دو گھڑےایک گاؤں میں ایک پانی بھرنے والا روزانہ ندی سے دو بڑے گھڑوں میں پانی لا کر اپنے مالِک کے گھر پہنچاتا تھا۔ وہ ان گھڑوں کو ایک لمبی لاٹھی کے دونوں سروں پر باندھ کر اپنے کندھے پر اٹھاتا تھا۔ان دو گھڑوں میں سے ایک بالکل ٹھیک تھا اور ہمیشہ پورا پانی مالِک کے گھر تک پہنچاتا تھا۔ لیکن دوسرا گھڑا ایک جگہ سے تھوڑا سا ٹوٹا ہوا (کراک) تھا۔ ندی سے مالِک کے گھر تک کا راستہ طویل تھا، اس لیے گھر پہنچتے پہنچتے اس ٹوٹے ہوئے گھڑے سے آدھا پانی راستے میں ہی بہہ جاتا اور اس میں صرف آدھا پانی ہی بچتا۔دو سال تک یہی سلسلہ روزانہ چلتا رہا۔ پورا گھڑا اپنی کارکردگی پر بہت خوش تھا، لیکن ٹوٹا ہوا گھڑا اپنی اس خامی پر اندر ہی اندر بہت شرمندہ رہتا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر پا رہا۔ایک دن، ندی کے کنارے ٹوٹے ہوئے گھڑے سے رہا نہ گیا اور اس نے پانی بھرنے والے سے کہا:”میں خود پر بہت شرمندہ ہوں اور تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔”پانی بھرنے والے نے حیرت سے پوچھا، “تم کس بات پر شرمندہ ہو؟”گھڑے نے اداسی سے کہا، “میری اس خامی کی وجہ سے راستے میں پانی بہہ جاتا ہے اور تمہاری اتنی محنت کے باوجود مالِک کو پورا پانی نہیں مل پاتا۔”پانی بھرنے والے کو گھڑے کی بات سن کر دکھ ہوا، لیکن اس نے مسکرا کر کہا:”جب ہم واپس مالِک کے گھر جائیں گے، تو تم راستے کے کنارے لگے خوبصورت پھولوں کو غور سے دیکھنا۔”جب وہ واپس جا رہے تھے، تو ٹوٹے ہوئے گھڑے نے دیکھا کہ راستے کی ایک سائیڈ پر بہت ہی خوبصورت اور رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر اس کی اداسی کچھ کم ہوئی، لیکن گھر پہنچنے پر جب آدھا پانی پھر بہہ چکا تھا، تو وہ دوبارہ اداس ہو گیا اور معافی مانگنے لگا۔پانی بھرنے والے نے نرمی سے کہا:”کیا تم نے غور کیا کہ پھول صرف راستے کی اسی سائیڈ پر تھے جس طرف تم ہوتے ہو؟ دوسری سائیڈ پر کوئی پھول نہیں تھا۔”اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا:”میں تمہاری اس خامی کو ہمیشہ سے جانتا تھا، اس لیے میں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ میں نے راستے کی تمہاری والی سائیڈ پر پھولوں کے بیج بو دیے تھے۔ روزانہ جب ہم ندی سے واپس آتے، تو تم نادانستہ طور پر ان بیجوں کو پانی دیتے رہے۔ ان دو سالوں میں، میں نے ان خوبصورت پھولوں کو توڑ کر اپنے مالِک کے گھر کو سجایا۔ اگر تم ایسے نہ ہوتے جیسے تم ہو، تو یہ خوبصورتی کبھی پیدا ہی نہ ہوتی۔”
💡 کہانی کا اخلاقی سبقہم میں سے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خامی یا کمزوری ہوتی ہے، لیکن یہی خامیاں اور منفرد خصوصیات ہمیں ایک دوسرے سے مختلف اور خاص بناتی ہیں۔ہمیں دوسروں کی یا اپنی خامیوں کو دیکھ کر مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان خامیوں کے ساتھ جینے اور ان سے کوئی مثبت چیز پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کبھی کبھی ہماری سب سے بڑی کمزوری بھی کسی دوسرے کے لیے بہت بڑی نعمت ثابت ہو سکتی ہے
