سخاوت کی لازوال مثال

سخاوت کی لازوال مثال

ایک شخص سخت پریشان حالت میں ایک حاجت مند کے پاس آیا اور بولا:
“بھائی! مجھے تھوڑا سا شہد چاہیے، میری چھوٹی بیٹی شدید بیمار ہے، اس کا علاج شہد سے ممکن ہے۔”

اس شخص نے افسوس سے جواب دیا:
“میرے پاس اس وقت شہد موجود نہیں، لیکن آپ ایک کام کریں۔ شہر سے باہر شام کے ایک بڑے تجارتی قافلے کا گزر ہونے والا ہے۔ اس قافلے کا امیر بہت نیک اور سخی انسان ہے، مجھے یقین ہے وہ آپ کی مدد ضرور کرے گا۔”

حاجت مند نے شکریہ ادا کیا اور امید لے کر قافلے کی طرف چل پڑا۔

کچھ وقت بعد قافلہ آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ فوراً آگے بڑھا اور قافلے کے امیر کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے ایک نہایت باوقار اور روشن چہرے والے شخص کی طرف اشارہ کیا۔

وہ ان کے پاس گیا اور اپنی حاجت بیان کی:
“میری بیٹی بیمار ہے، علاج کے لیے مجھے تھوڑا سا شہد درکار ہے، مہربانی فرمائیں۔”

اس عظیم انسان نے فوراً اپنے غلام کو حکم دیا:
“جس اونٹ پر شہد کے دو مٹکے رکھے ہیں، ان میں سے ایک مٹکا اسے دے دو۔”

غلام نے عرض کیا:
“آقا! اگر ایک مٹکا دے دیا تو اونٹ کا وزن برابر نہیں رہے گا۔”

انہوں نے سکون سے فرمایا:
“تو پھر دونوں مٹکے ہی دے دو۔”

غلام حیران ہو کر بولا:
“آقا! پھر اونٹ کیسے چلے گا؟”

اس پر انہوں نے فرمایا:
“تو پھر اونٹ بھی اسے دے دو۔”

غلام فوراً دوڑتا ہوا گیا اور اونٹ دونوں مٹکوں سمیت حاجت مند کے حوالے کر دیا۔ وہ شخص حیرت اور خوشی کے ملے جلے احساس کے ساتھ دعائیں دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔

دوسری طرف غلام جب واپس آیا تو آقا نے اس سے پوچھا:
“جب میں نے ایک مٹکا دینے کو کہا تو تم رکے رہے، پھر دوسرے پر بھی اعتراض کیا، لیکن جب میں نے اونٹ دینے کو کہا تو فوراً چلے گئے، کیوں؟”

غلام نے جواب دیا:
“آقا! مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے مزید اعتراض کیا تو کہیں آپ مجھے بھی اس کے ساتھ ہی نہ بھیج دیں، اس لیے میں فوراً چلا گیا۔”

آقا نے مسکرا کر فرمایا:
“اگر تم اس کے ساتھ چلے جاتے تو تم غلامی سے آزاد ہو جاتے، یہ تمہارے لیے بہتر ہوتا۔”

غلام نے عاجزی سے کہا:
“آقا! میں آپ کی غلامی میں ہی رہنا چاہتا ہوں، کیونکہ آپ جیسے آقا بہت کم ملتے ہیں، اور مجھے آپ جیسا مالک کہیں اور نہیں ملے گا۔”

یہ عظیم شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ _حضرت عثمان غنیؓ_ تھے، جن کی سخاوت آج بھی تاریخ میں روشن مثال ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner