میکسیکو کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیڈرو نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ بہت غریب تھا۔ اس کے پاس جوتے نہیں تھے، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، اس کے پاس کھانے کو اکثر صرف ایک روٹی ہوتی تھی۔ لیکن پیڈرو کے پاس ایک دولت تھی اس کی ماں کی محبت۔
پیڈرو کی ماں بہت بوڑھی تھی۔ اس کی آنکھیں کمزور تھیں، اس کے ہاتھ کانپتے تھے، لیکن وہ ہر روز پیڈرو کے لیے روٹی پکاتی، اس کے سر پر ہاتھ رکھتی، اور کہتی: “بیٹا، کبھی ہار مت ماننا۔”
ایک دن پیڈرو نے ماں سے کہا: “ماں، میں شہر جا رہا ہوں۔ وہاں کام ملے گا، پیسے ملیں گے۔ میں تمہارے لیے دوائی لاؤں گا، تمہیں اچھے کپڑے دلوں گا۔”
ماں نے کہا: “جا بیٹا، لیکن یاد رکھنا جو کچھ بھی ہو، ایماندار رہنا۔”
پیڈرو شہر پہنچا۔ اس نے بہت کام کیا صبح سے رات تک محنت کی۔ اس نے پتھر توڑے، سامان ڈھویا، گلیاں صاف کیں۔ لیکن اسے بہت کم پیسے ملتے تھے۔
ایک دن وہ بہت تھکا ہوا تھا۔ وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور اس کی آنکھ لگ گئی۔
اس نے خواب دیکھا۔
خواب میں ایک بوڑھا آدمی آیا۔ اس نے کہا: “پیڈرو، تم بہت محنت کرتے ہو، لیکن تمہیں کچھ نہیں ملتا۔ کیوں؟ کیونکہ تم وہاں محنت کر رہے ہو جہاں کوئی نہیں دیکھتا۔ جاؤ، اس پہاڑ کے دوسری طرف جاؤ۔ وہاں ایک پرانا چرچ ہے۔ اس چرچ کے پیچھے ایک درخت ہے۔ اس درخت کے نیچے دفن ہے خزانہ۔”
پیڈرو کی آنکھ کھلی۔ وہ اچھل کر کھڑا ہوا۔ اس نے سوچا: “خزانہ! میں امیر ہو جاؤں گا! ماں کی دوائی لاؤں گا!”
وہ پہاڑ کے دوسری طرف چل دیا۔
وہ چلتا رہا، چلتا رہا۔ کئی دن لگ گئے۔ آخر اسے وہ پرانا چرچ ملا۔ چرچ کھنڈر بن چکا تھا، دیواریں گر رہی تھیں، دروازے ٹوٹے ہوئے تھے۔
اس نے چرچ کے پیچھے جاکر دیکھا وہاں ایک بہت بڑا درخت تھا۔ اس نے درخت کے نیچے کھودنا شروع کر دیا۔
وہ کھودتا رہا، کھودتا رہا۔ شام ہو گئی، رات ہو گئی، صبح ہو گئی۔ اس نے گڑھا بہت گہرا کھود لیا۔ لیکن اسے کچھ نہیں ملا۔ نہ سونا، نہ چاندی، نہ ہیرے۔
وہ تھک کر گڑھے میں بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
اتنے میں وہ بوڑھا آدمی پھر آیا خواب میں نہیں، سچ میں۔ وہ بوڑھا اس کے پاس کھڑا تھا۔
پیڈرو نے کہا: “تم نے مجھ سے جھوٹ بولا۔ یہاں کوئی خزانہ نہیں ہے۔”
بوڑھے نے کہا: “خزانہ ہے، پیڈرو۔ لیکن تم نے اسے پہچانا نہیں۔”
بوڑھا اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے کہا: “پیڈرو، تم نے کھودتے وقت کیا دیکھا؟”
پیڈرو نے کہا: “مٹی، پتھر، جڑیں، کیڑے۔”
بوڑھے نے کہا: “اور کچھ نہیں؟”
