سورج کا خوف

سورج کا خوف

بہت پہلے کی بات ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک بندر رہتا تھا۔ وہ جنگل میں نہیں، بلکہ دور ایک انسانی بستی کے قریب مزدوری کرتا تھا۔ اور کئی کئی مہینوں تک گھر نہ آتا۔ ایک آدھ دن کے لیے اپنی بندریا اور ننھے سے بچے سے ملنے آتا اور دوبارہ روزی کی تلاش میں چلا جاتا۔

اس کا ننھا بچہ عجیب طبیعت کا مالک تھا۔

سوال پر سوال، اور ہر جواب کے بعد ایک نیا سوال۔
بندریا کئی مرتبہ اس کے سوالوں سے گھبرا جاتی تھی۔
ایک دن قسمت سے بندر کئی مہینوں بعد گھر آیا۔ رات بھر پورا خاندان خوشی سے جاگتا رہا۔
مگر اگلی صبح آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ سورج کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
ننھا بندر ٹہنی سے ٹہنی اچھلتا ہوا آیا، آسمان کی طرف دیکھا اور حیرت سے بولا، “امّی! آج سورج چاچا کہاں ہیں؟ کیا وہ سو رہے ہیں؟”
بندریا جانتی تھی کہ اگر ایک جواب دیا تو اس کے بعد بیس سوال اور آئیں گے۔
اس نے ہنستے ہوئے بات ٹالنے کے لیے کہا،
“ارے بیٹا! آج تمہارے ابو گھر آئے ہوئے ہیں نا، سورج بھی ان سے ڈرتا ہے، اس لیے بادلوں کے پیچھے چھپ گیا ہے۔”

بندریا تو یہ کہہ کر دوسرے کاموں میں لگ گئی،
لیکن ننھے بندر نے اس بات کو اپنے دل پر نقش کر لیا۔
اگلے دن بندر واپس مزدوری پر چلا گیا، اور اسی دن سورج بھی پوری آب و تاب سے نکل آیا۔
اب ننھے بندر کو پورا یقین ہو چکا تھا کہ سورج واقعی اس کے ابو سے ڈرتا ہے۔
وہ جنگل میں جس سے ملتا، سینہ تان کر کہتا،
“میرے ابو اتنے بہادر ہیں کہ سورج بھی خوف سے ان کے سامنے نہیں نکلتا”
ہرن حیران رہ جاتے۔

خرگوش ایک دوسرے کی شکلیں دیکھتے۔
طوطے چونچ کھول کر رہ جاتے۔
بندر کا بچہ ہر روز اپنی کہانی سناتا اور ہر دفعہ اس میں تھوڑا سا مزید رعب بھی شامل کر دیتا۔
کچھ ہی دنوں میں جنگل بھر میں مشہور ہو گیا کہ،
“وہی بندر ہے جس سے سورج بھی ڈرتا ہے”
اب تو شرارتی بندر بھی ایک دوسرے کو ڈراتے،
“خبردار! زیادہ شور کیا تو اس بندر کے ابو کو بلا دیں گے، پھر کئی دن سورج نہیں نکلے گا”
وقت گزرتا رہا۔

چند مہینوں بعد بندر دوبارہ گھر آیا۔
اس مرتبہ صبح کا موسم بالکل صاف تھا۔
سورج پوری شان سے آسمان پر چمک رہا تھا۔
ننھے بندر نے پہلے سورج کو دیکھا، پھر اپنے ابو کو۔
وہ کچھ دیر سوچتا رہا۔

پھر دوڑتا ہوا بندریا کے پاس آیا اور معصومیت سے پوچھا،

“امّی! آج تو ابو بھی گھر ہیں، پھر سورج کیوں نکل آیا؟”
اس وقت بندر بھی پاس ہی بیٹھا کیلے کھا رہا تھا۔
وہ چونک کر بولا،
“یہ کیا پوچھ رہا ہے؟”

بندریا نے ایک لمحہ سوچا، پھر نہایت سنجیدگی سے بولی،

“بیٹا، تمہارے ابو اب بوڑھے ہوچکے ہیں۔”
“پہلے سورج ان سے ڈرتا تھا، اب اسے معلوم ہو گیا ہے کہ تمہارے ابو جوان نہیں رہے، اس لیے اب وہ بے خوف ہو کر نکل آتا ہے۔”
ننھے بندر نے اطمینان سے سر ہلایا، جیسے اسے دنیا کا سب سے معقول جواب مل گیا ہو۔

اخلاقی سبق

بچوں کے سامنے کہی گئی ہر بات ان کے ذہن میں حقیقت بن سکتی ہے، اس لیے مذاق میں بھی سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔
معاشرے میں بہت سے لوگ خود طاقتور نہیں ہوتے، مگر دوسروں کے نام اور رعب کا سہارا لے کر اپنی حیثیت بناتے ہیں۔
سچائی کی بنیاد دلیل پر ہوتی ہے، ڈر اور افواہوں پر نہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner