کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس کے دل میں طاقت کا غرور اور خواہشات کا طوفان موجزن رہتا تھا۔ ایک دن اس کے کانوں میں ایک کسان کی بیوی کے حسن و جمال کے چرچے پڑے۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ نہ صرف بے حد خوبصورت ہے بلکہ عقل و فہم میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔
بادشاہ کے دل میں اسے دیکھنے کی خواہش جاگی۔ اس نے فوراً گھوڑا تیار کرایا اور چند خادموں کے ساتھ کسان کے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا۔
کسان نے جب بادشاہ کو اپنے دروازے پر دیکھا تو گھبرا گیا۔ ادب سے سر جھکا کر بولا:
“حضور! میرے غریب خانے کو عزت بخشی، کیا حکم ہے؟”
بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا:
“ہم نے سنا ہے تمہارا کھیت بہت سرسبز ہے۔ آج رات ہم وہیں قیام کرنا چاہتے ہیں۔”
کسان سمجھ گیا کہ بادشاہ کی نیت کھیت سے زیادہ کسی اور طرف ہے، مگر وہ بے بس تھا۔ اس نے لرزتی آواز میں عرض کیا:
“حضور، جیسا حکم۔ البتہ میری بیوی سخت بیمار ہے، اس لیے آپ کی خدمت اچھی طرح نہ کر سکے گی۔”
بادشاہ نے معنی خیز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا:
“کوئی بات نہیں، ہم خود ہی سب دیکھ لیں گے۔”
شام ڈھلی تو کسان پریشانی کے عالم میں گھر پہنچا اور سارا ماجرا اپنی بیوی کو سنا دیا۔
عورت نے کچھ دیر سوچا، پھر اس کی آنکھوں میں شرارت بھری چمک نمودار ہوئی۔
“فکر نہ کرو،” وہ بولی، “بادشاہ کے پاس طاقت ہوگی، مگر عقل ہر وقت تخت پر نہیں بیٹھتی۔”
اس نے ایک عجیب منصوبہ بنایا۔ اپنے شوہر کو بھیڑیا جیسا لباس پہنایا اور سمجھایا:
“جب رات گہری ہو جائے اور بادشاہ یہاں پہنچے تو تم جنگل کی طرف سے بھیڑیا بن کر آنا، خوب ہانپنا اور عجیب آوازیں نکالنا۔ باقی مجھ پر چھوڑ دو۔”
رات کی سیاہی نے زمین کو اپنی چادر میں لپیٹ لیا۔ بادشاہ خاموشی سے کھیت کی طرف آیا۔ ابھی وہ چارپائی کے قریب پہنچا ہی تھا کہ اچانک جھاڑیوں میں کھڑکھڑاہٹ ہوئی۔
اگلے ہی لمحے ایک خوفناک بھیڑیا غرّاتا ہوا نمودار ہوا اور لپک کر بادشاہ کے قدموں سے لپٹ گیا۔
بادشاہ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔
اسی وقت کسان کی بیوی زور سے چیخی:
“یا اللہ خیر! یہ وہی خونخوار بھیڑیا ہے! پچھلے مہینے تین آدمیوں کو چٹ کر گیا تھا!”
پھر وہ روتی ہوئی بولی:
“حضور! بھاگ جائیے، ورنہ آج اس کا چوتھا شکار آپ ہوں گے!”
یہ سننا تھا کہ بادشاہ کے اوسان خطا ہو گئے۔ نہ تاج کی شان یاد رہی، نہ سلطنت کا رعب۔ وہ جان بچانے کی فکر میں اندھیرے ہی میں دوڑ پڑا۔
کہتے ہیں کہ اس رات کے بعد بادشاہ نے کبھی اس گاؤں کا رخ نہ کیا۔
جب خطرہ ٹل گیا تو کسان نے خوشی اور محبت سے اپنی بیوی کو گلے لگا لیا۔
“تم نے نہ صرف میری عزت بچائی، بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ عقل کی طاقت تلوار سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔”
عورت مسکرائی اور بولی:
“جہاں حاضر دماغی پہرہ دے رہی ہو، وہاں بڑے سے بڑا بادشاہ بھی شکست کھا جاتا ہے۔”
سبق
عقل، تدبیر اور حاضر دماغی وہ قوتیں ہیں جو طاقت اور رعب و دبدبے کو بھی مات دے سکتی ہیں۔
اور جیسا کہ پنجاب کی لوک دانش کہتی ہے:
“چالاک انسان کے سامنے بڑے بڑے زور آور بھی بے بس ہو جاتے ہیں۔”
#منقول
