سردار جی کا سوٹ

سردار جی کا سوٹ

عید میں صرف چند دن باقی تھے۔

ایک سردار جی نے سوچا کہ اس بار ایسی شاندار پوشاک سلوانی ہے کہ پورا گاؤں دیکھتا رہ جائے۔

وہ شہر گئے، مہنگا ترین کپڑا خریدا اور سیدھے شہر کے مشہور درزی کے پاس پہنچ گئے۔

درزی نے بڑے اعتماد سے ناپ لیا اور کہا:

“سردار جی! فکر نہ کریں، چاند رات کو ایسا سوٹ دوں گا کہ لوگ دیکھتے رہ جائیں گے۔”

یہ سن کر سردار جی خوشی خوشی گھر لوٹ گئے اور روز عید کا انتظار کرنے لگے۔

آخرکار چاند رات آ گئی۔

سردار جی نئے جوتے پہن کر، مونچھوں کو تاؤ دے کر درزی کی دکان پر پہنچے۔

لیکن جیسے ہی سوٹ نکال کر دیکھا، ان کے ہوش اڑ گئے۔

شلوار کا ایک پانچہ اتنا لمبا تھا کہ زمین پر گھسٹ رہا تھا، جبکہ دوسرا اتنا چھوٹا تھا کہ ٹخنے بھی نہ ڈھانپ رہا تھا۔

سردار جی کا چہرہ لال ہو گیا۔

انہوں نے غصے سے درزی کا گریبان پکڑ لیا۔

“اوئے! یہ شلوار سلی ہے یا مذاق کیا ہے؟”

“ایک ٹانگ لمبی، دوسری چھوٹی! کیا میں سرکس میں کام کرتا ہوں؟”

درزی نے ایک لمحے کے لیے بھی گھبرانے کے بجائے عینک سیدھی کی اور نہایت سنجیدگی سے بولا:

“سردار جی… پہلے میری بات تو سنیں۔”

“یہ غلطی نہیں، آرٹ ہے!”

سردار جی رک گئے۔

“آرٹ؟”

درزی نے سر ہلاتے ہوئے کہا:

“جی ہاں! یہ عید کا نیا شاہی فیشن ہے۔”

“دائیں پانچے کی لمبائی آپ کی شخصیت کے رعب کی نشانی ہے، جبکہ بایاں پانچہ آپ کی عاجزی کو ظاہر کرتا ہے۔”

سردار جی حیران رہ گئے۔

درزی مزید جوش میں آ گیا۔

“یہ ڈیزائن ابھی لندن، پیرس اور دبئی میں بہت مقبول ہے!”

“عام لوگ سمجھ نہیں پائیں گے، کیونکہ یہ خاص لوگوں کا فیشن ہے۔”

سردار جی نے شلوار کو دوبارہ دیکھا۔

پھر درزی کو دیکھا۔

پھر شلوار کو دیکھا۔

اور آخرکار بولے:

“واہ یار! تم تو بڑے فنکار نکلے!”

انہوں نے خوش ہو کر درزی کو دگنی اجرت دی اور سوٹ اٹھا کر گھر روانہ ہو گئے۔

عید کی صبح انہوں نے فخر سے وہ سوٹ پہنا۔

مگر ایک مسئلہ تھا…

فیشن برقرار رکھنے کے لیے انہیں ایک ٹانگ لمبی اور دوسری چھوٹی رکھ کر چلنا پڑ رہا تھا۔

لہٰذا وہ پورے راستے عجیب انداز میں لنگڑاتے ہوئے مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔

راستے میں لوگ انہیں دیکھ کر ہنسنے لگے۔

کسی نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

کوئی قہقہہ لگا کر بیٹھ گیا۔

بچے تو ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔

مگر سردار جی سمجھے کہ لوگ ان کے شاہانہ انداز سے متاثر ہو رہے ہیں۔

وہ مونچھوں کو مزید تاؤ دیتے اور سینہ اور زیادہ پھلا لیتے۔

مسجد پہنچے تو نمازیوں کی حالت خراب تھی۔

کچھ لوگ ہنسی روکنے کے لیے رومال منہ پر رکھے ہوئے تھے۔

کچھ سجدے میں جا کر ہنس رہے تھے۔

نماز کے بعد ایک بزرگ ان کے قریب آئے اور نرمی سے بولے:

“سردار جی! اگر برا نہ مانیں تو ایک بات پوچھوں؟”

“یہ شلوار درزی نے سلی ہے یا دشمن نے؟”

تب جا کر کسی نے انہیں سچ بتایا۔

سردار جی نے شلوار کو غور سے دیکھا، پھر اپنی چال کو دیکھا، پھر لوگوں کے چہروں کو۔

اچانک انہیں احساس ہوا کہ لوگ ان کی تعریف نہیں کر رہے تھے…

بلکہ ان پر ہنس رہے تھے۔

وہ فوراً شہر کی طرف بھاگے۔

مگر درزی دکان بند کر کے کہیں غائب ہو چکا تھا۔

گاؤں واپس آتے ہوئے سردار جی بار بار ایک ہی جملہ دہرا رہے تھے:

“کاش! میں نے اپنی عقل استعمال کر لی ہوتی۔”

سبق:

زندگی میں بہت سے لوگ اپنی غلطیوں کو “نیا فیشن”، “نیا ٹرینڈ” یا “جدید سوچ” کا نام دے کر دوسروں کو بیوقوف بناتے ہیں۔

عقلمند وہ نہیں جو ہر نئی بات مان لے، بلکہ وہ ہے جو ہر بات کو عقل کے ترازو میں تولے۔

کیونکہ بعض اوقات لوگ آپ کی کامیابی پر نہیں…

آپ کی سادگی پر ہنس رہے ہوتے ہیں۔

یاد رکھیں:

“جو انسان اپنی عقل استعمال نہیں کرتا، دنیا اس کے لیے اپنی عقل استعمال کر لیتی

Leave a Reply

NZ's Corner