ایک گاؤں میں ایک جولاہا رہتا تھا۔ وہ دل کا بہت صاف تھا، کسی کا برا نہیں سوچتا تھا، لیکن ایک کمزوری تھی… وہ دوسروں کی باتوں پر جلد یقین کر لیتا تھا۔
ایک دن اس نے بڑی محنت سے جمع کی ہوئی رقم سے شہر سے چار مضبوط اور تندرست گدھے خریدے۔ خوشی خوشی ان کی رسیاں ہاتھ میں پکڑے گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔
راستے میں تین شاطر چوروں نے اسے دیکھا۔ گدھے اچھے تھے، اور چوروں کی نیت خراب۔
انہوں نے ایک عجیب منصوبہ بنایا۔
پہلا چور آگے بڑھا، جولاہے کو سلام کیا اور حیرت سے بولا:
“ارے میاں! یہ چار کتے کہاں لیے جا رہے ہو؟”
جولاہا غصے سے بولا:
“تمہاری آنکھیں خراب ہیں کیا؟ یہ کتے نہیں، گدھے ہیں!”
چور معصوم سا منہ بنا کر بولا:
“اچھا! اگر تم کہتے ہو تو ٹھیک ہے۔”
اور چل دیا۔
جولاہا دل ہی دل میں ہنسا کہ عجیب پاگل آدمی تھا۔
تھوڑی دور گیا تو دوسرا چور ملا۔
اس نے چاروں جانوروں کو دیکھا اور افسوس سے سر ہلانے لگا۔
“بھائی! اتنے مہنگے زمانے میں چار کتے پالنے کا شوق بھی عجیب ہے۔”
اب جولاہا تھوڑا رکا۔
اس نے گدھوں کے کان دیکھے، دم دیکھی، ٹانگیں دیکھیں اور خود کو سمجھایا:
“نہیں، یہ گدھے ہی ہیں۔”
مگر شک کا ایک ننھا سا بیج اس کے دل میں بویا جا چکا تھا۔
کچھ فاصلے پر تیسرا چور درخت کے نیچے بیٹھا تھا۔
جولاہے کو دیکھتے ہی زور زور سے ہنسنے لگا۔
“واہ میاں واہ! زندگی میں پہلی بار کسی کو چار کتوں پر بوجھ لادنے کا خواب دیکھتے دیکھا ہے!”
اب جولاہے کے قدم رک گئے۔
اس نے چاروں جانوروں کو دوبارہ غور سے دیکھا۔
پھر سوچنے لگا:
“ایک آدمی غلط ہو سکتا ہے… دو آدمی بھی غلط ہو سکتے ہیں… لیکن تین الگ الگ آدمی ایک جیسی بات کریں، تو ضرور کوئی نہ کوئی بات ہوگی!”
اب اسے یقین ہو گیا کہ شہر والے نے اسے دھوکہ دے دیا ہے۔
شرمندگی اور غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
اس نے جھٹکے سے چاروں رسیاں زمین پر پھینک دیں اور بولا:
“لے جاؤ اپنے کتے! مجھے نہیں چاہیے ایسے جانور!”
وہ غصے میں گھر کی طرف چل پڑا۔
ادھر جھاڑیوں کے پیچھے چھپے تینوں چور نکلے، ہنسے، چاروں گدھوں کو پکڑا اور آرام سے لے کر رفو چکر ہو گئے۔
شام کو جب جولاہے نے گاؤں والوں کو سارا قصہ سنایا تو سب قہقہے مار کر ہنسنے لگے۔
ایک بوڑھا شخص مسکرایا اور بولا:
“بیٹا! تمہارے گدھے چور نہیں لے گئے… تمہاری عقل لے گئے تھے۔”
یہ سن کر جولاہا سر جھکا کر خاموش ہو گیا۔
اس دن اسے سمجھ آیا کہ ہر وہ بات سچ نہیں ہوتی جو بار بار سنائی جائے۔
سبق:
زندگی میں بہت سے لوگ آپ کو آپ کی حقیقت، آپ کی صلاحیت اور آپ کے فیصلوں پر شک دلانے کی کوشش کریں گے۔
اگر آپ اپنی آنکھوں سے دیکھی ہوئی سچائی کو چھوڑ کر لوگوں کی باتوں پر یقین کرنے لگیں، تو نقصان ہمیشہ آپ کا ہوگا اور فائدہ ہمیشہ “چوروں” کا۔
یاد رکھیں:
“جھوٹ جب بار بار بولا جائے تو سچ نہیں بنتا، لیکن کمزور ذہن ضرور اس پر یقین کر لیتے ہیں۔”
