عدل کی انتہا۔۔۔🙂!

عدل کی انتہا۔۔۔🙂!

مدینہ کی گلیاں ابھی صبح کی پہلی کرنوں سے لپٹی ہوئی تھیں۔ سورج نے ابھی اپنا پورا چہرہ بھی نہیں دکھایا تھا کہ ایک شخص اپنے اونٹ پر سامان لاد کر شاہراہ پر نکل کھڑا ہوا۔

اس کے جسم پر ایک سادہ سی چادر تھی، سر پر عمامہ تھا اور ہاتھ میں ایک معمولی کوڑا۔ اس کے چہرے پر وہ نور تھا جو صرف سچے ایمان والوں کے چہروں پر ہوتا ہے۔ یہ کوئی عام مسافر نہیں تھا۔ یہ امیر المومنین، خلیفۂ دوم، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔

وہ تنہا شام جا رہے تھے۔ جی ہاں، پوری ریاست کا سربراہ بغیر کسی محافظ کے، بغیر کسی شاہی قافلے کے، صرف ایک اونٹ پر سوار۔ ان کے ساتھ صرف ان کا خادم اسلم تھا۔

اسلم نے ادب سے عرض کیا:
“یا امیر المومنین، آپ اونٹ پر سوار ہوں، میں پیدل چل لوں گا۔”

حضرت عمر نے محبت سے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا:
“نہیں اسلم، تم بھی تھک جاؤ گے۔ ہم باری باری سوار ہوں گے۔ ابھی تم سوار ہو جاؤ، میں پیدل چلتا ہوں۔”

اسلم حیران رہ گیا۔ وہ کیا کہتا؟ امیر المومنین پیدل چلیں اور وہ سوار ہو جائے؟ لیکن وہ جانتا تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بحث کرنا بے ادبی تھی۔ اس نے خاموشی سے اونٹ پر سواری کی۔

یہ وہ قافلہ تھا جس کی شان و شوکت سے پوری دنیا واقف تھی، لیکن قافلے کا مالک زمین پر ننگے پاؤں چل رہا تھا۔

کچھ ہی دیر بعد، راستے میں ایک ندی آئی۔ حضرت عمر نے اونٹ روک دیا۔ انہوں نے اپنے جوتے اتارے، اپنے کاندھے پر رکھے، اور ندی پار کرنے لگے۔ اسلم نے دیکھا تو اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ خلیفہ کا یہ عالم!

کئی دنوں کا سفر طے کرنے کے بعد، وہ شام کی سرحد پر پہنچے۔ جہاں سے ان کا استقبال کرنے کے لیے شام کے سپہ سالار ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑے تھے۔

دور سے ایک دھول اڑتی نظر آئی۔ ابو عبیدہ نے کہا کہ قافلہ آ رہا ہے۔ سب نے تیاری کر لی۔ لیکن جب قافلہ قریب آیا تو سب کی آنکھیں پھٹ گئیں۔

وہ کیا دیکھ رہے تھے؟

ایک معمولی سا اونٹ، جس پر ایک غلام بیٹھا تھا۔ اور اس اونٹ کی مہار تھامے ایک بزرگ پیدل چل رہے تھے۔ ان کے کپڑے مٹی سے لت پت تھے، چہرے پر گرد اڑ رہی تھی۔

ابو عبیدہ نے قریب آ کر دیکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ یہ کوئی مسافر نہیں تھا۔ یہ خود خلیفۂ وقت تھے۔

وہ دوڑ کر آگے بڑھے اور عرض کیا:
“یا امیر المومنین! آپ یہ حالت؟ آپ پیدل؟ اور یہ آپ کا غلام اونٹ پر؟ یہ آپ کا تو قافلہ ہونا چاہیے تھا، آپ اس کی سواری کا انتظام کرتے؟”

حضرت عمر نے مسکرا کر کہا:
“ابو عبیدہ، اونٹ تو ایک ہی ہے اور ہم دو ہیں۔ ہم نے باری باری سوار ہونا تھا۔ آج اسلم کی باری تھی، تو وہ سوار ہے۔”

ابو عبیدہ اور تمام فوجی خاموش کھڑے تھے۔ وہ اپنے خلیفہ کو اس حال میں دیکھ کر حیران تھے لیکن ان کے دلوں میں اس سے بھی زیادہ عزت بڑھ رہی تھی۔

انہوں نے اصرار کیا کہ امیر المومنین اب شہر میں داخل ہوں تو شاہانہ انداز میں ہوں۔ ان کے لیے گھوڑے، زرہ بکتر، اور جھنڈے تیار کیے گئے۔

لیکن حضرت عمر نے ٹھکرا دیا۔

انہوں نے فرمایا:
“نہیں ابو عبیدہ، میں تمہارا بادشاہ نہیں ہوں۔ میں تمہارا خادم ہوں۔ میں اس لباس میں آیا ہوں، اسی لباس میں شہر میں داخل ہوں گا۔”

ان کی آواز میں ایسی مضبوطی تھی کہ کوئی بات نہ کر سکا۔

پھر وہ لمحہ آیا جب وہ شہر میں داخل ہو رہے تھے۔ شہر کی عمارتیں بلند تھیں، بازار رونق تھے، اور لوگ اپنے نئے امیر کا استقبال کرنے کے لیے نکل آئے۔

انہیں بتایا گیا تھا کہ امیر المومنین خود آ رہے ہیں، لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ امیر المومنین پیدل چل رہے ہیں، ان کے کپڑے سادہ ہیں، اور ان کے غلام کو وہ ترجیح دے رہے ہیں، تو ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی۔

کسی نے کہا: “یہ ہمارا بادشاہ ہے؟”
کسی نے کہا: “یہ تو فقیر لگتا ہے۔”
کسی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

شام کے ایک بوڑھے عیسائی نے یہ منظر دیکھا تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا:
“بیٹا، یہی ہے وہ بادشاہ جس کی عدل کی داستانیں پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ آج میں نے خود دیکھ لیا کہ یہ بادشاہ نہیں، فرشتہ ہے۔ اگر اسلام کا بادشاہ ایسا ہے تو پھر یہ دین سچا ہے۔”

                    ⓕ ⓞ ⓛ ⓛ ⓞ ⓦ
               Ⓗ Ⓐ ⓠ Ⓔ Ⓔ ⓠ Ⓐ Ⓣ  
           Ⓐ Ⓤ Ⓡ   Ⓕ Ⓐ Ⓢ Ⓐ Ⓝ Ⓐ

شہر کے اندر داخل ہوتے ہی حضرت عمر نے ابو عبیدہ سے کہا:
“مجھے بتاؤ، یہاں کے لوگ کیسے ہیں؟ ان کا کھانا، پانی، رہائش سب ٹھیک ہے؟”

ابو عبیدہ نے بتایا کہ سب ٹھیک ہے۔ لیکن حضرت عمر مطمئن نہیں ہوئے۔ انہوں نے رات کے وقت چھپ کر شہر کا دورہ کیا۔ وہ خود بازاروں میں گئے، لوگوں کی باتیں سنی، ان کے دکھ سمجھے۔

ایک رات وہ شہر کے کنارے ایک جھونپڑی کے پاس پہنچے۔ اندر سے ایک بوڑھی عورت کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔

حضرت عمر نے آہستہ سے دروازہ کھٹکھٹایا۔
بوڑھی عورت نے اندر سے پوچھا: “کون ہے؟”
جواب ملا: “ایک مسافر۔ کیا کوئی ضرورت ہے؟”

عورت نے کہا: “میرا بیٹا بیمار ہے، اسے دودھ چاہیے، لیکن میرے پاس کچھ نہیں۔ یہاں کا بادشاہ تو دور بیٹھا ہے، اسے ہم غریبوں کی کیا خبر؟”

حضرت عمر کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ فوراً واپس آئے، اپنے کندھے پر دودھ کا مشکیزہ لادا، اور خود اس عورت کے گھر واپس گئے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے دودھ گرم کیا، اور بیمار بچے کو پلایا۔

