ایک کسان کے گھر میں کئی جانور رہتے تھے۔ کوئی کھیتوں میں کام آتا، کوئی پہرہ دیتا اور کوئی دودھ یا دوسرے کاموں کے لیے پالا جاتا۔ سب اپنی اپنی جگہ زندگی گزار رہے تھے۔ کسان کا رویہ بھی ان کے ساتھ معمول کے مطابق تھا؛ نہ کسی پر خاص توجہ، نہ کسی کے لیے کوئی غیرمعمولی اہتمام۔
ایک روز وہ بازار سے ایک نہایت خوب صورت بکرا خرید لایا۔ اس کے سفید اور چمک دار بال، بلند قامت، متناسب جسم اور شان دار سینگ دیکھ کر پہلی نظر میں ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ وہ عام بکروں جیسا نہیں۔ کسان نے اسے خریدتے ہی الگ باڑے میں باندھ دیا اور اعلان کر دیا کہ اس سال عیدالاضحیٰ پر اسی کی قربانی دی جائے گی۔
قربانی میں ابھی تقریباً تین ماہ باقی تھے، مگر کسان نے پہلے ہی دن سے اس کی خاطر تواضع شروع کر دی۔ اس کے لیے صاف ستھری جگہ بنائی گئی، نرم چارہ منگوایا گیا، تازہ پانی کا انتظام کیا گیا اور وقتاً فوقتاً اسے ایسی غذائیں بھی دی جانے لگیں جو باقی جانوروں کو نصیب نہ تھیں۔ صبح و شام اس کی صفائی ہوتی، اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا جاتا، اس کے سینگ صاف کیے جاتے اور کسان خود بھی کئی بار اس کے پاس آ کر اسے پیار کرتا۔
یہ سب دیکھ کر باڑے کے دوسرے جانور حیران تھے۔ گدھا جو برسوں سے کسان کا بوجھ اٹھا رہا تھا، اپنی قسمت پر غور کرنے لگا۔ کتا جو رات بھر جاگ کر گھر کی حفاظت کرتا، اس غیرمعمولی مہمان نوازی کو دیکھ کر خاموش رہ جاتا۔ گائے اور بھینس بھی سوچتیں کہ آخر اس بکرے میں ایسی کون سی خوبی ہے کہ اسے سب سے زیادہ توجہ دی جا رہی ہے؟
ایک دن گدھے نے کتے سے کہا، ’’بھائی! ہم تو برسوں سے اس گھر کی خدمت کر رہے ہیں، مگر کبھی کسی نے ہماری اتنی خاطر تواضع نہیں کی۔ اس بکرے کو آئے ابھی چند دن ہوئے ہیں اور اس کے لیے تو جیسے پورا گھر وقف ہو گیا ہے۔‘‘
کتے نے ایک گہری سانس لی اور بولا، ’’شاید اس کی خوب صورتی کا کمال ہے۔ دیکھو تو سہی، واقعی بڑا حسین ہے!‘‘
مگر اس بکرے کا اپنا ہی ایک عالم تھا۔ باڑے کی دیوار پر ایک چھوٹا سا آئینہ لگا ہوا تھا۔ وہ جب بھی اس کے سامنے کھڑا ہوتا، دیر تک اپنے آپ کو دیکھتا، گردن اکڑاتا، سینگوں کو ذرا ترچھا کرتا اور اپنے عکس پر فدا ہو جاتا۔
وہ دل ہی دل میں کہتا، ’’آخر میں ہوں ہی ایسا! میرے جیسا خوب صورت بکرا اس پورے علاقے میں کہاں ملے گا؟ مالک بھی جانتا ہے کہ میں سب سے منفرد ہوں۔ اسی لیے تو میری اتنی دیکھ بھال کرتا ہے۔ باقی جانوروں کو دیکھو، کوئی بوجھ ڈھوتا ہے، کوئی پہرہ دیتا ہے، کوئی دودھ دیتا ہے؛ مگر میری بات ہی الگ ہے۔ میں تو اس گھر کا ہیرو ہوں!‘‘
رفتہ رفتہ اس کے غرور میں اضافہ ہونے لگا۔ اب وہ دوسرے جانوروں کو حقارت سے دیکھتا اور ان کی باتوں کو اہمیت نہ دیتا۔ کسان جب اسے پیار کرتا تو وہ گردن مزید اونچی کر لیتا، جیسے کہہ رہا ہو کہ یہ سب میرے مرتبے کے شایانِ شان ہے۔
اسی باڑے میں ایک عمر رسیدہ بکری بھی رہتی تھی۔ اس کی عمر سات آٹھ برس کے قریب تھی۔ اس نے زندگی کے کئی موسم دیکھے تھے، کئی قربانیاں دیکھی تھیں اور جانوروں کے معاملات کو اچھی طرح سمجھتی تھی۔ وہ نوجوان بکرے کی خوش فہمی اور غرور کو خاموشی سے دیکھتی رہتی۔
ایک دن جب کسان اسے تازہ چارہ کھلا کر گیا تو بکرے نے بڑے فخر سے بکری کی طرف دیکھا اور کہا، ’’دیکھا اماں! مالک مجھ سے کتنا پیار کرتا ہے؟ روز میرے لیے نئی نئی چیزیں لاتا ہے۔ میری صفائی کرتا ہے، مجھے اپنے ہاتھوں سے کھلاتا ہے۔ آپ نے تو کبھی ایسی عزت نہیں دیکھی ہو گی!‘‘
بوڑھی بکری نے شفقت سے اسے دیکھا اور کہا، ’’بیٹا! ہر وہ شخص جو تمہیں بہت زیادہ پیار دے، ضروری نہیں کہ اس کے دل میں تمہارے لیے ویسی ہی محبت ہو جیسی تم سمجھ رہے ہو۔ کبھی کبھی اس پیار کے پیچھے کوئی اور مقصد بھی ہوتا ہے۔‘‘
