صرف ایک دانہ

صرف ایک دانہ

ایک بادشاہ تھا، جس کے دربار میں ایک دن چند ایسے لوگ حاضر ہوئے جنہوں نے برسوں تک ریاست کے لیے محنت کی تھی۔ بادشاہ ان کی خدمات سے خوش ہوا تو مسکرا کر بولا، “آج جو مانگنا ہے مانگو، تمہاری خواہش پوری کی جائے گی۔”

کسی نے زمین مانگی، کسی نے باغ، کسی نے عہدہ، کسی نے وزارت اور کسی نے اپنے خاندان کے لیے جاگیر۔ ہر شخص نے اپنی نظر آج کی آسائش پر رکھی ہوئی تھی۔

انہی لوگوں میں ایک کسان کا بیٹا بھی کھڑا تھا۔ اس کی باری آئی تو اس نے نہ زمین مانگی، نہ سونا، نہ منصب۔ اس نے نہایت سادگی سے عرض کیا، “حضور! مجھے صرف ایک دانۂ گندم چاہیے۔”

دربار میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی، پھر ہر طرف ہنسی پھیل گئی۔ بادشاہ بھی مسکرا دیا۔ کسی نے کہا، “اتنے بڑے بادشاہ کے سامنے اتنی بڑی خواہش!”

کسان کے بیٹے نے اپنی بات مکمل کی، “حضور! آج مجھے ایک دانہ مل جائے۔ کل وہ دو ہو جائے، پھر اگلے دن ان دو سے چار، پھر چار سے آٹھ، اور یہ سلسلہ میری سات نسلوں تک چلتا رہے۔”

اب تو دربار میں قہقہے گونج اٹھے۔ کسی نے سر پکڑ لیا، کسی نے اسے نادان کہا، اور کسی نے دل ہی دل میں سوچا کہ اتنے بڑے موقع پر اس شخص نے ایک دانہ مانگ کر اپنا مذاق بنوا لیا۔

صرف ایک بوڑھا وزیر خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی، بلکہ ایسی سنجیدگی تھی جیسے وہ اس ایک دانے کے اندر آنے والے کئی برس دیکھ رہا ہو۔

بادشاہ نے کسان کے بیٹے کی درخواست منظور کر لی۔

وہ شخص چلا گیا تو بادشاہ نے ہنستے ہوئے بوڑھے وزیر سے کہا، “میں نے اپنی زندگی میں بہت بے وقوف لوگ دیکھے ہیں، مگر اپنی سلطنت میں اس سے بڑا بے وقوف نہیں دیکھا۔ اتنا بڑا انعام مانگنے کا موقع ملا اور اس نے صرف ایک دانہ گندم مانگا!”

بوڑھے وزیر نے سر جھکایا اور عرض کیا، “حضور! گستاخی معاف ہو تو ایک بات کہوں؟”

بادشاہ نے کہا، “کہو۔”

وزیر نے کہا، “بے وقوفی اس شخص نے نہیں کی۔۔۔ بے وقوفی تو آپ نے کی ہے، جو اس کی بات پر فوراً ہاں کر بیٹھے۔”

بادشاہ کی مسکراہٹ رک گئی۔

“ایک دانے میں ایسی کیا بڑی بات ہے؟”

وزیر نے کہا، “حضور! یہی تو وہ بات ہے جسے دربار میں کسی نے نہیں سمجھا۔ ایک دانہ اگر صرف ایک دانہ رہے تو معمولی ہے، لیکن اگر اسے بڑھنے کا وقت مل جائے تو یہی معمولی چیز ایک دن ایسی مقدار بن سکتی ہے جسے گننے کے لیے خزانے کے حساب دان بھی تھک جائیں۔”

پھر وزیر نے حساب سمجھایا، “آج ایک دانہ، کل دو، پھر چار، پھر آٹھ۔۔۔ یعنی ہر دن پچھلے دن سے دوگنا۔ ابتدا معمولی ہوگی، مگر وقت کے ساتھ یہی رفتار پہاڑ بن جائے گی۔”

