لارنس آف عریبیا۔۔۔!

لارنس آف عریبیا۔۔۔!

لارنس آف عربیہ: سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف برطانوی سازشوں، جاسوسی، دھوکہ دہی، عرب بغاوت اور مسلمانوں کی تاریخ کی سب سے بڑی غداری کی مکمل داستان

مشاہیر عالم میں بعض اوقات نیک نام کے ساتھ بدنام بھی شامل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: “ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام، بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟” انہی بدنام کرداروں میں تھامس ایڈورڈ لارنس، جسے “لارنس آف عربیہ” کہا جاتا ہے، ایک نمایاں مثال ہے۔ وہ ایک انگریز جاسوس تھا جس نے بہروپ بدل کر عربوں اور ترکوں (عثمانی مسلمانوں) کے درمیان نفرت کے بیج بوئے اور بالآخر سلطنتِ عثمانیہ کو پارہ پارہ کر کے چھوڑ دیا۔ یہ داستان نہ صرف تاریخی حقائق پر مبنی ہے بلکہ برطانوی سامراج کی “divide and rule” پالیسی، جھوٹے وعدوں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی سازشوں کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ مضمون لارنس کی زندگی، سازشوں، واقعات، متنازع شخصیت، مقامی روایات اور تمام تجاویز کو شامل کر کے لکھا گیا ہے، جس میں Sykes-Picot معاہدہ کی تفصیلات، فخر الدین پاشا کا مدینہ دفاع اور شریف مکہ حسین بن علی کا کردار بھی شامل ہے۔

سلطنتِ عثمانیہ چھ صدیوں تک اسلامی خلافت کا علمبردار اور مسلمانوں کی آخری امید رہی۔ خلیفہ سلطان کو حجاز، شام، عراق، فلسطین اور دیگر عرب علاقوں کے مسلمان اپنا امیر المومنین مانتے تھے۔ پہلی جنگِ عظیم (1914-1918) میں عثمانی فوجیں گلیلیپولی کی لڑائی میں برطانوی حملوں کو روک کر رکھ دیا، فلسطین اور عراق میں ڈٹ کر مقابلہ کیا اور قفقاز میں روسیوں کو روکا۔ اس مشکل وقت میں برطانوی سامراج نے خفیہ سازشوں کا ایک سلسلہ چلایا، جس کا مرکزی کردار لارنس تھا۔ لارنس نے عرب قبائل کو ورغلا کر بغاوت کروائی، جو مسلمانوں کی تاریخ کی سب سے بڑی غداریوں میں شمار ہوتی ہے۔ نتیجہ: سلطنت کا زوال، عرب علاقوں کی تقسیم، فلسطین پر اسرائیلی قبضہ اور آج تک جاری تنازعات۔

تھامس ایڈورڈ لارنس 16 اگست 1888 کو ویلز کے ٹریماڈاگ میں پیدا ہوا۔ وہ ناجائز اولاد تھا – والد سر تھامس چیپ مین ایک اینگلو آئرش جاگیردار اور والدہ سارہ لارنس ایک گورنیس۔ اس کے 5 بھائی بھی ناجائز تھے۔ خاندان نے “لارنس” نام استعمال کیا اور بچپن میں کئی بار منتقل ہوا۔ 1896 میں آکسفورڈ میں آباد ہوئے جہاں لارنس نے تاریخ پڑھی اور 1910 میں “Crusader قلعوں پر اثرات” تھیسس مکمل کی۔ زمانہ طالب علمی سے صلیبی جنگوں کا شوق تھا، وہ مسلمانوں کو صلیبیوں کا دشمن سمجھتا تھا۔ آثارِ قدیمہ اور قدیم عمارتوں میں دلچسپی تھی۔ 1909-1914 تک مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا، عربی، فارسی، اردو، ہندی اور انگریزی پر عبور حاصل کیا۔ کارکیمش میں برٹش میوزیم کے لیے کھدائی کی۔ 1914 میں سینائی اور نیگیو کا فوجی نقشہ بنایا۔ جنگ شروع ہونے پر قاہرہ میں عرب بیورو میں شامل ہوا۔

لارنس کی شخصیت متنازع تھی۔ قد چھوٹا (5 فٹ 5 انچ)، مگر شیطانی اور مکارانہ دماغ۔ سخت زندگی گزارتا – سبزی خور، شراب اور تمباکو سے پرہیز۔ عربی لباس میں رہنا پسند کرتا۔ اس کی جنسی زندگی متنازع تھی؛ درعہ واقعے (1917) میں ترک فوجیوں نے تشدد اور جنسی زیادتی کی، جس سے صدمہ ہوا اور بعد میں masochistic رجحانات پیدا ہوئے۔ کچھ روایات میں اسے “بدکار” اور “جنسی برائیوں میں ملوث” کہا جاتا ہے۔ وہ consensual تعلقات سے دور رہا۔ کچھ مقامی روایات میں اسے “یہودی النسل” کہا جاتا ہے مگر یہ غلط ہے؛ وہ اینگلو آئرش تھا۔

برطانوی سازشوں کا آغاز مک ماہن-حسین خط و کتابت (1915-1916) سے ہوا۔ سر ہنری مک ماہن نے مکہ کے شریف حسین بن علی کو “آزاد عرب سلطنت” کا جھوٹا وعدہ کیا۔ مگر مئی 1916 میں Sykes-Picot معاہدہ خفیہ طور پر ہو چکا تھا جس میں برطانیہ (مارک سائیکس) اور فرانس (فرانسوا جارج پکوٹ) نے عثمانی عرب علاقوں کو تقسیم کر لیا: شام اور لبنان فرانس کو، عراق اور فلسطین (بشمول بیت المقدس کے علاقے) برطانیہ کو، جبکہ بعض علاقے بین الاقوامی کنٹرول میں رکھے گئے۔ یہ معاہدہ عربوں کی آزادی کے وعدوں کی مکمل تردید تھا اور جنگ کے بعد عرب علاقوں کو مینڈیٹس (کالونیاں) میں تبدیل کرنے کی بنیاد بنا۔ عربوں کو اس معاہدے کی خبر نہ تھی، مگر لارنس اور برطانوی حکام مکمل آگاہ تھے۔ یہ معاہدہ عرب بغاوت کی بنیاد پر دھوکہ دہی کی سب سے بڑی مثال ہے، جس نے عربوں کو آزاد سلطنت کا خواب دکھا کر انہیں تقسیم کر دیا۔

شریف حسین بن علی (شریف مکہ) کا کردار اس غداری کا مرکزی تھا۔ وہ ہاشمی خاندان سے تھا اور مکہ کا امیر تھا۔ عثمانی خلافت کے ماتحت خوشحال تھا مگر برطانوی وعدوں پر یقین کر کے جون 1916 میں بغاوت کا اعلان کیا۔ اس نے اپنے بیٹوں فیصل اور عبداللہ کو قیادت سونپی۔ شریف حسین نے خلافت کے خلاف بغاوت کی، جو مسلمانوں کے لیے امیر المومنین کی حیثیت رکھتی تھی۔ اسے اقتدار کا لالچ دیا گیا کہ وہ عربوں کا بادشاہ بنے گا۔ مگر Sykes-Picot اور Balfour Declaration سے اس کا خواب چکنا چور ہوا۔ جنگ کے بعد وہ حجاز کا بادشاہ بنا مگر 1924-1925 میں عبدالعزیز ابن سعود نے اسے شکست دی اور حجاز سے نکال دیا۔ اس کی بغاوت نے عثمانی خلافت کو پیچھے سے وار کیا جبکہ سلطنت برطانوی اور روسی حملوں سے لڑ رہی تھی۔ ترک مورخین اسے “خلافت کی غداری” کہتے ہیں۔

عرب بغاوت 10 جون 1916 کو مکہ میں شروع ہوئی۔ لارنس اکتوبر 1916 میں جدہ پہنچا، فیصل کو قائد بنایا۔ حکمت عملی: حجاز ریلوے لائن کو دھماکوں سے تباہ کر ترک اور عرب کا رابطہ منقطع کیا۔ شریف حسین کو اقتدار کا لالچ دے کر بغاوت پر اکسایا۔ “Divide and rule” کامیاب ہوئی، بعد میں تاج عبدالعزیز (ابن سعود) کو ملا اور آل سعود میں منتقل ہوا۔ بلقان جنگوں اور WWI میں عثمانی کمزور ہوئے، جرمنی کا ساتھ دینے سے یورپ نے ٹوٹ پڑا۔

فخر الدین پاشا (فاخری پاشا) کا مدینہ دفاع اس غداری کے مقابلے میں عثمانی بہادری کی عظیم مثال ہے۔ مئی 1916 میں مدینہ کے محافظ مقرر ہوئے۔ بغاوت شروع ہونے پر حجاز ریلوے منقطع ہو گئی، سپلائی لائنیں کاٹ دی گئیں، فوج بھوک اور بیماری سے لڑتی رہی۔ پاشا نے مدینہ کو “مقدس امانت” قرار دیا اور 2 سال 7 ماہ (جون 1916 تا جنوری 1919) تک دفاع کیا۔ مقدس آثار اور مخطوطات کو استنبول بھیج دیا تاکہ محفوظ رہیں۔ جنگ بندی (Armistice of Mudros، اکتوبر 1918) کے بعد بھی ہتھیار نہ ڈالے، صرف استنبول سے سلطان کے حکم پر جنوری 1919 میں ہتھیار ڈالے۔ برطانوی اور عرب مخالفین نے اسے “صحرا کا شیر” اور “صحرا کا ٹائیگر” کا لقب دیا۔ یہ دفاع عثمانی فوج کی وفاداری اور خلافت کی حفاظت کی علامت ہے جبکہ عرب بغاوت نے پیچھے سے وار کیا۔

اہم واقعات: عقبہ کی فتح (1917)، درعہ گرفتاری اور تشدد، تفیلہ لڑائی، تفاس قتل عام (لارنس نے بدلہ میں قیدیوں کا قتل کروایا)، دمشق داخلہ (1918)۔ عثمانی فوج میں 30% عرب وفادار رہے۔ لارنس نے قبائلی سرداروں کو سونا اور ہتھیار دیے۔ 47,000+ عثمانی فوجی حجاز میں پھنسے۔

لارنس نے عربوں میں خود کو “سچا مسلمان” ظاہر کیا، قرآن، حدیث، فقہ سیکھی، نماز، امامت اور مدرسہ میں شرکت کی تاکہ مبلغ اور پیر کی طرح مقبول ہو۔ مگر یہ جاسوسی تھی۔

کچھ پاکستانی روایات میں لارنس کو لاہور کی انارکلی میں “پیر” کہا جاتا ہے جہاں لنگر خانہ کھولا، خوش الحانی سے تلاوت کی، زائرین کا تانتا بندھا۔ کشمیری بیوی سے شادی کی، جو کرنل نیڈو (عبداللہ) کی بیٹی تھی۔ وہ پول کھول گئی کہ لارنس جاسوس ہے۔ نیڈو نے رستم زمانہ گاما پہلوان سے الٹا لٹکوا کر طلاق دلوائی۔ یہ کہانی مشہور ہے مگر معتبر ذرائع میں ثبوت نہیں۔ لارنس RAF میں 1926-1928 کراچی اور میرام شاہ میں تھا۔

جنگ کے بعد پیرس کانفرنس میں ناکام۔ RAF میں شامل ہوا۔ 13 مئی 1935 کو موٹرسائیکل حادثے میں مر گیا۔ 1962 کی فلم “Lawrence of Arabia” نے لارنس کو ہیرو بنایا مگر یہ پروپیگنڈہ تھا۔ حقیقت میں وہ مسلمان دشمن جاسوس تھا جس نے سلطنت کو پارہ پارہ کیا۔

لارنس سازشی تھا جس نے امت میں تفرقہ ڈالا۔ اگر عرب وفادار رہتے تو خلافت بچ جاتی۔ یہ داستان اتحاد کی اہمیت سکھاتی ہے۔ اللہ مسلمانوں کو بصیرت اور وحدت عطا فرمائے۔

عجیب و غریب تاریخ

Leave a Reply

NZ's Corner