ایک چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ پہاڑی چراگاہوں میں رہتا تھا۔ ایک رات اسے ایک نہایت خوبصورت اجنبی ملا جس نے کہا کہ اگر وہ اپنی ایک بھیڑ ہر مہینے اسے بغیر کسی کو بتائے دے دیا کرے، تو وہ اس کے باقی ریوڑ کو ہر بیماری اور بھیڑیے سے محفوظ رکھے گا۔ لالچ میں آ کر چرواہے نے ہاں کر دی، اور کچھ عرصہ اس کا ریوڑ واقعی خوب پھلتا پھولتا رہا۔
مگر ایک دن چرواہے کی ملاقات ایک بزرگ عالم سے ہوئی جسے اس نے اپنی “برکت” کا راز فخر سے سنایا۔ عالم کا چہرہ سن کر متفکر ہو گیا۔ اس نے کہا: “بیٹا، تم نے کسی نامعلوم مخلوق سے خفیہ معاہدہ کر کے اپنا رزق اس کے حوالے کر دیا ہے، جو کھلا شرک اور دھوکہ ہے۔ ظاہری برکت دراصل تمہیں مزید دلدل میں دھکیلنے کی چال ہے۔” عالم نے چرواہے کو سکھایا کہ وہ اس اجنبی سے معاہدہ توڑنے کا اعلان کرے اور اللہ کے سوا کسی سے مدد نہ مانگے۔
اگلی ملاقات میں چرواہے نے ہمت کر کے اجنبی سے کہا: “میں اللہ کے سوا کسی سے کوئی معاہدہ نہیں رکھنا چاہتا، ہمارا سودا ختم۔” اجنبی غصے سے چیخا اور غائب ہو گیا۔ اگلے کچھ ماہ مشکل رہے، بیماری اور نقصان بھی ہوا، مگر چرواہے نے صبر اور نماز کا دامن نہ چھوڑا، اور رفتہ رفتہ اس کا رزق اللہ کے فضل سے پہلے سے بھی بہتر ہو گیا — اس بار بغیر کسی خفیہ قیمت کے۔
اخلاقی سبق: جو برکت یا فائدہ کسی مشکوک یا پوشیدہ ذریعے سے ملے، اس کی قیمت اکثر ایمان کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ حقیقی اور پائیدار رزق صرف اللہ پر بھروسے اور حلال ذرائع سے ہی آتا ہے۔
حوالہ/مصنف: روایتی عوامی حکایت، پہاڑی چرواہا برادری کی زبانی روایت پر مبنی (لوک ادب، مستند حدیث نہیں)۔