بادشاہ نے بے یقینی سے پوچھا، “کیا واقعی ایک دانہ اتنا بڑھ سکتا ہے؟”

وزیر مسکرایا، “حضور! دنیا کی بڑی بڑی چیزیں ابتدا میں معمولی ہی ہوتی ہیں۔ درخت ایک بیج سے شروع ہوتا ہے، دریا ایک چشمے سے، دولت ایک بچت سے، علم ایک حرف سے اور انقلاب ایک چھوٹے سے خیال سے۔ فرق صرف یہ ہے کہ لوگ ابتدا کو دیکھتے ہیں، انجام کو نہیں۔”

وقت گزرا۔

بادشاہ بدل گئے، دربار بدل گیا، وزیر دنیا سے رخصت ہو گیا اور وہ کسان بھی نہ رہا جس نے ایک دانہ مانگا تھا۔ مگر وعدہ باقی تھا۔

پہلی نسل تک تو خزانے کے اہلکار گندم کے دانے گنتے رہے۔ دوسری نسل میں مقدار بڑھی تو حساب مشکل ہونے لگا۔ تیسری نسل تک پہنچتے پہنچتے وہی دانے اتنے بڑھ گئے کہ ریاست کے بڑے بڑے گودام بھی ان کے سامنے چھوٹے دکھائی دینے لگے۔

اور ادھر وہ زمینیں جنہیں بادشاہ نے لوگوں کو انعام میں دیا تھا، کئی ہاتھ بدل چکی تھیں۔ وزارتیں چند برسوں میں ختم ہو گئی تھیں، جاگیریں تقسیم ہو گئی تھیں، عہدے آنے والوں کے ساتھ چلے گئے تھے اور وہ چیزیں جن پر دربار میں قہقہے لگے تھے، وقت کی گرد میں کہیں گم ہو چکی تھیں۔

مگر ایک دانہ مسلسل بڑھ رہا تھا۔

بادشاہتیں بدلتی رہیں، نسلیں گزرتی رہیں، مگر اس ایک دانے کے ساتھ کیا ہوا، اس کی رفتار کم نہ ہوئی۔

آخر ایک وقت آیا جب کسان کی ساتویں نسل بادشاہ کے دربار میں پہنچی۔ خزانے کے افسر نے حساب پیش کیا تو بادشاہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ جس چیز کو کبھی دربار نے مذاق سمجھا تھا، اب وہ ریاست کے وسائل پر بھاری پڑ رہی تھی۔

بادشاہ نے حیرت سے کہا، “ہم نے اسے صرف ایک دانہ دیا تھا!”

بوڑھے وزیر کی وہ بات جیسے صدیوں بعد بھی دربار میں گونج رہی تھی:

“حضور! آپ نے ایک دانہ نہیں دیا تھا۔۔۔ آپ نے اسے بڑھنے کا وقت دیا تھا۔”

اور شاید یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے۔

ہم اکثر بڑی چیزوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور چھوٹی چیزوں کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمیں ایک دن میں بڑی کامیابی چاہیے، فوراً دولت چاہیے، فوراً شہرت چاہیے، فوراً تبدیلی چاہیے۔ مگر فطرت کا اصول کچھ اور ہے۔ بیج کبھی ایک دن میں درخت نہیں بنتا، مگر اگر اسے مٹی، پانی اور وقت مل جائے تو ایک دن وہی بیج سایہ بھی دیتا ہے، پھل بھی دیتا ہے اور نسلوں کو فائدہ بھی پہنچاتا ہے۔

حاصل سبق:
چھوٹی شروعات سے کبھی مت گھبرائیے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آج آپ کے پاس کتنا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے، وہ وقت کے ساتھ بڑھ سکتا ہے یا نہیں۔

کیونکہ بعض اوقات لوگ بڑی چیز لے کر بھی خالی رہ جاتے ہیں، اور کوئی ایک معمولی سا دانہ لے کر نسلوں کا مستقبل بنا دیتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner