شیر کی کھال

شیر کی کھال

کہتے ہیں کہ ایک گھنے جنگل کے کنارے ایک چالاک لومڑی رہتی تھی۔ وہ تیز دماغ تو تھی، مگر دل ہی دل میں ایک حسرت پالے بیٹھی تھی۔
جب بھی جنگل کا شیر اپنی دھاڑ سے فضا کو لرزا دیتا، سب جانور دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوتے۔ ہر طرف اس کی ہیبت، اس کا رعب اور اس کی بادشاہی کا چرچا ہوتا۔
لومڑی یہ سب دیکھتی اور آہ بھرتی۔
“کاش! لوگ مجھ سے بھی اسی طرح ڈرتے۔”
ایک دن قسمت نے عجیب کھیل کھیلا۔
شکاریوں کے چھوڑے ہوئے سامان میں اسے ایک مردہ شیر کی کھال مل گئی۔
لومڑی کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔
اس نے فوراً کھال اوڑھی، اپنے آپ کو آئینے کی طرح صاف جھیل میں دیکھا اور فخر سے بولی:
“اب دیکھتی ہوں کون مجھے معمولی لومڑی سمجھتا ہے!”
اگلے ہی دن وہ جنگل میں نکلی۔
دور سے جانوروں نے اسے دیکھا تو ان کے اوسان خطا ہو گئے۔
ہرن بھاگ نکلے، خرگوش بلوں میں جا گھسے، بندر درختوں کی چوٹیوں پر جا بیٹھے، اور پرندے خوف زدہ ہو کر آسمان کی طرف اڑ گئے۔
لومڑی کا سینہ خوشی سے پھول گیا۔
وہ جہاں سے گزرتی، راستہ خود بخود خالی ہو جاتا۔
چند ہی دنوں میں اسے یقین ہو گیا کہ اب وہ واقعی شیر بن چکی ہے۔
ایک شام وہ اپنے بچے کے ساتھ جنگل کی پگڈنڈی پر چل رہی تھی۔
سورج ڈوب رہا تھا اور سنہری روشنی درختوں کے پتوں پر بکھری ہوئی تھی۔
لومڑی نے غرور بھرے لہجے میں کہا:
“دیکھا بیٹا؟ اب سب مجھ سے کانپتے ہیں۔ میں کتنی طاقتور ہوں!”
بچہ معصوم تھا، مگر سچ بولنے کی عادت رکھتا تھا۔
اس نے آہستہ سے کہا:
“اماں جان، وہ آپ سے نہیں ڈرتے۔”
لومڑی چونکی۔
“پھر کس سے ڈرتے ہیں؟”
بچے نے جواب دیا:
“اس کھال سے، جو آپ نے پہن رکھی ہے۔”
لومڑی ہنس پڑی۔
“ارے نادان! فرق ہی کیا ہے؟ کھال میرے جسم پر ہے، ڈر میرے نام سے پھیل رہا ہے۔”
بچہ خاموش ہو گیا، مگر اس کی آنکھوں میں تشویش جھلک رہی تھی۔
وقت گزرتا رہا۔
لومڑی اپنے فریب کے محل میں دن بدن بلند ہوتی گئی، یہاں تک کہ وہ خود بھی بھول گئی کہ وہ اصل میں کون ہے۔
پھر ایک دن جنگل میں ایک شکاری آیا۔
اس نے دور سے شیر کی سی صورت دیکھی۔
اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
“واہ! آج تو بڑا شکار ہاتھ آیا ہے۔”
اس نے بندوق سنبھالی، نشانہ لیا اور گولی چلا دی۔
ایک زور دار آواز گونجی۔
لومڑی زمین پر گر پڑی۔
جب شکاری قریب آیا تو اسے معلوم ہوا کہ یہ تو شیر نہیں، شیر کی کھال میں لپٹی ہوئی ایک لومڑی ہے۔
اس نے کھال اتاری، کندھے پر ڈالی اور چل دیا۔
لومڑی کا بچہ جھاڑیوں کے پیچھے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔
وہ آہستہ آہستہ اپنی ماں کے قریب آیا اور نم آنکھوں سے بولا:
“اماں جان، اگر آپ لومڑی رہتیں تو شاید کوئی آپ کو نہ مارتا۔”
پھر اس نے زمین پر پڑی ہوئی کھال کی طرف دیکھا اور کہا:
“آپ شیر بننے چلی تھیں، مگر اپنی جان بھی گنوا بیٹھی اور وہ کھال بھی جس پر آپ کو ناز تھا، کسی اور کے ہاتھ لگ گئی۔”
جنگل پر خاموشی چھا گئی۔
ہوا درختوں کے درمیان سرسرائی، گویا فطرت خود یہ کہہ رہی ہو کہ سچائی سے بڑی کوئی کھال نہیں، اور اپنی اصل سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں۔
سبق
دوسروں کی عظمت کا لباس پہن لینے سے انسان عظیم نہیں بن جاتا۔
ادھار کی شان وقتی تالی تو دلا سکتی ہے، مگر مستقل عزت نہیں۔
جو اپنی حقیقت کو چھوڑ کر دوسروں کا روپ دھارنے لگے، وہ اکثر نہ اپنی پہچان بچا پاتا ہے اور نہ وہ مقام حاصل کر پاتا ہے جس کی تمنا کرتا ہے۔

منقول

Leave a Reply

NZ's Corner