چاروں طرف جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی خوبصورت جھیل میں رنگ برنگی مچھلیاں رہتی تھیں۔وہیں بہت سارے مینڈک بھی رہتے تھے۔یہ بارشوں کا موسم تھا۔چھوٹے چھوٹے مینڈک جگہ جگہ پھدکتے نظر آتے۔جو ابھی نئے نئے دُم جھڑ جانے کے بعد ہاتھ پیر نکال کر مچھلی سے مینڈک کے روپ میں تبدیل ہوئے تھے۔وہ سب یا تو ہرے رنگ کے تھے یا پھر بھورے رنگ کے۔
لیکن سب مل کر کھیلتے اور مل کر کھاتے۔ان ہی میں ایک مینڈک نہ پورا ہرے رنگ کا تھا اور نہ بھورے رنگ کا، بلکہ دھنک کے رنگوں کی طرح کئی رنگوں کا امتزاج تھا۔اس کا نام ٹنکو تھا۔ابھی تک کسی نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا تھا اور نہ ٹنکو کو معلوم تھا کہ وہ سب سے الگ ہے۔ایک دن خوب تیز دھوپ نکلی۔یہ ٹنکو کی زندگی کی پہلی دھوپ تھی۔
اب بارشوں کے دن ختم ہو رہے تھے۔
”ارے واہ! ٹنکو کو دیکھو یہ کتنا خوبصورت ہے۔“
دھوپ میں ٹنکو کے رنگ خوب چمک رہے تھے۔سب ٹنکو کے ارد گرد جمع ہو گئے اور اس کی تعریف کرنے لگے۔ٹنکو ان کی تعریف سے پہلے تھوڑا شرمایا اور پھر اِترایا، غرور سے سر اونچا کر کے ایک جانب چلتے ہوئے بولا:”چلو ہٹو، میرے پاس سے کیا کبھی خوبصورت مینڈک نہیں دیکھا․․․․․؟ ہاں دیکھا بھی کیسے ہو گا میرے جیسا خوبصورت مینڈک کبھی اس جھیل میں پیدا ہی نہیں ہوا۔
“
ٹنکو پھدکتا ہوا پانی کی طرف آیا پانی میں اپنا عکس دیکھ کرٹنکو کا غرور اور بھی بڑھ گیا۔ٹنکو دیر تک سوچتا رہا۔وہ ایک خاص مینڈک ہے۔سب سے خوبصورت، سب سے الگ۔اسے ان بدصورت مینڈکوں کو منہ نہیں لگانا چاہیے۔اب وہ سب سے الگ رہنے لگا۔کوئی اس سے بات کرتا تو بدتمیزی سے جواب دیتا اور کسی کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیتا۔
ایک دفعہ کچھ مینڈک کے بچے اس کے پاس آئے۔
ان میں سے ایک مینڈک نے کہا:”تم ہر وقت اکیلے بیٹھے رہتے ہو، آؤ! ہمارے دوست بن جاؤ، مل کر کھیلتے ہیں۔“
یہ کہتے ہوئے دوسرے مینڈک نے دوستی کے لئے ہاتھ بڑھایا۔
ٹنکو نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور بولا:”میں بدصورت مینڈکوں سے دوستی نہیں کرتا۔“
”تم ہمارے جیسے ہی تو ہو۔بس تمہارے رنگ تھوڑے مختلف ہیں۔اس سے کیا ہوتا ہے، ہو تو تم مینڈک ہی نا۔
“ دوسرے مینڈک نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
یہ سن کر ٹنکو کو بہت غصہ آیا، ٹنکو نے اسے زور سے دھکا دیا اور بولا:”نہیں، بالکل نہیں! میں ایک خاص مینڈک ہوں اور تم کو میرے قریب آنے کی بھی ضرورت نہیں، تمہارا گندا رنگ میرے بھی لگ جائے گا اور میرے رنگ بھی خراب ہو جائیں گے۔“
ٹنکو غصے سے ایک طرف چل دیا۔ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ اسے اپنے قریب بھاری قدموں کی آوازیں سنائی دیں۔
”اوہ! دیکھو! کتنا خوبصورت مینڈک ہے۔میں اسے ضرور پکڑوں گا۔“ یہ کہہ کر ایک موٹا سا لڑکا ٹنکو کی طرف بھاگا اور ٹنکو جان بچانے کے لئے جھیل کی طرف دوڑا، لیکن سب سے الگ رہنے کے چکر میں وہ تو جھیل سے بھی کافی دور آ گیا تھا۔کسی بچے کا ہاتھ اس کی طرف بڑھا اور اس کو دبوچ لیا۔اسے اُٹھا کر ایک ڈبے میں بند کر دیا گیا۔ڈبے میں گھپ اندھیرا تھا۔
ٹین کے ڈبے کی زمین بھی سخت اور ٹھنڈی تھی۔اب ٹنکو کو اپنے رویے پر پچھتاوا ہو رہا تھا۔کاش! وہ سب کے ساتھ رہتا تو ایسا نہ ہوتا۔اسے سب یاد آ رہے تھے۔وہ بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا۔پتا نہیں وہ کتنی دیر اس ڈبے میں بند رہا۔پھر اسے ایک شیشے کے بکس میں ڈال دیا گیا تھا۔یہاں بھی وہ اکیلا تھا۔اب نہ سورج کی پیاری دھوپ تھی جس میں اس کے رنگ چمکتے اور نہ چاند کی چاندنی، نہ خوشبودار جھیل کی جھاڑیاں اور نہ سونے کے لئے جھیل کی نرم زمین۔
ٹنکو سارا دن اپنی جھیل اور ساتھیوں کو یاد کرتا رہتا اور سوچتا کاش! وہ بھی ایک عام سے رنگ کا مینڈک ہوتا۔ایک دن بچے کو مینڈک پر رحم آ گیا۔وہ جھیل پر آیا اور بوتل کو نرم زمین پر اُلٹ دیا۔تھوڑی دیر بعد وہ اپنے ساتھیوں تک پہنچ گیا۔ اس کو اب سمجھ آ چکی تھی کہ مل جل کر رہنے میں ہی بہتری ہے اس نے اپنے ساتھیوں سے معافی مانگی اور سب کے ساتھ محبت سے مل کر رہنے لگا۔