بکرا ہنس پڑا۔ ’’اماں! آپ بھی عجیب باتیں کرتی ہیں۔ مالک کی محبت تو میں اپنی آنکھوں میں دیکھ سکتا ہوں۔ وہ مجھے دیکھتا ہے تو اس کے چہرے پر خوشی آ جاتی ہے۔ میرے لیے اتنا اچھا کھانا لاتا ہے، اتنی خدمت کرتا ہے۔ آپ کو کیا معلوم؟ شاید آپ کو میری خوش حالی دیکھ کر رشک آتا ہے۔‘‘
بکری نے دھیمے لہجے میں کہا، ’’میں تم سے جلتی نہیں، بیٹا۔ بس اتنا جانتی ہوں کہ دنیا میں ہر مسکراہٹ محبت کی علامت نہیں ہوتی اور ہر مہربانی بے غرض نہیں ہوتی۔ ذرا سوچو، مالک تمہیں باقی جانوروں سے الگ کیوں رکھتا ہے؟‘‘
بکرا فوراً بول اٹھا، ’’کیونکہ میں ان جیسا نہیں ہوں! میں خوب صورت ہوں، قیمتی ہوں اور سب سے بڑھ کر اس کا پسندیدہ ہوں۔‘‘
بکری نے مزید بحث مناسب نہ سمجھی۔ وہ خاموش ہو گئی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک ایسی اداسی تھی جسے نوجوان بکرا پڑھنے سے قاصر تھا۔
دن گزرتے رہے۔ بکرے کی خوراک بڑھتی گئی، جسم مزید بھاری اور چمک دار ہوتا گیا۔ کسان کی توجہ بھی کم نہ ہوئی۔ کبھی وہ اس کے لیے سبز چارہ لاتا، کبھی پھلوں کے ٹکڑے، کبھی اسے نہلاتا اور کبھی بڑے پیار سے اس کی گردن سہلاتا۔ بکرا ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے آپ کو زیادہ اہم سمجھنے لگا۔
پھر ایک صبح باڑے میں کچھ غیرمعمولی ہلچل دکھائی دی۔ کسان کے گھر میں مہمان آنے لگے۔ صحن کی صفائی ہوئی، پانی کے برتن بھرے گئے اور چند آدمی باڑے کی طرف بڑھے۔ بکرا حسبِ معمول خوش تھا۔ اسے گمان تھا کہ شاید آج بھی کوئی خاص خوراک ملنے والی ہے یا مالک اسے کہیں دکھانے لے جائے گا۔
لیکن آج کسان کے ہاتھ میں چارے کی ٹوکری نہیں تھی۔
اس نے دو آدمیوں کو آواز دی۔ دونوں نے آگے بڑھ کر بکرے کو پکڑ لیا۔ بکرا پہلے تو حیران ہوا، پھر اس نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی۔ کسان نے اسے قابو میں رکھنے کے لیے مزید لوگوں کو بلایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دو تین آدمی اس کے اوپر سوار ہو گئے اور اسے مضبوطی سے زمین پر لٹا دیا۔
بکرا گھبرا گیا۔ اس نے گردن اٹھانے کی کوشش کی، مگر کسی نے اسے دبوچ رکھا تھا۔ اس کی آنکھیں کبھی کسان کے چہرے کی طرف اٹھتیں اور کبھی ان ہاتھوں کی طرف جو اسے قابو میں کیے ہوئے تھے۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آج یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ وہی مالک جو روز اس کی گردن سہلاتا تھا، آج اسے بے بس کیے کھڑا تھا۔
پھر اسے وہ دن یاد آیا جب بوڑھی بکری نے اسے سمجھایا تھا کہ ہر محبت بے غرض نہیں ہوتی۔ اسے اپنا آئینہ، اپنی خوب صورتی اور اپنے غرور کے تمام جملے یاد آنے لگے۔ مگر اب سوچنے اور سمجھنے کا وقت گزر چکا تھا۔
چند لمحوں بعد عید کی قربانی ادا کر دی گئی۔
باڑے میں گہری خاموشی چھا گئی۔ گدھا، کتا، گائے اور دوسرے جانور اپنی اپنی جگہ ساکت کھڑے تھے۔ کسی کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔ بوڑھی بکری نے ایک طویل سانس لی اور نظریں جھکا لیں۔
کتے نے دھیرے سے گدھے کے کان میں کہا، ’’اب سمجھ آیا کہ مالک اس سے اتنا پیار کیوں کرتا تھا؟‘‘
گدھے نے اداس لہجے میں جواب دیا، ’’ہاں! ہمیں تو لگتا تھا کہ یہ اس کا سب سے پیارا ہے، مگر حقیقت میں یہ اس کی قربانی کا سب سے پسندیدہ جانور تھا۔‘‘
اس روز باڑے کے جانوروں نے ایک بات اچھی طرح سمجھ لی کہ کبھی کبھی جسے ہم غیرمعمولی محبت سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ دراصل کسی ضرورت، فائدے یا مقصد کا حصہ ہوتی ہے۔
حاصل سبق:
ہر شخص کی بڑھتی ہوئی توجہ کو خلوص نہ سمجھو، اور ہر میٹھی بات کے پیچھے محبت تلاش نہ کرو۔ بعض لوگ تمہیں اس لیے بھی بہت عزیز رکھتے ہیں کہ ایک دن تم سے کوئی بڑا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔


