عقل تدبیر اور طاقت

عقل تدبیر اور طاقت

مراد شاہ پور کا سب سے طاقتور پہلوان تھا، جس کے لوہے جیسے ڈولے اور گرز کی دھاک دور دور تک بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کا ماننا تھا کہ دنیا کا ہر مسئلہ صرف اور صرف طاقت سے حل ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی اس سے اختلاف کرتا، تو وہ محض اپنے مسلز دکھا کر بات ختم کر دیتا۔
اسی گاؤں کے ایک کونے میں بوڑھا استاد دین محمد رہتا تھا، جس کی کمر تو جھک چکی تھی مگر اس کی آنکھوں میں تجربے کی شمعیں جلتی تھیں۔ وہ اکثر کہا کرتا: “مراد! جھکنے والی شاخ ہمیشہ طوفان سے بچ جاتی ہے، اور تنی ہوئی لکڑی ٹوٹ جاتی ہے۔” مگر مراد اس کی بات ہنس کر ٹال دیتا۔
ایک دن گاؤں کے سب سے بڑے نہری بند میں اچانک شگاف پڑ گیا۔ پانی کا تیز بہاؤ فصلوں کی طرف بڑھنے لگا۔ گاؤں میں افراتفری مچ گئی۔ مراد پہلوان اپنے طاقتور ساتھیوں کے ساتھ دوڑتا ہوا وہاں پہنچا۔ اس نے شگاف کو دیکھ کر غرور سے کہا، “ہٹو پیچھے! میں ابھی اس پانی کو روکتا ہوں!”
مراد نے لکڑی کے بھاری شہتیر اٹھائے اور اپنی پوری طاقت لگا کر پانی کے بہاؤ کے آگے قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں، رگیں پھول چکی تھیں۔ اس نے اپنی تمام تر جسمانی قوت جھونک دی، مگر پانی کا تھپیڑا اتنا شدید تھا کہ اس نے مراد کو شہتیر سمیت دور پھینک دیا۔ مراد بار بار اٹھا، بار بار زور لگایا، لیکن پانی کا بہاؤ ہر لمحہ تیز ہوتا گیا۔ طاقت، غصہ اور ہٹ دھرمی اب پانی کے سامنے بے بس ہو چکی تھیں۔
لوگ خوفزدہ ہو کر بھاگنے لگے کہ اب پورا گاؤں ڈوب جائے گا۔
تب ہی استاد دین محمد لکڑی کے سہارے چلتا ہوا وہاں پہنچا۔ اس نے پانی کے بہاؤ اور شگاف کا خاموشی اور گہرے صبر کے ساتھ جائزہ لیا۔ اس نے دیکھا کہ سامنے سے سیدھا زور لگانے سے پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
استاد دین محمد نے بلند آواز میں کہا، “سنیے! پانی سے مت لڑو، اس کا راستہ بدلو!”
اس نے مراد کو دور ہٹا کر گاؤں کے جوانوں کو ہدایت دی: “مراد کے شہتیروں کو سیدھا پانی کے آگے مت رکھو، بلکہ شگاف سے تھوڑا پیچھے، زاویے (Angle) پر مٹی کی بوریوں کی ایک ڈھالان (Slope) بناؤ۔ پانی کو سیدھا روکنے کی بجائے اسے دائیں طرف بنے پرانے نالے کی طرف موڑ دو۔”
مراد نے غصے سے کہا، “بابا! جب میری اتنی طاقت کام نہ آئی تو ان مٹی کی بوریوں سے کیا ہوگا؟”
استاد دین محمد نے نرمی سے کہا، “صبر کرو اور دیکھو۔”
تمام جوانوں نے استاد کی ہدایت پر عمل کیا۔ انہوں نے پانی سے براہِ راست مقابلہ کرنے کے بجائے، عقل اور تدبیر سے کام لیا۔ پہلے ایک چھوٹا راستہ بنا کر پانی کا دباؤ کم کیا، اور پھر زاویے پر مٹی اور پتھروں کی بوریاں رکھتے گئے۔ پانی نے اپنا رخ بدلا اور پرانے نالے کی طرف بہنا شروع ہو گیا۔ چند ہی گھنٹوں میں، بغیر کسی بےجا طاقت کے استعمال کے، شگاف کو کامیابی سے بند کر دیا گیا۔
گاؤں ڈوبنے سے بچ گیا۔ لوگ استاد دین محمد کی عقل اور حکمت کی تعریف کر رہے تھے۔
مراد پہلوان ایک کونے میں کھڑا اپنے چھلے ہوئے ہاتھوں اور تھکے ہوئے جسم کو دیکھ رہا تھا۔ اسے آج زندگی کا سب سے بڑا سبق مل چکا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا استاد دین محمد کے پاس آیا، ان کے آگے جھکا اور بولا:
“استاد جی! آج مجھے سمجھ آیا کہ ہر دیوار کو مکے سے نہیں گرایا جا سکتا۔ کبھی کبھی صبر سے راستہ دیکھنا اور عقل کی تدبیر بنانا، انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتا ہے۔”
استاد دین محمد نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر کہا، “طاقت جسم کو جیت سکتی ہے مراد، مگر عقل اور صبر حالات کو فتح کرتے ہیں۔”

Leave a Reply

NZ's Corner