فقیر اور گدھے کی کہانی

فقیر اور گدھے کی کہانی



ایک دن وتایو فقیر اپنے گدھے پر لکڑیاں لاد کر شہر کی طرف جا رہا تھا۔ وہ خود بھی گدھے پر بیٹھا ہوا تھا۔

راستے میں کچھ لوگوں نے دیکھا اور ہنس کر کہا:
“دیکھو یہ پاگل فقیر، خود بھی گدھے پر بیٹھا ہے اور لکڑیاں بھی گدھے پر لادی ہیں، بےچارہ گدھا مر جائے گا۔”

وتایو نے یہ سنا تو فوراً گدھے سے اتر گیا اور پیدل چلنے لگا، گدھا خالی چل رہا تھا۔

آگے جا کر دوسرے لوگ ملے، وہ کہنے لگے:
“دیکھو یہ کتنا بےوقوف ہے، گدھا خالی جا رہا ہے اور خود پیدل چل رہا ہے، بیٹھ کیوں نہیں جاتا؟”

وتایو نے یہ سنا تو پھر گدھے پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔

کچھ اور آگے گیا تو تیسرے لوگ ملے، وہ بولے:
“اس ظالم کو دیکھو، خود بھی گدھے پر بیٹھا ہے اور لکڑیاں بھی اسی پر رکھی ہیں، کتنا ظلم کر رہا ہے بےزبان جانور پر۔”

وتایو پریشان ہو گیا۔ اب کیا کرے؟ اس نے لکڑیاں اپنے سر پر رکھ لیں اور خود گدھے پر بیٹھا رہا۔

لوگ یہ دیکھ کر اور زیادہ ہنسنے لگے:
“دیکھو یہ تو پورا پاگل ہے، لکڑیاں اپنے سر پر رکھی ہیں اور خود گدھے پر بیٹھا ہے!”

آخر میں وتایو فقیر نے تنگ آ کر سب لوگوں کو جمع کیا اور کہا:

> *”سنو! دنیا کا کام ہے کہنا۔ تم جتنے بھی اچھے بن جاؤ، جتنے بھی سیدھے چل لو، دنیا تم میں عیب نکالے گی ہی۔ اس لیے اپنے دل کی سنو، دنیا کی نہیں۔”*

اس کہانی سے سبق !!!!!!!!

آج ہم بھی وتایو فقیر بنے ہوئے ہیں۔ ہم ہر فیصلہ یہ سوچ کر کرتے ہیں کہ “لوگ کیا کہیں گے؟”

کپڑے پہنیں تو لوگوں کے لیے، نوکری کریں تو لوگوں کے لیے، شادی کریں تو لوگوں کے لیے، ہنسیں بھی تو لوگوں کو دیکھ کر۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کو آپ کبھی خوش نہیں کر سکتے۔

– آپ خاموش رہو گے تو کہیں گے مغرور ہے۔
– آپ بولو گے تو کہیں گے بہت بولتا ہے۔
– آپ سادہ رہو گے تو کہیں گے بےوقوف ہے۔
– آپ اچھا پہنو گے تو کہیں گے دکھاوا کرتا ہے۔

اس لیے جس دن آپ نے “لوگ کیا کہیں گے” کا خوف دل سے نکال دیا، اسی دن آپ آزاد ہو جاؤ گے۔

Leave a Reply

NZ's Corner