جعلی پیر صاحب کی کرامات!

جعلی پیر صاحب کی کرامات!

ایک جعلی پیر صاحب اپنے مریدوں کے سامنے بڑے فخر سے اپنی کرامتیں بیان کر رہے تھے۔

پیر صاحب بولے:

“میں صحرا میں جا رہا تھا…

چلتے چلتے دو دن گزر گئے۔ اچانک بھوک لگی تو میں نے ہاتھ بڑھایا اور اُڑتا ہوا پرندہ پکڑ لیا!

پھر سورج کی روشنی پر اسے بھونا  اور مزے سے کھا لیا!”

مرید:


پیر صاحب مزید جوش میں آگئے:

“پھر نماز کا وقت ہوا، مگر پانی ختم ہو چکا تھا۔

میں نے زمین سے مٹھی بھر ریت اٹھائی

اور اچانک وہاں سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا!

مرید:


پیر صاحب نے داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور بولے:

“میں نے وضو کیا، نماز پڑھی اور آرام کرنے لگا۔

جب دوبارہ پانی لیا تو جہاں جہاں پانی کے قطرے گرے وہاں گلاب کے پھول کھل گئے!

مرید:


اب تو پیر صاحب پوری فارم میں تھے…

بولے:

“پھر میں نے چشمے میں پانی ڈالا تو پانی کے قطرے زمین پر گرنے کے بجائے کالے رنگ کے طوطے بن گئے اور درخت پر جا بیٹھے!” 🦜

اب تک مرید وجد میں جھوم رہے تھے۔

لیکن اچانک ایک مرید نے ہاتھ کھڑا کر دیا۔

اور بولا:

“پیر صاحب! کالے رنگ کا طوطا؟”

بس پھر کیا تھا…

پیر صاحب نے گھور کر اس کی طرف دیکھا۔

اس سے پہلے کہ ماحول خراب ہوتا، ساتھ بیٹھا دوسرا مرید فوراً بولا:



“اوئے چپ کر!

یہاں باقی سارے کام تو بڑے سائنس کے اصولوں کے مطابق ہو رہے ہیں…

اور تجھے صرف کالے طوطے پر شک آ رہا ہے؟!”


—————————————–
اور مزے مزے کے لطیفے اور پوسٹ پڑھنے کے لیے میرے اکاؤنٹ کو فالو کریں شکریہ

Leave a Reply

NZ's Corner