شہد اور کتا۔۔۔!

شہد اور کتا۔۔۔!


خالص شہد کی پہچان کے نام پہ بہت سے فارمولے مارکیٹ میں رائج ہیں.. یہ زیادہ تر ہمارے بزرگوں کے مختلف اقوال ہیں جو آج تک نقل ہوتے آ رہے ہیں.. جس نے جس طرح کا کلیہ سوچا، سمجھا کہ یہی آخری اور حتمی ہے.

مثال کے طور پہ ایک بابا جی نے اپنے گھر میں لگے چھوٹی مکھی کے چھتے سے شہد نچوڑا اور اسکے کیساتھ کھانا تناول فرمانے بیٹھ گئے.

آئینِ پاکستان کے مطابق اصول یہ ہے کہ شہد صرف وہی اصلی ہوتا ہے جو خود اپنے ہاتھوں سے اتارا گیا ہو، باقی سب مایا ہے.
جب سے لوگوں کو اس علمی کتابی شق کا معلوم ہوا ہے کہ دنیا میں اتنی مکھیاں نہیں ہیں جتنا شہد پیدا ہوتا ہے، تب سے وہ اپنے سارے کام دھندے چھوڑ کے شہد کی تلاش میں جنگلوں کو نکل کھڑے ہوئے ہیں. نہیں؟ 🤔

جیسا کہ، جس بندے کو خالص دودھ نہ ملے تو وہ اپنا جانور پال لیتا ہے.. اسی لئے آپکو آج ہر دوسرے گھر میں ایک بھینس اور ہر پہلے گھر میں ایک بکری ضرور ملے گی.
یہی حال خالص گندم، دالوں اور چاولوں کا ہوا پڑا ہے.. صحت کے بارے متفکر ہماری عوام نے اپنی چھتوں سے سولر ہٹوا کے وہاں non-GMO اناج اگانا شروع کر دیا ہے. 😕

خیر، بابا جی کھانا شروع کرنے ہی والے تھے کہ قریب سے ایک کتے کا گزر ہوا.. کتوں کی ایک کتی عادت ہوتی ہے کہ کوئی کچھ کھا رہا ہو تو اسے ٹکٹکی باندھ دیکھنا شروع کر دیتے ہیں.. اتفاق سے وہ کتا بھوکا بھی تھا.. بابا جی کو رحم آ گیا.. انہوں نے روٹی کا نوالہ توڑا، اسے خالص شہد میں ڈبویا اور ادب سے کتے کو پیش کر دیا.. کتا واقعی کتا نکلا.. اس نے خالص شہد سونگھا اور چکھے بغیر ہی منہ بسور لیا. 😏

بابا جی کتے کی اس نازیبا حرکت سے تلملا اٹھے.. تلملانا بنتا بھی تھا.. شہد جیسی نعمت کو ٹھکرانا انہیں بہت برا لگا اور غصہ بھی آیا کہ بدبخت نے انکی میزبانی کی قدر نہ کی.. انہوں نے لاٹھی لی، اور مذاکرات کئے بغیر اس نمک حرام کو وہاں سے بھگا دیا.

کھانا کھا کے وہ بستی میں لگے برگد کے پرانے درخت کی طرف چل دئے.. یہاں چارپائیاں بچھی رہتی اور روزانہ سرِ شام چوپال سجتی تھی.. حقے کا سوٹا لگاتے ہوئے انہوں نے باقی بابوں کو یہ سارا قصہ سنایا کہ یار، حالات چیک کرو.. کیسا زمانہ آ گیا ہے کہ کتا بھی اب خالص شہد کو منہ نہیں لگا رہا.

وہیں سے یہ مثل مشہور ہو گئی کہ “خالص شہد اگر روٹی پہ لگا کے کتے کو دیا جائے وہ نہیں کھاتا”.
پھر وہ روٹی خود کھانی پڑتی ہے کہ ضائع نہ ہو جائے. 🙄

اب آپ لوگ اپنے ایمان سے بتائیں کہ اس مہنگے فلسفے کو کبھی آپ نے خود آزمایا ہے؟

ظاہر ہے 3800 روپے کلو (فری ہوم ڈلیوری) والے خالص بیری شہد پہ کون حاتم یہ تجربہ کرنے کی حماقت کر سکتا ہے.

اگر وہ بابا جی ایک بار کتے کو روغنی نان کیساتھ بیف قورمہ پیش کر دیتے، تو ساری زندگی انہوں نے اس بات کا رولا ڈالے رکھنا تھا کہ،
“کسی بدنسل کتے کو اگر حلال گوشت کی کڑاہی پیش کی جائے تو وہ ساری کھا جاتا ہے..!! 😁ا

Leave a Reply

NZ's Corner