جھوٹے کی کہانی

                 جھوٹے کی کہانی

ایک رئیس یا شاید کوئی نواب جو کسی دور و دراز ملک سے واپس آیا تھا، دیہات میں اپنے دوست کے ساتھ سیر کر رہا تھا اور جھوٹے سچے قصے سنا رہا تھا کہ میں نے فلاں چیز دیکھی اور فلاں جگہ گیا۔ کہنے لگا:
“نہیں بھائی، اب ایسے عجائبات کہاں دیکھنے کو ملیں گے! یہ تمہارا ملک بھلا کوئی رہنے کی جگہ ہے؟ کبھی تو اتنی سردی، کبھی اتنی گرمی کہ خدا کی پناہ! کبھی سورج ہے کہ مہینوں بادلوں میں منہ چھپائے بیٹھا رہتا ہے، اور کبھی ایسا تیز چمکتا ہے کہ آنکھیں چکاچوند ہو جاتی ہیں۔ وہاں دیکھو تو بس جنت کا مزہ ہے! اسے یاد کرنے سے بھی دل کو فرحت ہوتی ہے۔ نہ لحاف کی ضرورت، نہ لالٹین کی، نہ کبھی رات کا اندھیرا؛ پورا سال بہار کا دن معلوم ہوتا ہے۔
وہاں نہ کوئی ہل چلاتاتا ہے نہ محنت کرتا ہے، اور اس پر دیکھو کیا کیا چیزیں پیدا ہوتی اور پھولتی پھولتی ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے روم میں ایک کھیرا دیکھا تھا، ابھی تک ویسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ تم یقین نہیں کرو گے مگر میں کہتا ہوں کہ خدا کی قسم وہ پہاڑ کے برابر تھا!”
دوست نے جواب دیا:
“سبحان اللہ! عجب ہی چیز ہوگی، لیکن یوں تو ساری دنیا عجائبات سے بھری ہے، ہم خود ہی غور نہیں کرتے۔ ابھی تھوڑی دیر میں ہم ایک ایسی چیز دیکھنے والے ہیں کہ میں شرط باندھنے کو تیار ہوں کہ ایسی چیز تمہارے دیکھنے میں بھی نہ آئی ہوگی۔ وہ پل دیکھو، جس پر سے ہمارا راستہ گزرتا ہے، یوں تو وہ ایک بہت معمولی سا پل ہے، مگر اس میں یہ حیرت انگیز خاصیت ہے کہ کوئی جھوٹا آدمی اس پر سے کبھی گزر نہیں سکتا۔ آدمی دور تک پہنچتا نہیں کہ ٹھوکر کھاتا ہے اور دھڑام سے پانی میں گر جاتا ہے۔ سچا ہو تو چاہے گھوڑا گاڑی لے کر بھی گزر جائے، کچھ نہیں ہوتا۔ اچھا! اور دریا کیسا ہے؟”
دوست نے کہا:
“نادی ہے، کوئی معمولی نالا تو ہے نہیں۔ تم خود سمجھ لو، مگر خیال کرو، دنیا میں کیا کچھ نہیں ہوتا۔ تم نے جس کھیرے کا ذکر کیا ہے وہ بے شک بڑا تو ضرور تھا، کیا بتایا تھا تم نے، پہاڑ جیسا؟”
“نہیں، پہاڑ تو نہیں، مگر گھر کے برابر یقیناً ہوگا!”
“پھر بھی ایسی بات ماننا مشکل ہے۔ لیکن ہمارا پل، جس پر سے ہم ابھی گزرنے والے ہیں، وہ بھی کچھ کم نہیں کہ وہ جھوٹے کو اپنے اوپر سے جانے نہیں دیتا۔ سب ہی جانتے ہیں، ابھی تھوڑے دن ہوئے دو اخبار والے اور ایک درزی اسی پر سے گر کر ڈوب گئے۔ پھر بھی اگر تمہارا کہنا صحیح ہے تو وہ مکان کے برابر کھیرا جو تم نے دیکھا تھا، عجیب ہی ہوگا ہے نا؟”
“نہیں، اس میں کوئی ایسی تعجب کی بات نہیں۔ دیکھو، پوری پوری بات بھی تو معلوم ہونی چاہیے۔ ہم یہ نہ سمجھو کہ ہر جگہ ویسے ہی بڑے بڑے مکان ہوتے ہیں جیسے ہمارے یہاں۔ وہاں جانتے ہو مکان کیسے ہوتے ہیں؟ بس اتنے بڑے کہ ان میں دو آدمی گھس سکتے ہیں، اور وہ بھی بڑی مشکل سے اٹھ بیٹھ سکتے ہیں۔”
“خیر، اگر ایسا بھی ہے تو اس کھیرے کو، جس میں دو آدمی سما جائیں، عجائباتِ قدرت میں سمجھنا کون سی گناہ کی بات ہے۔ ہمارا پل بھی ایسا ہے کہ چوتھے پانچویں قدم ہی پر جھوٹے کو دریا میں دھکیل دیتا ہے۔ تمہارا مکان کے برابر کھیرا…”
یہاں پر جھوٹے نے بات کاٹ کر کہا:
“بھئی سنو تو! آخر یہ کون سی زبردستی ہے کہ پل ہی کے اوپر سے جائیں؟ آؤ، کہیں اتھلا ہو تو وہیں سے نکل چلیں!”
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Leave a Reply

NZ's Corner