سب سے بڑا بے وقوف۔۔۔🙂!

سب سے بڑا بے وقوف۔۔۔🙂!

ایک بادشاہ نے اعلان کروایا کہ“میری سلطنت میں جو سب سے بڑا بے وقوف ہے، اسے میرے دربار میں پیش کیا جائے۔”

بادشاہ کا حکم تھا، اس پر عمل ہوا اور بے وقوف کے نام پر سینکڑوں لوگ دربار میں پیش کر دیے گئے۔ بادشاہ نے سب کا امتحان لیا اور آخرکار فائنل راؤنڈ میں ایک شخص کو “کامیاب بے وقوف” قرار دے دیا۔

بادشاہ نے اپنے گلے سے ایک قیمتی ہار اتارا اور اس شخص کے گلے میں ڈال دیا۔ وہ شخص یہ عجیب سا اعزاز لے کر اپنے گھر واپس چلا گیا۔

کچھ عرصے بعد اس کے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ سے دوبارہ ملاقات کی جائے۔
جب وہ محل پہنچا تو معلوم ہوا کہ بادشاہ مرضِ الموت میں ہے اور اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہا ہے۔

بادشاہ کو اطلاع دی گئی تو اس نے ملاقات کی اجازت دے دی۔

وہ شخص حاضر ہوا اور بولا:
“بادشاہ سلامت! آپ لیٹے ہوئے کیوں ہیں؟”

بادشاہ مسکرایا اور بولا:
“میں اب اٹھ نہیں سکتا… کیونکہ میں ایک ایسے سفر پر جا رہا ہوں جہاں سے واپسی نہیں ہوگی۔ اور وہاں جانے کے لیے لیٹنا ضروری ہے۔”

یہ سن کر وہ شخص حیران ہو گیا اور بولا:
“واپسی نہیں ہوگی؟ کیا ہمیشہ وہیں رہنا ہوگا؟”

بادشاہ نے بے بسی سے کہا:
“ہاں… ہمیشہ وہیں رہنا ہے۔”

اس شخص نے سادگی سے پوچھا:
“تو پھر آپ نے وہاں کے لیے یقیناً بڑا محل، بڑے باغات، بہت سے غلام اور آرام و آسائش کا سامان پہلے ہی بھیج دیا ہوگا؟”

یہ سنتے ہی بادشاہ چیخ مار کر رو پڑا۔

وہ شخص حیرت سے بادشاہ کو دیکھنے لگا، اسے سمجھ نہ آئی کہ بادشاہ کیوں رو رہا ہے۔

بادشاہ روتے ہوئے بولا:
“نہیں… میں نے وہاں ایک جھونپڑی تک بھی نہیں بنائی۔”

وہ شخص بولا:
“یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ تو سب سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ جب آپ کو معلوم ہے کہ ہمیشہ وہیں رہنا ہے تو وہاں کے لیے انتظام ضرور کیا ہوگا!”

بادشاہ نے درد بھرے لہجے میں کہا:
“افسوس… صد افسوس! میں نے وہاں کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا۔”

یہ سن کر وہ شخص آہستہ سے کھڑا ہوا، اپنے گلے سے وہ قیمتی ہار اتارا اور بادشاہ کے گلے میں ڈال دیا اور بولا:

“تو پھر حضور… اس ہار کے اصل حق دار آپ مجھ سے زیادہ ہیں۔”

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے۔ سمجھدار وہی ہے جو اس ہمیشہ رہنے والی زندگی کے لیے تیاری کرے۔

Leave a Reply

NZ's Corner