فرعون کے بعد بنی اسرائیل کی آزمائشیں

فرعون کے بعد بنی اسرائیل کی آزمائشیں

فرعون کے غرق ہونے اور سمندر کی لہروں کے تھم جانے کے بعد بنی اسرائیل ایک ایسی فضا میں سانس لے رہے تھے جسے ان کی کئی نسلوں نے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔

یہ صرف ایک ہجرت نہ تھی…

یہ ایک غلام قوم کی نفسیاتی، فکری اور روحانی تعمیرِ نو کا آغاز تھا۔

مگر آزادی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔

آزادی اپنے ساتھ ذمہ داریاں، آزمائشیں اور صبر بھی لاتی ہے۔

جیسے ہی بنی اسرائیل نے صحرائے سینا کی تپتی زمین پر قدم رکھا، انہیں پہلی بڑی آزمائش نے گھیر لیا۔

پانی ختم ہو چکا تھا۔

پیاس شدت اختیار کر چکی تھی۔

وہ تین دن تک پانی کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔

یہ علاقہ اپنی شدید گرمی، خشک پہاڑوں اور سخت ماحول کے لیے مشہور تھا، جہاں زندہ رہنا بھی ایک معرکہ تھا۔

جب پیاس ناقابلِ برداشت ہو گئی تو قوم نے پھر احتجاج شروع کر دیا۔

انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شکایت کی۔

مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی لاٹھی میں پھر معجزہ چھپا رکھا تھا۔

اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے چٹان پر لاٹھی ماری…

اور اس سے ایک نہیں بلکہ بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔

تاکہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے ہر قبیلے کا الگ پانی ہو اور آپس میں جھگڑا نہ ہو۔

📖 قرآن فرماتا ہے:

“اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا اپنی لاٹھی اس پتھر پر مارو، تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا۔”
(سورۃ البقرہ: 60)

پانی ملا تو اب خوراک کا مسئلہ سامنے آیا۔

صحرا میں لاکھوں افراد کے لیے اناج کہاں سے آتا؟

تب اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی خاص نعمت نازل فرمائی:

✨ من و سلویٰ ✨

تفاسیر میں آتا ہے کہ:

من سفید، میٹھا اور شہد جیسا رزق تھا جو شبنم کی طرح گرتا تھا۔

سلویٰ بٹیر جیسے پرندے تھے جو شام کے وقت خیموں کے قریب آ جاتے اور آسانی سے پکڑے جاتے۔

📖 قرآن فرماتا ہے:

“اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا، اور کہا ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کیں۔”
(سورۃ البقرہ: 57)

مگر افسوس…

اتنی نعمتوں کے باوجود ان کے دلوں سے مصر کی غلامی اور وہاں کے بت پرستانہ اثرات مکمل ختم نہ ہوئے تھے۔

قدیم مصر میں بیل کی پوجا عام تھی، اور اس کا اثر ان کے ذہنوں میں باقی تھا۔

اسی دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پر بلایا۔

پہلے تیس راتوں کا وعدہ ہوا، پھر دس راتوں کا اضافہ کر دیا گیا۔

یوں چالیس راتیں مکمل ہوئیں۔

📖 قرآن فرماتا ہے:

“اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور انہیں مزید دس سے پورا کیا، پس اس کے رب کی مقرر کردہ مدت چالیس راتیں پوری ہو گئی۔”
(سورۃ الاعراف: 142)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں ایک شخص سامری نے قوم کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔

اس نے لوگوں سے سونے کے زیورات جمع کیے، انہیں پگھلایا، اور ایک سنہری بچھڑا بنا دیا۔

وہ بچھڑا ایسا بنایا گیا کہ اس سے آواز نکلتی تھی۔

ایمان میں کمزور لوگ فوراً دھوکے میں آ گئے۔

انہوں نے کہنا شروع کر دیا:

“یہی تمہارا معبود ہے، اور موسیٰ کا بھی!”

📖 قرآن فرماتا ہے:

“پھر اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکال لایا، ایک جسم جس کی بیل جیسی آواز تھی، تو وہ کہنے لگے یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی، مگر موسیٰ بھول گئے۔”
(سورۃ طٰہٰ: 88)

حضرت ہارون علیہ السلام نے بہت سمجھایا:

یہ تمہارے رب کی طرف سے آزمائش ہے۔

مگر قوم نے ان کی ایک نہ سنی۔

انہوں نے کہا:

“جب تک موسیٰ واپس نہیں آتے، ہم اسی کی عبادت کرتے رہیں گے۔”

دوسری طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ تورات عطا فرما رہے تھے۔

زندگی کے احکامات، قانون، عبادات، اخلاق اور قوم کی رہنمائی کے اصول انہیں دیے جا رہے تھے۔

جب اللہ تعالیٰ نے انہیں قوم کے فتنے کی خبر دی تو وہ شدید غصے اور رنج کے ساتھ واپس آئے۔

انہوں نے آ کر دیکھا کہ قوم بچھڑے کے سامنے جھکی ہوئی ہے۔

یہ منظر دیکھ کر ان کا دل ٹوٹ گیا۔

انہوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام سے باز پرس کی۔

بعد میں حقیقت واضح ہوئی کہ قصور سامری اور قوم کی سرکشی کا تھا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری کو سزا دی اور قوم کو توبہ کا حکم دیا۔

🌿 سبق کیا ہے؟

معجزے دیکھ لینا ہدایت کی ضمانت نہیں…

اگر دل میں اخلاص نہ ہو تو انسان نعمت پا کر بھی بھٹک جاتا ہے۔

اللہ نے بنی اسرائیل کو آزادی دی، پانی دیا، رزق دیا، سایہ دیا، کتاب دی…

مگر انہوں نے بار بار ناشکری کی۔

💔 یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سب سے بڑی جنگ باہر کے دشمن سے نہیں… اپنے اندر کے شرک، خواہشات اور نافرمانی سے ہوتی ہے۔

✨ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔

Leave a Reply

NZ's Corner