سایۂ دعا

سایۂ دعا

ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کھجور کا درخت تھا۔ اس کے نیچے روز ایک شخص آ کر بیٹھتا، قرآن کی تلاوت کرتا اور خاموشی سے لوگوں کے لیے دعا مانگتا۔ وہ کسی سے اپنی نیکیوں کا ذکر نہ کرتا، نہ کسی سے بدلے کی امید رکھتا۔

گاؤں کے کچھ لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔

“صرف دعا سے کیا ہوتا ہے؟ اگر واقعی نیک ہو تو لوگوں کو دکھائی بھی دے۔”

وہ صرف مسکرا دیتا۔

ایک سال شدید خشک سالی آ گئی۔ کھیت سوکھ گئے، کنویں خشک ہونے لگے اور لوگوں کے دلوں میں مایوسی اترنے لگی۔ ہر شخص اپنی فکر میں تھا۔

اسی دوران گاؤں کا ایک نوجوان، جو ہمیشہ اس بوڑھے پر ہنسا کرتا تھا، سخت بیمار پڑ گیا۔ اس کے والدین ہر ممکن علاج کروا چکے مگر سکون نہ ملا۔ آخرکار وہ اسی بوڑھے کے پاس آئے۔

بوڑھے نے ان کی بات خاموشی سے سنی، پھر ہاتھ اٹھا کر کہا:

“اے اللہ! اگر میرے کسی چھپے ہوئے عمل میں تیری رضا ہے تو اس کے صدقے اس نوجوان پر اپنا کرم فرما۔”

اس نے کسی معجزے کا دعویٰ نہ کیا، صرف اللہ سے امید باندھی۔

چند دن بعد نوجوان کی طبیعت سنبھلنے لگی۔ اس کے دل میں عجیب سی نرمی پیدا ہو گئی۔ وہ بوڑھے کے پاس آیا، اس کے قدموں میں بیٹھ گیا اور بولا:

“میں سمجھتا تھا کہ اصل طاقت دولت، شہرت اور لوگوں کی تعریف میں ہے، مگر آج جانا کہ سب سے مضبوط سہارا اللہ سے تعلق ہے۔”

بوڑھے نے محبت سے جواب دیا:

“بیٹا! اللہ کے ہاں وہ عمل سب سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے جو لوگوں کی نظروں سے چھپا ہو، مگر اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہو۔ بندہ جب صرف اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔”

اس دن کے بعد گاؤں والوں نے ایک نئی بات سیکھی۔ انہوں نے اپنی نیکیوں کا شور مچانا چھوڑ دیا، دعا، استغفار اور اخلاص کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا۔ آہستہ آہستہ گاؤں میں بارش بھی ہوئی، کھیت بھی لہلہا اٹھے، مگر سب سے بڑی بہار لوگوں کے دلوں میں آئی۔

سبق:
اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ نیکی سب سے زیادہ قیمتی ہے جو اخلاص کے ساتھ صرف اس کی رضا کے لیے کی جائے۔ انسان کی شہرت نہیں، بلکہ اس کا خالص دل اور سچی دعا اللہ کے ہاں قبولیت کا سبب بنتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner