سب سے بڑی طاقت

سب سے بڑی طاقت

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، اتنی پرانی کہ جب درخت ابھی جوان تھے اور پہاڑ ابھی بوڑھے نہیں ہوئے تھے۔

غانا کی سرزمین پر ایک گاؤں تھا جس کا نام تھا “کوفی آنا” یعنی وہ جگہ جہاں روحیں آرام کرتی ہیں۔

اس گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام کوامے تھا۔

کوامے غریب نہیں تھا، امیر بھی نہیں تھا۔ لیکن اس کے پاس ایک چیز تھی جو پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہ تھی — اس کی آواز۔

جب کوامے بولتا تھا تو لگتا تھا جیسے بارش کا پہلا قطرہ خشک زمین پر گرا ہو۔ جب وہ کہانی سناتا تھا تو بوڑھے رو دیتے تھے اور بچے سانس روک لیتے تھے۔ وہ Griot تھا یعنی قبیلے کا کہانی کار، حافظہ، اور ضمیر۔

اس کی ایک بیٹی تھی آبینا۔

آبینا نام کا مطلب ہوتا ہے: “منگل کے روز پیدا ہونے والی لڑکی۔”

لیکن آبینا کو لوگ اس لیے نہیں جانتے تھے کہ وہ منگل کو پیدا ہوئی — لوگ اسے اس لیے جانتے تھے کہ اس کی ہنسی سن کر لگتا تھا جیسے گھنٹیاں بج اٹھی ہوں۔

آبینا بارہ سال کی تھی جب بیمار پڑی۔

پہلے بخار آیا۔ پھر بخار نے جانے سے انکار کر دیا۔

گاؤں کی بڑھیا حکیمہ آئی — اس نے جڑی بوٹیاں جلائیں، دھواں دیا، مٹی کے برتن میں کچھ پکایا اور پلایا۔ تین دن، تین رات۔

کچھ نہ ہوا۔

قبیلے کا Okomfo آیا — یعنی روح سے بات کرنے والا۔ اس نے رات بھر طبل بجایا، پرکھوں کو پکارا، آسمان سے مانگا۔

آبینا کا بخار اور چڑھ گیا۔

ساتویں دن صبح کوامے اپنی بیٹی کے پاس بیٹھا تھا۔ آبینا کی آنکھیں آدھی بند تھیں اور سانس ایسے چل رہا تھا جیسے کوئی بہت تھکا ہوا مسافر ایک ایک قدم رکھ رہا ہو۔

کوامے نے اس کا ہاتھ پکڑا۔

اس کا ہاتھ ٹھنڈا پڑ رہا تھا۔

کوامے نے سر اٹھایا اور کمرے کے کونے میں دیکھا۔

وہاں کوئی تھا۔

سایہ نہیں — کوئی۔ ایک موجودگی۔ ایسی جیسے رات کا آخری حصہ جب اندھیرا سب سے گہرا ہو جاتا ہے۔

کوامے جانتا تھا یہ کون ہے۔

Griot ہوتا ہی اس لیے ہے — وہ سب کو پہچانتا ہے۔ زندوں کو بھی، اور جو زندہ نہیں انہیں بھی۔

“تم آئے ہو اسے لینے۔”

کوامے نے آہستہ سے کہا۔ سوال نہیں — بیان۔

موجودگی نے کچھ نہ کہا۔ لیکن کمرے میں ہوا رک گئی۔

کوامے اٹھا۔ اس نے اپنی بیٹی کے ماتھے پر ہاتھ رکھا، پھر کمرے کے بیچ میں آ کر اس سائے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
“میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں۔”

ہوا میں ایک لہر آئی — جیسے کوئی چونک گیا ہو۔

پھر آواز آئی۔ وہ آواز نہ اندر سے آئی نہ باہر سے — بس تھی۔

“تم پہلے آدمی ہو جس نے مجھ سے آنکھ ملا کر بات کی۔

کوامے بولا: میں Griot ہوں۔ میں نے ہزار کہانیاں سنائی ہیں۔ ہر کہانی میں تم ہو — کبھی ولن کے روپ میں، کبھی رہائی کے روپ میں۔ میں تمہیں جانتا ہوں۔”

تو پھر تم جانتے ہو کہ میں سے جھگڑا نہیں جیتا جا سکتا۔”
جھگڑا نہیں کرنا۔” کوامے نے کہا۔ “سودا کرنا ہے۔”

موت — کیونکہ وہی تھی — خاموش رہی۔

کوامے نے کہا:

“میری بیٹی بارہ سال کی ہے۔ اس نے ابھی پہلی بارش نہیں دیکھی سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر۔ اس نے ابھی کسی سے محبت نہیں کی۔ اس نے ابھی صبح کی پہلی روشنی میں اپنے بچے کا چہرہ نہیں دیکھا۔ تم اسے ابھی لے جاؤ گے تو یہ سب ادھورا رہ جائے گا۔”
ہر چیز ادھوری ہوتی ہے۔” موت نے کہا۔ “میں کسی کا انتظار نہیں کرتی۔”

“میں جانتا ہوں۔” کوامے بولا۔ “لیکن کیا تم نے کبھی کوئی کہانی سنی ہے؟”

لمحہ بھر کی خاموشی۔

“کہانی؟”

“ہاں۔” کوامے نے کہا۔ “تم ہر روز لوگوں کو لے جاتی ہو۔ ہر روز۔ ہزاروں سال سے۔ لیکن کیا کسی نے کبھی تمہارے لیے کہانی سنائی؟ کیا کسی نے کبھی تمہارے ساتھ بیٹھ کر وقت گزارا — لینے کے لیے نہیں، بس بات کرنے کے لیے؟”*

اس بار خاموشی لمبی تھی۔

نہیں۔”

آواز میں پہلی بار کچھ تھا — کوامے پہچان نہ سکا کیا تھا۔ شاید تھکاوٹ۔ شاید تنہائی۔

“یہ رہا میرا سودا۔” کوامے نے کہا۔

میں تمہیں آج رات ایک کہانی سناتا ہوں — ایسی کہانی جو تم نے کبھی نہیں سنی۔ اگر کہانی ختم ہونے سے پہلے تم اٹھ کر چلی جانا چاہو — جاؤ، اور میری بیٹی کو بھی لے جاؤ۔ لیکن اگر کہانی سننے کے بعد تمہیں لگے کہ یہ لڑکی دنیا میں مزید کہانیاں پیدا کرے گی — تو اسے چھوڑ دو۔”

اور اگر میں نہ مانوں؟”

“تو میں پھر بھی کہانی سناتا ہوں۔ کیونکہ میں Griot ہوں — میں ہر حال میں کہانی سناتا ہوں۔”*

موت نے — اور کوامے کو یقین ہوا کہ وہ پہلی بار ایسا کر رہی ہے — ہاں کہا۔

کوامے بیٹھ گیا۔

اس نے وہ کہانی سنائی جو اس کے دادا نے سنائی تھی، جو ان کے دادا نے سنائی تھی، جو اس سے بھی پہلے کسی نے سنائی تھی جب الفاظ ابھی نئے نئے تھے اور دنیا نے ابھی اپنی عمر گننا شروع نہیں کی تھی۔

اس نے آسمان کی کہانی سنائی — کیسے آسمان پہلے زمین کے بالکل قریب تھا، اتنا قریب کہ عورتیں اپنی مٹی کوٹنے والی لکڑی سے اسے چھو لیتی تھیں۔ پھر ایک روز ایک بڑھیا نے لکڑی اٹھائی اور غصے میں اتنے زور سے ماری کہ آسمان درد سے اوپر اٹھ گیا — اور پھر واپس نہ آیا۔ تب سے انسان اور آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔

اس نے دریا کی کہانی سنائی — کیسے دریا کبھی ایک جگہ ٹھہرنا چاہتا تھا، کسی خوبصورت وادی میں، لیکن پتھر نے کہا: “رک نہیں سکتے — چلتے رہو، ورنہ سڑ جاؤ گے۔” اور دریا نے مان لیا — اور یوں وہ آج بھی چل رہا ہے، ہمیشہ آگے، کبھی پیچھے نہیں۔

اس نے ستاروں کی کہانی سنائی — کیسے وہ اصل میں وہ لوگ ہیں جن کے نام ہم بھول گئے، لیکن وہ ہمیں نہیں بھولے، اس لیے رات کو روشن ہو کر یاد دلاتے ہیں کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔

کوامے گھنٹوں بولتا رہا۔

کمرے میں رات اترتی رہی۔ آبینا کی سانسیں — کوامے ہر چند لمحوں میں سنتا رہا — ابھی چل رہی تھیں۔

جب آخری کہانی ختم ہوئی تو باہر پرندے بولنے لگے تھے۔ صبح آ رہی تھی۔

موت نے کہا:

“تم نے وہ کہانی کیوں نہیں سنائی جو سب سے زیادہ درد دیتی ہے؟”

کوامے نے کہا: کون سی؟”

“اپنی۔”

کوامے خاموش ہو گیا۔

پھر آہستہ سے بولا:

“میری کہانی یہ ہے کہ میں ایک آدمی ہوں جس کے پاس صرف الفاظ ہیں۔ نہ دولت، نہ طاقت، نہ جادو۔ بس الفاظ۔ اور آج رات میں نے وہ تمام الفاظ اپنی بیٹی کی سانسوں کے بدلے رکھ دیے ہیں۔ اگر تم انہیں کافی نہیں سمجھتیں تو مجھے لے جاؤ۔ اسے چھوڑ دو۔”

سورج طلوع ہوا۔

کمرے کا کونہ خالی تھا۔

کوامے نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کا ماتھا چھوا۔

گرم تھا۔

بخار والی گرمی نہیں — زندگی والی گرمی۔

آبینا کی آنکھیں کھلیں۔ اس نے باپ کو دیکھا اور آہستہ سے مسکرائی — وہی مسکراہٹ جیسے گھنٹیاں بج اٹھی ہوں۔

“ابو، آپ ساری رات جاگے؟”

کوامے نے کچھ نہ کہا۔

بس اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور اس کا ہاتھ گرم تھا۔

گاؤں والوں نے کہا بخار خود اتر گیا۔ حکیمہ نے کہا جڑی بوٹیوں نے کام کیا۔ Okomfo نے کہا پرکھوں نے سنا۔

کوامے نے کسی کو کچھ نہ بتایا۔

Griot جانتا ہے — کچھ کہانیاں سنانے کے لیے نہیں ہوتیں۔ کچھ کہانیاں صرف جینے کے لیے ہوتی ہیں۔

حاصل سبق

“دنیا کی سب سے بڑی طاقت تلوار نہیں، سونا نہیں وہ کہانی ہے جو دل سے نکلے اور دل میں اترے۔ اور دنیا کی سب سے بڑی محبت وہ ہے جو اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دے بغیر یہ جانے کہ جیتے گا یا ہارے گا۔

Leave a Reply

NZ's Corner