پیڈرو نے سوچا۔ پھر بولا: “ہاں، ایک بار مجھے ایک پرانا سکہ ملا، لیکن وہ زنگ آلود تھا۔ میں نے پھینک دیا۔”
بوڑھے نے کہا: “وہ سکہ تم نے کیوں پھینک دیا؟”
پیڈرو نے کہا: “وہ تو بے کار تھا۔”
بوڑھا ہنسا۔ “پیڈرو، وہ سکہ پچاس سال پہلے کا تھا۔ وہ آج ہزاروں میں بیچا جاتا۔ تم نے خزانہ پھینک دیا۔”
پیڈرو کے منہ سے آہ نکلی۔
بوڑھے نے کہا: “لیکن یہ تمہاری اصل غلطی نہیں ہے۔ تمہاری اصل غلطی یہ ہے کہ تم نے خزانہ ڈھونڈنے میں اپنا سارا وقت لگا دیا۔ تم نے راستے میں جو کچھ دیکھا، اسے نظر انداز کر دیا۔”
پیڈرو نے پوچھا: “مطلب؟”
بوڑھے نے کہا: “یہاں آتے ہوئے تم نے ایک باغ دیکھا۔ وہاں پھل لٹک رہے تھے۔ تم نے توڑ کر نہیں کھائے۔ تم نے ایک ندی دیکھی۔ اس میں مچھلیاں تھیں۔ تم نے پکڑ کر نہیں کھائی۔ تم نے ایک گاؤں دیکھا۔ وہاں لوگ کام مانگ رہے تھے۔ تم نے رک کر نہیں کیا۔ تم بس چلتے رہے — خزانے کے پیچھے۔”
پیڈرو خاموش رہا۔
بوڑھے نے کہا: “پیڈرو، خزانہ یہ نہیں کہ تمہیں زمین میں کچھ ملے۔ خزانہ یہ ہے کہ تم راستے میں جو ملے، اسے پہچانو۔ پھل خزانہ ہے، مچھلی خزانہ ہے، کام خزانہ ہے۔ تم نے سب پھینک دیا۔”
پیڈرو نے سر جھکا لیا۔
بوڑھے نے کہا: “اب جاؤ۔ واپس جاؤ۔ اس بار راستے میں جو ملے، اسے پہچاننا۔”
پیڈرو واپس چل دیا۔
اس نے پھل توڑ کر کھائے۔ اس نے مچھلی پکڑ کر کھائی۔ اس نے گاؤں میں رک کر کام کیا۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس کی جیب میں پیسے تھے، اس کے پیٹ میں کھانا تھا، اور اس کے دل میں سکون تھا۔
ماں نے پوچھا: “خزانہ ملا؟”
پیڈرو نے کہا: “ہاں ماں، ملا۔”
اس نے جیب سے پیسے نکالے۔ “یہ لے ماں، دوائی لے۔”
ماں نے کہا: “یہ تو بہت کم ہیں۔”
پیڈرو نے کہا: “ماں، میں نے سیکھ لیا۔ خزانہ ڈھونڈنے کے چکر میں میں نے راستے کی نعمتیں پھینک دی تھیں۔ اب میں ہر دن کو خزانہ سمجھوں گا۔”
ماں مسکرائی۔ “اب تم سمجھ گئے۔”
اخلاقی سبق:
یہ کہانی ہمیں تین بڑے سبق دیتی ہے:
- خزانہ دور نہیں، قریب ہے ہم اکثر بڑی چیزوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور چھوٹی نعمتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
- راستہ ہی منزل ہے جو راستے میں ملے، اسے پہچانو۔ پھل، پانی، کام، لوگ یہ سب خزانے ہیں۔
- محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی پیڈرو کو زمین میں خزانہ نہیں ملا، لیکن راستے میں اس نے جو سیکھا، وہ سب سے بڑا خزانہ تھا۔
حوالہ:
یہ کہانی میکسیکو کی لوک کہانیوں میں سے ہے۔ اسے “El Sueño de Pedro” (پیڈرو کا خواب) کہتے ہیں۔
میکسیکو کی ثقافت میں خوابوں کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ خواب ہمیں راستہ دکھاتے ہیں، لیکن حقیقی خزانہ راستے میں چھپا ہوتا ہے۔
