ گھر کا کام آسان ہے، تو کل ہم ایک دن کے لیے اپنے کام بدل لیتے ہیں۔”

کسان نے فوراً کہا:

“مجھے منظور ہے! کل تم کھیت میں جانا اور میں گھر کے سارے کام کر لوں گا۔ دیکھتا ہوں گھر کے کام میں کتنی محنت لگتی ہے!”

بیوی نے صرف اتنا کہا:

“ٹھیک ہے، لیکن کل تمہیں میرے تمام کام کرنے ہوں گے۔ کوئی کام ادھورا نہیں چھوڑنا۔”

کسان ہنس پڑا۔

اسے یقین تھا کہ چند گھنٹوں میں گھر کے سارے کام ختم کر کے وہ آرام سے بیٹھ جائے گا۔

اگلی صبح بیوی کسان کے کپڑے پہن کر کھیت کی طرف روانہ ہو گئی۔

کسان نے بڑے اعتماد سے آستینیں چڑھائیں اور کہا:

“آج تو میں تمہیں دکھاؤں گا کہ گھر کا کام کتنا آسان ہے!”

سب سے پہلے وہ گائے کا دودھ نکالنے بیٹھا۔

لیکن جیسے ہی اس نے دودھ کی بالٹی آگے کی، گائے نے اچانک دم ہلائی اور لات مار دی۔

**چھپاک!**

دودھ کی پوری بالٹی زمین پر جا گری۔

کسان نے گائے کو دیکھا اور بڑبڑایا:

ابھی وہ سنبھلا ہی تھا کہ بکریاں شور مچانے لگیں۔

وہ چارہ لے کر باڑے میں پہنچا تو ایک بکری ادھر بھاگی اور دوسری اُدھر۔

انہیں روکنے کی کوشش میں کسان کا سر باڑے کی لکڑی سے جا ٹکرایا۔

“اوہو!”

وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

مگر کام ابھی ختم نہیں ہوئے تھے۔

گھر میں برتنوں کا ڈھیر اس کا انتظار کر رہا تھا۔

اس نے پہلا برتن اٹھایا، پھر دوسرا، پھر تیسرا…

کچھ ہی دیر میں اس نے پریشان ہو کر برتنوں کے ڈھیر کو دیکھا اور کہا:

“یہ اتنے برتن روز کون دھوتا ہے؟!”

پھر مرغیوں کو دانہ ڈالنے کی باری آئی۔

جیسے ہی اس نے دانہ زمین پر ڈالا، مرغیاں اِدھر اُدھر بھاگنے لگیں۔

کسان انہیں پکڑنے کے لیے ایک طرف دوڑا تو دوسری طرف سے مرغیاں نکل گئیں۔

وہ ایک کو پکڑنے جاتا تو تین اور بھاگ جاتیں۔

کچھ دیر بعد کسان ہانپتے ہوئے چارپائی پر بیٹھ گیا۔

اسے اچانک یاد آیا کہ ابھی کپڑے دھونے ہیں، گھر صاف کرنا ہے، کھانا تیار کرنا ہے اور کئی دوسرے کام بھی باقی ہیں۔

وہ حیران تھا کہ اس کی بیوی یہ سب کام روزانہ کیسے کر لیتی ہے؟

دوسری طرف بیوی کھیت میں مسلسل کام کر رہی تھی۔

دھوپ تیز تھی۔

وہ کبھی فصلوں کی دیکھ بھال کرتی، کبھی گھاس صاف کرتی اور کبھی پانی کا انتظام کرتی۔

شام تک اس کے ہاتھ تھک چکے تھے، مگر اس نے کام مکمل کیا اور گھر کی طرف چل پڑی۔

جب وہ گھر پہنچی تو اس نے دیکھا کہ کسان ایک چارپائی پر تھکا ہارا بیٹھا ہے۔

کپڑے بکھرے ہوئے تھے۔

کچھ برتن ابھی تک دھلنے باقی تھے۔

مرغیاں ادھر اُدھر گھوم رہی تھیں اور گھر کے کئی کام ابھی ادھورے تھے۔

بیوی نے شوہر کو دیکھا تو کچھ نہیں کہا۔

کسان نے خود ہی نظریں جھکا لیں۔

کچھ لمحے خاموشی رہی۔

پھر کسان دھیمی آواز میں بولا:

“آج مجھے ایک بہت بڑی بات سمجھ آئی ہے۔”

بیوی خاموش رہی۔

کسان نے کہا:

“میں سمجھتا تھا کہ صرف میں محنت کرتا ہوں اور تم گھر میں آرام کرتی ہو۔ لیکن آج چند گھنٹوں نے میری سوچ بدل دی۔”

وہ رک کر بولا:

“میں نے کبھی یہ سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ تم روزانہ کتنے کام کرتی ہو۔”

بیوی مسکرا کر بولی:

“ہر کام اپنی جگہ مشکل ہوتا ہے۔ بس ہمیں دوسروں کی محنت اس لیے آسان نظر آتی ہے کیونکہ ہم خود وہ کام نہیں کر رہے ہوتے۔”

کسان نے سر ہلایا۔

“تم بالکل ٹھیک کہتی ہو۔ آج کے بعد میں کبھی تمہاری محنت کو معمولی نہیں سمجھوں گا۔”

اس دن کے بعد کسان اور اس کی بیوی میں ایک خوبصورت تبدیلی آ گئی۔

کسان کھیت سے واپس آتا تو گھر کے کاموں میں بیوی کا ہاتھ بٹاتا۔

اور بیوی بھی کسان کی دن بھر کی تھکن کو سمجھنے لگی۔

دونوں نے جان لیا تھا کہ گھر ایک شخص کی محنت سے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی قدر اور تعاون سے چلتا ہے۔

اور یوں ایک دن کے کام بدلنے نے ان کے درمیان وہ سمجھ پیدا کر دی جو شاید برسوں کی بحث بھی پیدا نہ کر سکتی۔

Leave a Reply

NZ's Corner