شیخ کی لالچ اور قاضی کا زبردست فیصلہ… ایک دلچسپ کہانی

شیخ کی لالچ اور قاضی کا زبردست فیصلہ… ایک دلچسپ کہانی

ایک عرب شیخ بے حد دولت مند تھا، مگر دولت کے ساتھ وہ بہت زیادہ لالچی اور کنجوس بھی تھا ۔

وہ اپنے ملازمین کو کم اجرت دیتا، کسی ضرورت مند کی مدد نہ کرتا اور ہر وقت دولت بڑھانے کی فکر میں رہتا۔

ایک دن اس کے سونے کے سکوں سے بھرا تھیلا کہیں گم ہوگیا۔

شیخ نے پورا گھر، باغ اور آس پاس کی سڑکیں چھان ماریں، مگر تھیلا نہ ملا۔

دو دن بعد ایک چھوٹی بچی کو وہ تھیلا سڑک کے کنارے پڑا ملا۔

اس نے فوراً اپنے والد کو بتایا۔ والد اسی شیخ کے ہاں ملازم تھا۔

وہ ایماندار شخص تھیلا اٹھا کر شیخ کے پاس پہنچا اور بولا:

“حضور! یہ تھیلا مجھے سڑک پر ملا تھا۔ میرا خیال ہے یہ آپ کا ہے۔”

شیخ نے تھیلا کھولا تو اس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔

مگر اگلے ہی لمحے اس کے ذہن میں ایک چال آئی۔

وہ غصے سے چیخا:

“دھوکے باز! میرے تھیلے میں 75 سونے کے سکے تھے، جبکہ اس میں صرف 50 ہیں! باقی 25 تم نے چرا لیے!”

ملازم حیران رہ گیا۔

“حضور! اللہ گواہ ہے، ہمیں صرف یہی 50 سکے ملے تھے۔”

مگر شیخ نے ایک نہ سنی اور معاملہ عدالت میں لے گیا۔

عدالت میں قاضی نے پہلے ملازم اور اس کی بیٹی سے پوچھا:

“تمہیں کتنے سکے ملے تھے؟”

انہوں نے جواب دیا:

“صرف 50۔”

قاضی نے شیخ کی طرف دیکھا:

“اور آپ یقین سے کہتے ہیں کہ آپ کے تھیلے میں 75 سکے تھے؟”

شیخ نے فوراً جواب دیا:

“جی ہاں، پورے 75!”

قاضی کچھ دیر خاموش رہا، پھر مسکرا کر فیصلہ سنایا:

“اگر آپ کے تھیلے میں 75 سکے تھے، اور یہ تھیلا صرف 50 سکوں کا ہے، تو پھر یہ آپ کا تھیلا ہو ہی نہیں سکتا۔”

شیخ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

قاضی نے مزید کہا:

“لہٰذا یہ 50 سکے اس ایماندار شخص اور اس کی بیٹی کو دیے جاتے ہیں، کیونکہ انہوں نے انہیں چوری کرنے کے بجائے سچائی کے ساتھ واپس کرنے کی کوشش کی۔”

شیخ کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔

جس لالچ سے وہ 25 سکے ہڑپ کرنا چاہتا تھا، اسی لالچ نے اس کے اپنے 50 سکے بھی اس سے چھین لیے۔

سبق:
ایمانداری کبھی ضائع نہیں جاتی، جبکہ لالچ انسان کو ایسا جال بچھانے پر مجبور کر دیتا ہے جس میں آخرکار وہ خود ہی پھنس جاتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner