ایک شہر میں ایک فقیر روز ایک ہی ATM کے باہر بیٹھتا تھا۔
لوگ آتے، کچھ سکے دیتے، کچھ نوٹ، اور کچھ صرف ترس بھری نظر ڈال کر گزر جاتے۔
ایک دن ایک امیر تاجر وہاں سے گزرا۔ اس نے فقیر کو دیکھا اور جیب سے 1000 روپے نکال کر دے دیے۔
فقیر مسکرایا اور بولا: “اللہ آپ کو اس سے دس گنا زیادہ دے۔”
تاجر ہنس پڑا۔ “بابا! تم خود مانگ رہے ہو اور مجھے دولت کی دعا دے رہے ہو؟”
فقیر نے صرف مسکرا کر سر ہلا دیا۔
چند دن بعد تاجر دوبارہ وہاں سے گزرا۔
اس بار اس نے دیکھا کہ فقیر ATM کے پاس کھڑا ہے اور مشین میں کارڈ ڈال رہا ہے۔
تاجر کی آنکھیں پھٹ گئیں۔
“او بابا! یہ ATM تمہارا ہے کیا؟”
فقیر نے سکون سے کہا: “نہیں، بس اپنا اکاؤنٹ چیک کر رہا ہوں۔”
تاجر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “فقیر کا بھی اکاؤنٹ ہوتا ہے؟”
فقیر بولا: “ہاں، اور کبھی کبھی دل والوں کا بیلنس جیب والوں سے زیادہ ہوتا ہے۔”
تاجر ہنس کر چلا گیا۔
کچھ مہینے بعد تاجر کا کاروبار شدید نقصان میں چلا گیا۔ قرضے بڑھ گئے۔ دوست غائب ہو گئے۔ رشتے داروں نے فون اٹھانا بند کر دیا۔
مایوس ہو کر وہ ایک دن پارک میں بیٹھا رو رہا تھا۔
اچانک کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
اس نے سر اٹھایا تو سامنے وہی فقیر کھڑا تھا۔
فقیر نے ایک لفافہ اس کے ہاتھ میں دیا۔
تاجر نے کھولا تو اندر 50 ہزار روپے تھے۔
وہ حیران رہ گیا۔
“بابا! یہ کیا ہے؟”
فقیر بولا:
“یہ وہ رقم ہے جو میں برسوں سے ضرورت مندوں کے لیے جمع کر رہا تھا۔”
“تم نے مجھے ایک دن 1000 روپے دیے تھے، آج تمہیں اس کی ضرورت مجھ سے زیادہ ہے۔”
تاجر کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اس نے پوچھا: “بابا، آپ آخر ہیں کون؟”
فقیر مسکرایا اور بولا:
“میں فقیر پیسوں کا تھا، تم فقیر دل کے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ میری غربت نظر آتی تھی، تمہاری نہیں۔”
یہ کہہ کر وہ آہستہ آہستہ چل دیا۔
تاجر دیر تک اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔
اس دن اسے سمجھ آیا کہ دولت جیب میں نہیں، نیت میں ہوتی ہے۔
سبق
بعض لوگ خالی جیب کے باوجود امیر ہوتے ہیں، اور بعض بھری جیب کے باوجود محتاج۔
اصل دولت پیسے نہیں، دوسروں کے کام آنے کا جذبہ ہے
