ایک برفانی گاؤں میں ایک غریب بڑھئی نے ایک زخمی سارس کو شکاری کے جال سے آزاد کروایا۔ کچھ دن بعد ایک برفانی رات میں ایک پراسرار عورت اس کے دروازے پر پناہ مانگنے آئی۔ بڑھئی نے اسے اندر بلایا، رفتہ رفتہ محبت ہوئی اور دونوں نے شادی کر لی۔ عورت نے کہا کہ وہ اس کے لیے ایک قیمتی کپڑا بُنے گی، مگر شرط یہ رکھی کہ وہ بُنائی کے دوران کبھی کمرے میں نہ جھانکے۔ بڑھئی نے وعدہ کیا۔ عورت نے ایک نہایت خوبصورت، چاندی جیسا چمکتا کپڑا بُن کر دیا جسے بیچ کر ان کی غربت دور ہونے لگی۔
یہ سلسلہ دو بار مزید چلا، مگر ہر بار عورت پہلے سے زیادہ کمزور ہوتی گئی۔ بڑھئی، لالچ اور تجسس میں گھر کر، تیسری بار خود کو روک نہ سکا اور دبے پاؤں کمرے میں جھانک لیا۔ اندر عورت نہیں بلکہ وہی سارس تھا، جو اپنے ہی جسم سے آخری پر نوچ کر دھاگے میں بُن رہا تھا۔ عورت نے پلٹ کر دیکھا، دکھ بھری نظروں سے کہا کہ چونکہ اس کا راز کھل گیا ہے، اسے واپس جانا ہوگا — اور سارس بن کر ہمیشہ کے لیے اڑ گئی۔
اخلاقی سبق: جس رشتے کی بنیاد قربانی اور اعتماد پر ہو، اسے بے صبری اور لالچ سے مت توڑیں۔ کچھ نعمتیں صرف اسی وقت تک قائم رہتی ہیں جب تک ہم ان کی حدود کا احترام کریں۔
حوالہ/مصنف: روایتی جاپانی لوک کہانی “Tsuru no Ongaeshi” — Fairytalez.com، مصنف نامعلوم (صدیوں پرانی زبانی روایت)۔
