ایک دن شیخ چلی نے سوچا کہ وہ اب بہت بڑا عالم بن چکا ہے۔ اس نے ایک بڑی سی پگڑی باندھی، ہاتھ میں موٹی کتاب لی اور گاؤں کے چوک میں جا بیٹھا۔
لوگ حیران ہو کر پوچھنے لگے: “شیخ چلی! آج یہ کیا نیا کام شروع کر دیا؟”
شیخ چلی نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا: “آج سے میں گاؤں والوں کو عقل کی باتیں سکھاؤں گا!”
سب لوگ جمع ہوگئے۔ ایک آدمی نے پوچھا: “اچھا شیخ صاحب، یہ بتاؤ اگر بارش ہو رہی ہو اور چھت ٹپک رہی ہو تو کیا کرنا چاہیے؟”
شیخ چلی فوراً بولا: “بہت آسان ہے! بارش بند ہونے کا انتظار کرو!”
لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
پھر ایک بچے نے پوچھا: “اگر کوئی کنویں میں گر جائے تو؟”
شیخ چلی نے بڑی سنجیدگی سے کہا: “پہلے اس سے پوچھو کہ وہ تیرنا جانتا ہے یا نہیں!”
سب لوگ ہنسنے لگے۔
اسی دوران ایک بکری آکر شیخ چلی کی کتاب کھانے لگی۔ شیخ چلی گھبرا کر بولا: “ارے! میری ساری عقل کھا گئی!”
گاؤں والے قہقہے لگانے لگے۔ ایک بوڑھے آدمی نے ہنستے ہوئے کہا: “شیخ چلی، عقل کتابوں میں نہیں، سمجھ میں ہوتی ہے!”
شیخ چلی نے شرمندہ ہو کر کتاب بند کی اور بولا: “آج کا سبق ختم ہوا!”
سبق:
صرف دکھاوا کرنے سے انسان عقلمند نہیں بنتا، اصل عقل اچھے عمل اور سمجھداری میں ہوتی ہے۔
منقول۔
─────••●◎●••────
#fypシ #facebookpostシ #funny #PostViral #viralpic