صبح جب بوڑھی عورت کو پتہ چلا کہ رات کو خود امیر المومنین نے ان کے دروازے پر دستک دی تھی، تو وہ کانپ گئی۔ وہ دوڑتی ہوئی آئی اور حضرت عمر کے قدموں میں گر گئی۔

لیکن حضرت عمر نے اسے اٹھایا اور کہا:
“ماں، یہ میرے فرض کا حصہ تھا۔ تم فکر نہ کرو، اب تمہارا بیٹا ٹھیک ہو جائے گا۔”

یہ منظر دیکھ کر شہر کے تمام لوگ خاموش ہو گئے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا کہ عدل کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے۔

ایک دن شہر کے کچھ بڑے لوگوں نے حضرت عمر سے کہا:
“یا امیر المومنین، آپ اتنی سادگی سے کیوں رہتے ہیں؟ آپ تو پوری ریاست کے مالک ہیں۔ آپ کے لیے یہ زیب نہیں دیتا۔”

حضرت عمر نے فرمایا:
“تم جانتے ہو، میں نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ ’جس نے عاجزی کی اللہ اسے بلندی عطا کرتا ہے۔‘ میں دنیا کا بادشاہ نہیں بننا چاہتا، میں آخرت کا حساب دینے والا ہوں۔

اگر میں نے شاہی لباس پہن لیا، شاہی محل بنا لیے، تو پھر میں اس یتیم کے سوال کا جواب کیسے دوں گا؟ میں اس بیوہ کی پکار کیسے سنوں گا؟ میں اس قیدی کی شکایت کیسے سنوں گا جو مجھ سے ملوں گا ہی نہیں؟”

ان کے یہ الفاظ سن کر سب کی آنکھیں جھک گئیں۔

حضرت عمر کا یہ قافلہ، جس میں نہ کوئی شاہی جھنڈا تھا، نہ کوئی نقارخانہ، نہ کوئی محافظ، آج بھی تاریخ کا وہ سورج ہے جس کی روشنی سے زمانہ منور ہے۔

یہ قافلہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصل عزت عاجزی میں ہے، اصل بادشاہت خدمت میں ہے، اصل قافلہ وہ ہے جس میں امیر اور غریب دونوں برابر ہوں۔

چند روز بعد جب حضرت عمر واپس مدینہ جانے لگے تو شہر کے لوگ انہیں رخصت کرنے کے لیے نکل آئے۔ وہی بوڑھی عورت، جس کے بیٹے کو انہوں نے دودھ پلایا تھا، آگے بڑھی اور اس نے کہا:
“یا امیر المومنین، آپ جیسا بادشاہ نہیں دیکھا، نہ سنیں گے۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔”

حضرت عمر نے اسے دعا دی اور پھر اپنے اونٹ کی طرف بڑھے۔ اسلم پھر ان کے ساتھ تھا۔ اسلم نے کہا:
“یا امیر المومنین، آج میری باری ہے پیدل چلنے کی۔ آپ سوار ہو جائیں۔”

لیکن حضرت عمر نے مسکرا کر کہا:
“نہیں اسلم، ابھی دونوں تھکے ہوئے ہیں۔ آج ہم دونوں پیدل چلیں گے۔”

یہ کہہ کر انہوں نے اونٹ کی مہار اپنے ہاتھ میں لی اور وہ دونوں پیدل چلنے لگے۔

یہ تھا وہ قافلہ، جس کی راہیں آج بھی عدل و انصاف کے متلاشیوں کے لیے روشن ہیں۔

🌙

خلاصہ یہ کہ:
حقیقی قیادت تخت و تاج میں نہیں، عاجزی اور خدمت میں ہوتی ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا یہ قافلہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جو لوگوں کا خادم بن جائے، اللہ اسے دنیا اور آخرت دونوں میں سرفرازی عطا فرماتا ہے۔

اس کہانی نے آپ کے دل کو چھوا تو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔
ایسی اور سچی کہانیوں کے لیے، ہمارے پیج حقیقت اور فسانہ کو ضرور فالو کریں۔
اگر یہ تحریر آپ کے دل کو چھو گئی تو تبصرے میں ضرور بتائیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner